الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
Chapters: Regarding Funerals
64. بَابُ : مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
64. باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان۔
حدیث نمبر: 1623
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا يونس بن محمد ، حدثنا ليث بن سعد ، عن يزيد بن ابي حبيب ، عن موسى بن سرجس ، عن القاسم بن محمد ، عن عائشة ، قالت: رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يموت وعنده قدح فيه ماء، فيدخل يده في القدح، ثم يمسح وجهه بالماء، ثم يقول:" اللهم اعني على سكرات الموت".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت کے وقت دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ اپنا ہاتھ پیالہ میں داخل کرتے، اور پانی اپنے منہ پر ملتے، پھر فرماتے: اے اللہ! موت کی سختیوں میں میری مدد فرما۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الجنائز 8 (978)، (تحفة الأشراف: 17556)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/64، 70، 77، 151) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں موسی بن سرجس مستور ہیں)

It was narrated that ‘Aishah said: “I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was dying, and there was a bowl of water next to him. He put his hand in the vessel and wiped his face with the water, and said: ‘O Allah, help me to bear the agonies of death.’”
USC-MSA web (English) Reference: 0


قال الشيخ الألباني: ضعيف

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

   جامع الترمذي978عائشة بنت عبد اللهاللهم أعني على غمرات الموت وسكرات الموت
   سنن ابن ماجه1623عائشة بنت عبد اللهاللهم أعني على سكرات الموت

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1623  
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت کے وقت دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ اپنا ہاتھ پیالہ میں داخل کرتے، اور پانی اپنے منہ پر ملتے، پھر فرماتے: اے اللہ! موت کی سختیوں میں میری مدد فرما۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1623]
اردو حاشہ:
فائدہ:
یہی واقعہ صحیح بخاری میں بھی ہے۔
اس میں یہ الفاظ ہیں۔ (لَاإِلٰهَ إِلاَّ اللهَ إِنَّ لَلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ)
 اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں یقیناً موت کی سختیاں ہوتی ہیں۔ (صحیح البخاري، المغازي، باب مرض النبي ﷺ ووفاته،  حدیث: 4449)

(2)
رسول ا للہ ﷺ نے زندگی کے آخری وقت میں چہرے پر پانی والا ہاتھ پھیرا اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو آخری ایام میں سخت بخارتھا۔
اس لئے وفات سے چار دن پہلے (جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات)
عشاء کے وقت نبی کریم ﷺ نے غسل فرمایا تھا تاکہ بخار کی شدت کم ہوتو نماز باجماعت ادا فرمایئں لیکن ضعف کی شدت کی وجہ سے مسجد میں تشریف نہ لے جا سکے۔

(3)
نبی اکرم ﷺ نے آخری وقت میں بھی اللہ کی طرف توجہ فرمائی اور اسی کا ذکر فرمایا اس لئے مسلمان کو چاہیے کہ سخت سے سخت حالات میں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف توجہ کرے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1623   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 978  
´موت کے وقت کی سختی کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سکرات کے عالم میں تھے، آپ کے پاس ایک پیالہ تھا، جس میں پانی تھا، آپ پیالے میں اپنا ہاتھ ڈالتے پھر اپنے چہرے پر ملتے اور فرماتے: «اللهم أعني على غمرات الموت أو سكرات الموت» اے اللہ! سکرات الموت میں میری مدد فرما۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 978]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں موسیٰ بن سرجس مجہول الحال راوی ہیں)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 978   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.