الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: شکار کے احکام و مسائل
The Book on Hunting
11. باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ كُلِّ ذِي نَابٍ وَذِي مِخْلَبٍ
11. باب: ہر کیچلی دانت والے درندے اور پنجہ والے پرندے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1477
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا احمد بن الحسن , حدثنا عبد الله بن مسلمة , عن مالك بن انس , عن ابن شهاب , عن ابي إدريس الخولاني، عن ابي ثعلبة الخشني، قال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كل ذي ناب من السباع " , حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي , وغير واحد , قالوا: حدثنا سفيان بن عيينة , عن الزهري، عن ابي إدريس الخولاني نحوه , قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح , وابو إدريس الخولاني اسمه: عائذ الله بن عبد الله.(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ " , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَأَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُهُ: عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی دانت والے درندے سے منع فرمایا ۱؎۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/ /الصید 29 (5530)، والطب 57 (5780)، صحیح مسلم/الصید 3 (1932)، والأطعمة 33 (1932)، سنن ابی داود/ الأطعمة 33 (2802)، سنن النسائی/الصید 28 (4335)، و 30 (4343)، سنن ابن ماجہ/الصید 13 (3232)، (تحفة الأشراف: 11874)، و مسند احمد (4/193) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دانت (یعنی کچلیوں) سے شکار اور چیر پھاڑ کرنے والے جانور مثلاً شیر، چیتا، بھیڑیا، ہاتھی، اور بندر وغیرہ یہ سب حرام ہیں، اسی طرح ان کے کیے ہوئے شکار اگر مر گئے ہوں تو ان کا کھانا جائز نہیں۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3232)

   صحيح البخاري5527جرثوم بن ناشملحوم الحمر الأهلية
   صحيح البخاري5781جرثوم بن ناشمعن أكل كل ذي ناب من السباع
   صحيح البخاري5530جرثوم بن ناشمأكل كل ذي ناب من السباع
   صحيح مسلم4988جرثوم بن ناشمأكل كل ذي ناب من السبع
   صحيح مسلم5007جرثوم بن ناشمحرم رسول الله لحوم الحمر الأهلية
   صحيح مسلم4989جرثوم بن ناشمعن أكل كل ذي ناب من السباع
   صحيح مسلم4990جرثوم بن ناشمأكل كل ذي ناب من السباع
   جامع الترمذي1477جرثوم بن ناشمكل ذي ناب من السباع
   سنن أبي داود3802جرثوم بن ناشمنهى عن أكل كل ذي ناب من السبع
   سنن النسائى الصغرى4347جرثوم بن ناشمنهى عن أكل كل ذي ناب من السباع عن لحوم الحمر الأهلية
   سنن النسائى الصغرى4346جرثوم بن ناشملحوم الحمر الإنس
   سنن النسائى الصغرى4330جرثوم بن ناشمنهى عن أكل كل ذي ناب من السباع
   سنن ابن ماجه3232جرثوم بن ناشمنهى عن أكل كل ذي ناب من السباع
   المعجم الصغير للطبراني170جرثوم بن ناشملحوم حمر الإنس لا تحل حرمها رسول الله من أكل من هذه الشجرة الخبيثة فلا يقربنا في مسجدنا
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم402جرثوم بن ناشم نهى عن اكل كل ذي ناب من السباع
   مسندالحميدي899جرثوم بن ناشمأن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن أكل ذي ناب من السبع

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 402  
´ کتا، بلی، شیر، چیتا، بھیڑیا، لگڑبھگا، بچھو، لومڑی، بندر اور تمام درندے حرام ہیں`
«. . . عن ابى ثعلبة الخشني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن اكل كل ذي ناب من السباع . . .»
. . . سیدنا ابوثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے تمام درندوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 402]

تخریج الحدیث:
[و اخرجه البخاري 5530، و مسلم 1932/14، من حديث مالك به]

تفقہ
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتا، بلی، شیر، چیتا، بھیڑیا، لگڑبھگا، بچھو، لومڑی، بندر اور تمام درندے حرام ہیں۔ یہاں پر ممانعت ممانعت تحریم ہے جیسا کہ روایت یحییٰ بن یحییٰ اور حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔ دیکھئے: [ح113]
➋ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کے بارے میں امام مالک فرماتے ہیں «وهو الامر عندنا» اور ہمارے ہاں اسی پر عمل ہے۔ [المؤطآ 496/2] نيز ديكهئے: آنے والي حديث [113]
➌ اس حدیث کی رو سے ضبع (لگڑبھگے، بجو) کی حلت والی روایت منسوخ ہے۔
➍ ایک روایت میں آیا ہے کہ «نَهَى رَسُوْلُ اللهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ جُلُوْدِ السِّبَاعِ أَنْ تُفْرَشَ» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالیں بچھانے سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي 1/21 وسنده حسن]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالیں پہننے اور ان پر سواری کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داؤد: 4131 مطولاً وسنده حسن]
اس سے معلوم ہوا کہ بعض الناس کا یہ قول کہ کتے کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے اور اس کی جائے نماز اور ڈول بنانا درست ہے۔ غلط ہے اور یہ قول اس حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
➎ ہاتھی بھی ذوناب ہونے کی وجہ سے حرام ہے جیسا کہ حدیث [52] کے تحت گزر چکا ہے۔
➏ حدیث قرآن کی تشریح، بیان اور تفسیر ہے۔
➐ خاص دلیل کے مقابلے میں عام دلیل پیش کرنا غلط ہے۔
➑ عام کی تخصیص دلیل کے ساتھ جائز ہے۔
➒ حدیث حجت ہے۔
➓ حدیث کا انکار کرنے والا منکر حدیث ہے، چاہے وہ اپنے آپ کو اہل قرآن اور پکا مسلم وغیرہ کیوں نہ کہتا رہے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 76   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3232  
´کچلیوں والے درندوں کو کھانا حرام ہے۔`
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی (نوک دار دانت) والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ زہری کہتے ہیں کہ شام جانے سے پہلے میں نے یہ حدیث نہیں سنی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3232]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  کچلی نو کیلے تیز دانت کو کہتے ہیں۔
انسانوں میں یہ دانت سامنے کے چار دانتوں کے بعد اور ڈاڑھوں سے پہلے ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف ہوتا ہے اوپر بھی اور نیچے بھی۔
چرندوں میں یہ دانت نہیں ہوتے۔

(2)
درندوں میں یہ دانت دوسرے دانتوں کی نسبت واضح طور پر بڑے لمبے ہوتے ہیں جیسے کتے اور بلی وغیرہ میں۔

(3)
ان دانتوں (کچلیوں)
کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ یہ جانور درندوں کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے خواہ وہ عملی طور پر شکار نہ کرتا ہو یا بہت کم کرتا ہو۔

(4)
ممکن ہے کہ کوئی حدیث صحیح ہونے کے باوجود ایک امام کو معلوم نہ ہو اس صورت میں اس کےلیے اجتہاد کرنا درست ہے۔
بعد میں اگر معلوم ہو جائے کہ یہ اجتہاد درست نہ تھا تو امام کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا تاہم بعد والوں کے لیے اس اجتہاد پر عمل کرنا جائز نہیں ہو گا۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3232   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1477  
´ہر کیچلی دانت والے درندے اور پنجہ والے پرندے کی حرمت کا بیان۔`
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی دانت والے درندے سے منع فرمایا ۱؎۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1477]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دانت (یعنی کچلیوں) سے شکار اور چیر پھاڑ کرنے والے جانور مثلاً شیر،
چیتا،
بھیڑیا،
ہاتھی،
اور بندر وغیرہ یہ سب حرام ہیں،
اسی طرح ان کے کیے ہوئے شکار اگر مرگئے ہوں تو ان کا کھانا جائز نہیں۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1477   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.