الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: شکار کے احکام و مسائل
The Book on Hunting
14. باب مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْوَزَغِ
14. باب: چھپکلی مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1482
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع , عن سفيان , عن سهيل بن ابي صالح , عن ابيه , عن ابي هريرة , ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " من قتل وزغة بالضربة الاولى , كان له كذا وكذا حسنة , فإن قتلها في الضربة الثانية , كان له كذا وكذا حسنة , فإن قتلها في الضربة الثالثة , كان له كذا وكذا حسنة " , قال: وفي الباب , عن ابن مسعود , وسعد، وعائشة، وام شريك , قال ابو عيسى: حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح.(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً بِالضَّرْبَةِ الْأُولَى , كَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً , فَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ , كَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً , فَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ , كَانَ لَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَسَعْدٍ، وَعَائِشَةَ، وَأُمِّ شَرِيكٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چھپکلی ۱؎ کو پہلی چوٹ میں مارے گا اس کو اتنا ثواب ہو گا، اگر اس کو دوسری چوٹ میں مارے گا تو اس کو اتنا ثواب ہو گا اور اگر اس کو تیسری چوٹ میں مارے گا تو اس کو اتنا ثواب ہو گا ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن مسعود، سعد، عائشہ اور ام شریک سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/السلام 38 (الحیؤن2) (2240)، سنن ابی داود/ الأدب 175 (5263)، سنن ابن ماجہ/الصید 12 (3228)، (تحفة الأشراف: 12661)، و مسند احمد (2/355) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: ہندوستان میں لوگ گرگٹ کو غلط طور پر وزع سمجھ کر اس کو مانا ثواب کا کام سمجھتے ہیں جب کہ وہ عام طور پر جنگل جھاڑی میں رہتا ہے اور چھپکلی اپنی ضرر رسانیوں کے ساتھ گھروں میں پائی جاتی ہے، اس لیے اس کا مارنا موذی کو مارنا ہے جس کے مارنے کا ثواب بھی ہے۔
۲؎: صحیح مسلم میں ہے کہ پہلی چوٹ میں مارنے پر سو اور دوسری میں اس سے کم اور تیسری میں اس سے بھی کم نیکیاں ملیں گی، امام نووی کہتے ہی: پہلی چوٹ میں نیکیوں کی کثرت کا سبب یہ ہے تاکہ لوگ اسے مارنے میں پہل کریں اور اسے مار کر مذکورہ ثواب کے مستحق ہوں۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

   صحيح مسلم5846عبد الرحمن بن صخرمن قتل وزغة في أول ضربة فله كذا وكذا حسنة ومن قتلها في الضربة الثانية فله كذا وكذا حسنة لدون الأولى وإن قتلها في الضربة الثالثة فله كذا وكذا حسنة لدون الثانية
   جامع الترمذي1482عبد الرحمن بن صخرمن قتل وزغة بالضربة الأولى كان له كذا وكذا حسنة فإن قتلها في الضربة الثانية كان له كذا وكذا حسنة فإن قتلها في الضربة الثالثة كان له كذا وكذا حسنة
   سنن أبي داود5264عبد الرحمن بن صخرفي أول ضربة سبعين حسنة
   سنن أبي داود5263عبد الرحمن بن صخرمن قتل وزغة في أول ضربة فله كذا وكذا حسنة ومن قتلها في الضربة الثانية فله كذا وكذا حسنة أدنى من الأولى ومن قتلها في الضربة الثالثة فله كذا وكذا حسنة أدنى من الثانية
   سنن ابن ماجه3229عبد الرحمن بن صخرمن قتل وزغا في أول ضربة فله كذا وكذا حسنة ومن قتلها في الثانية فله كذا وكذا أدنى من الأولى ومن قتلها في الضربة الثالثة فله كذا وكذا حسنة أدنى من الذي ذكره في المرة الثانية

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3229  
´چھپکلی مارنے کا حکم۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چھپکلی ایک ہی وار میں مار ڈالے تو اس کے لیے اتنی اور اتنی نیکیاں ہیں، اور جس نے دوسرے وار میں ماری تو اس کے لیے اتنی اور اتنی (پہلے سے کم) نیکیاں ہیں، اور جس نے تیسرے وار میں ماری تو اس کے لیے اتنی اور اتنی (دوسرے سے کم) ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3229]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
پہلی ضرب میں مار ڈالنے کا ثواب اس لیے زیادہ ہے کہ قتل کرنے میں بھی بہتر طریقہ اختیار کرنے کا حکم ہے جس سے جانور کی جان جلد نکل جائے۔
یہ قتل میں رحم دلی کا اظہار ہےاور اس لیے بھی کہ ایک ضرب سے مارنے سے حکم کی تعمیل کا جذبہ اور قوت ظاہر ہوتی ہے جو مستحسن ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3229   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1482  
´چھپکلی مارنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چھپکلی ۱؎ کو پہلی چوٹ میں مارے گا اس کو اتنا ثواب ہو گا، اگر اس کو دوسری چوٹ میں مارے گا تو اس کو اتنا ثواب ہو گا اور اگر اس کو تیسری چوٹ میں مارے گا تو اس کو اتنا ثواب ہو گا ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1482]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ہندوستان میں لوگ گرگٹ کو غلط طورپر وزع سمجھ کر اس کو مارنا ثواب کا کام سمجھتے ہیں جب کہ وہ عام طورپر جنگل جھاڑی میں رہتا ہے اورچھپکلی اپنی ضرررسانیوں کے ساتھ گھروں میں پائی جاتی ہے،
اس لیے اس کا مارنا موذی کومارنا ہے جس کے مارنے کا ثواب بھی ہے۔

2؎:
صحیح مسلم میں ہے کہ پہلی چوٹ میں مارنے پر سو اور دوسری میں اس سے کم اور تیسری میں اس سے بھی کم نیکیاں ملیں گی،
امام نووی کہتے ہیں:
پہلی چوٹ میں نیکیوں کی کثرت کا سبب یہ ہے تاکہ لوگ اسے مارنے میں پہل کریں اور اسے مارکر مذکورہ ثواب کے مستحق ہوں۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1482   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5264  
´چھپکلی مارنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے وار میں ستر نیکیاں ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5264]
فوائد ومسائل:
۔
۔
۔
۔
چھپکلی۔
۔
۔
۔
(جو کہ گھروں جنگلوں میں ہوتی ہے اور گرگٹ اس سے بڑاہوتاہے) کے متعلق آتا ہے کہ یہ حضرت ابراہیم ؑپر آگ پھونکنے میں شریک تھے اور ویسے بھی یہ بڑا زہریلا جانورہے، اس لیے ہمیں اس کو قتل کرنے کا حکم ہے اور چاہیے کہ مسلمان جرات مند اور کامل نشانے والا ہو۔
اسی لئے مذکورہ ثواب کا بیان ہوا ہے، بعض روایات میں ہے کہ پہلی چوٹ میں مار دینے سے سو نیکیاں ملتی ہیں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 5264   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.