سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: نماز خوف کے احکام و مسائل
The Book of the Fear Prayer
1. بَابُ :
1. باب:
Chapter: The narrations mentioned for the Fear Prayer
حدیث نمبر: 1547
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا احمد بن المقدام، قال: حدثنا يزيد بن زريع، قال: حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، قال: انباني يزيد الفقير، انه سمع جابر بن عبد الله، قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقيمت الصلاة:" فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وقامت خلفه طائفة وطائفة مواجهة العدو، فصلى بالذين خلفه ركعة وسجد بهم سجدتين ثم إنهم انطلقوا فقاموا مقام اولئك الذين كانوا في وجه العدو، وجاءت تلك الطائفة فصلى بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعة وسجد بهم سجدتين، ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم سلم فسلم الذين خلفه وسلم اولئك".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، قال: أَنْبَأَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ:" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتْ خَلْفَهُ طَائِفَةٌ وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا فِي وَجْهِ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتْ تِلْكَ الطَّائِفَةُ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فَسَلَّمَ الَّذِينَ خَلْفَهُ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم (ایک غزوہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے (نماز کا وقت ہوا) تو نماز کھڑی کی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور آپ کے پیچھے ایک گروہ کھڑا ہوا، اور ایک گروہ دشمن کے مقابل کھڑا رہا، آپ نے ان لوگوں کے ساتھ جو آپ کے پیچھے تھے ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر وہ چلے گئے، اور ان لوگوں کی جگہ آ کر کھڑے ہو گئے جو دشمن کے بالمقابل تھے، اور وہ گروہ آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ بھی ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو آپ کے پیچھے والوں نے بھی سلام پھیرا، اور ان لوگوں نے بھی۔

تخریج الحدیث: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»

قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

   صحيح البخاري4129جابر بن عبد اللهصلى صلاة الخوف أن طائفة صفت معه وطائفة وجاه العدو فصلى بالتي معه ركعة ثم ثبت قائما وأتموا لأنفسهم ثم انصرفوا فصفوا وجاه العدو وجاءت الطائفة الأخرى فصلى بهم الركعة التي بقيت من صلاته ثم ثبت جالسا وأتموا لأنفسهم ثم سلم بهم
   صحيح مسلم1950جابر بن عبد اللهصلى رسول الله بإحدى الطائفتين ركعتين ثم صلى بالطائفة الأخرى ركعتين فصلى رسول الله أربع ركعات وصلى بكل طائفة ركعتين
   صحيح مسلم1946جابر بن عبد اللهكبر رسول الله وكبرنا وركع فركعنا ثم سجد وسجد معه الصف الأول فلما قاموا سجد الصف الثاني ثم تأخر الصف الأول وتقدم الصف الثاني فقاموا مقام الأول فكبر رسول الله وكبرنا وركع فركعنا ثم سجد معه الصف الأول وقام الثاني فلما س
   صحيح مسلم1945جابر بن عبد اللهشهدت مع رسول الله صلاة الخوف فصفنا صفين صف خلف رسول الله والعدو بيننا وبين القبلة فكبر النبيوكبرنا جميعا ثم ركع وركعنا جميعا ثم رفع رأسه من الركوع ورفعنا جميعا ثم انحدر بالسجود والصف الذي يليه وقام
   سنن النسائى الصغرى1555جابر بن عبد اللهصلى بأصحابه صلاة الخوف فصلت طائفة معه وطائفة وجوههم قبل العدو فصلى بهم ركعتين ثم قاموا مقام الآخرين وجاء الآخرون فصلى بهم ركعتين ثم سلم
   سنن النسائى الصغرى1549جابر بن عبد اللهكبر رسول الله فكبروا جميعا ثم ركع فركعوا جميعا ثم سجد النبي والصف الذي يليه والآخرون قيام يحرسونهم فلما قاموا سجد الآخرون مكانهم الذي كانوا فيه ثم تقدم هؤلاء إلى مصاف هؤلاء فركع فركعوا جميعا ثم رفع فرفعوا جميعا ثم سج
   سنن النسائى الصغرى1546جابر بن عبد اللهصلى بهم صلاة الخوف فقام صف بين يديه وصف خلفه صلى بالذين خلفه ركعة وسجدتين ثم تقدم هؤلاء حتى قاموا في مقام أصحابهم وجاء أولئك فقاموا مقام هؤلاء وصلى بهم رسول الله ركعة وسجدتين ثم سلم فكانت للنبي ركعتان ولهم ركعة
   سنن النسائى الصغرى1553جابر بن عبد اللهصلى بطائفة من أصحابه ركعتين ثم سلم ثم صلى بآخرين أيضا ركعتين ثم سلم
   سنن النسائى الصغرى1548جابر بن عبد اللهكبر رسول الله وكبرنا وركع وركعنا ورفع ورفعنا فلما انحدر للسجود سجد رسول الله والذين يلونه وقام الصف الثاني حين رفع رسول الله والصف الذين يلونه ثم سجد الصف الثاني حين رفع رسول الله صلى الله عليه وسل
   سنن النسائى الصغرى1547جابر بن عبد اللهصلى بالذين خلفه ركعة وسجد بهم سجدتين ثم إنهم انطلقوا فقاموا مقام أولئك الذين كانوا في وجه العدو وجاءت تلك الطائفة فصلى بهم رسول الله ركعة وسجد بهم سجدتين ثم إن رسول
   سنن ابن ماجه1260جابر بن عبد اللهصلى بأصحابه صلاة الخوف فركع بهم جميعا ثم سجد رسول الله والصف الذين يلونه والآخرون قيام حتى إذا نهض سجد أولئك بأنفسهم سجدتين ثم تأخر الصف المقدم حتى قاموا مقام أولئك وتخلل أولئك حتى قاموا مقام الصف المقدم فركع بهم النبي
   بلوغ المرام381جابر بن عبد الله صلاة الخوف فصفنا صفين

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 381  
´نماز خوف کا بیان`
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف میں حاضر تھا۔ ہم نے دو صفیں بنائیں ایک صف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہوئی جبکہ دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اور ہم سب نے بھی اللہ اکبر کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اوپر اٹھایا اور ہم سب نے بھی اپنے سر اٹھائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والی صف بھی اور دوسری صف دشمن کے مقابلے کیلئے کھڑی رہی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ پورا کر لیا تو وہ صف جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھی کھڑی ہو گئی۔ پھر راوی نے ساری حدیث بیان کی۔ ایک روایت میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا اور جب وہ سب کھڑے ہو گئے تو دوسری صف سجدے میں چلی گئی اور پہلی صف پیچھے ہٹ گئی اور دوسری صف آگے آ گئی اور پہلے کی طرح ہی ذکر کیا اور آخر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور ہم سب نے بھی سلام پھیر دیا (مسلم) اور ابوداؤد نے ابو عیاش زرقی سے اس طرح روایت نقل کی ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ عسفان مقام پر (ادا کی گئی) تھی۔ اور نسائی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا پھر ایک دوسرے گروہ کو اسی طرح دو رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ ابوداؤد میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی ایک روایت ہے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 381»
تخریج:
«أخرجه مسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الخوف، حديث:840، وحديث أبي عياش الزرقي أخرجه أبوداود، صلاة السفر، حديث:1236 وسنده صحيح،وحديث جابر أخرجه النسائي، صلاة الخوف، حديث:1553 وهو حديث صحيح، وحديث أبي بكرة أخرجه أبوداود، صلاة السفر، حديث:1248 وهو حديث صحيح.»
تشریح:
اس حدیث میں نماز خوف کی ایک اور صورت ہے۔
ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ نماز خوف مختلف طریقوں سے پڑھی گئی ہے۔
سنن نسائی میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں جماعتوں کو الگ الگ دو دو رکعتیں پڑھائیں۔
اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں۔
تو گویا آپ نے دو تو فرض پڑھے اور دو نفل ادا کیے کیونکہ دو مرتبہ دو دو فرض تو نہیں ہوتے۔
اس سے یہ معلوم ہوا کہ نفل پڑھنے والے امام کے پیچھے مقتدی فرض پڑھ سکتے ہیں۔
احناف نے اس مقام پر انصاف سے کام نہیں لیا۔
چاہیے تو یہ تھا کہ قیاس کو چھوڑ کر حدیث صحیح کی اتباع کرتے لیکن ہوا یوں کہ امام طحاوی رحمہ اللہ جیسے صاحب علم و فضل نے تو الٹا اس حدیث کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کر دیا‘ حالانکہ اس کے منسوخ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت ابوعیاش زُرَقی رضی اللہ عنہ» ‏‏‏‏ ان کا نام زید بن ثابت ہے۔
انصاری زرقی مشہور ہیں۔
زرقی کے زا پر ضمہ اور را پر فتحہ ہے۔
ان سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔
۴۰ ہجری کے بعد وفات پائی۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 381   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.