الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
The Book on Drinks
8. باب مَا جَاءَ فِي الْحُبُوبِ الَّتِي يُتَّخَذُ مِنْهَا الْخَمْرُ
8. باب: ان غلوں اور پھلوں کا بیان جن سے شراب بنائی جاتی ہے۔
Chapter: ….
حدیث نمبر: 1872
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا إسرائيل، حدثنا إبراهيم بن مهاجر، عن عامر الشعبي، عن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن من الحنطة خمرا ومن الشعير خمرا ومن التمر خمرا ومن الزبيب خمرا ومن العسل خمرا "، قال: وفي الباب عن ابي هريرة، قال ابو عيسى: هذا حديث غريب،(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ،
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گیہوں، جو، کھجور، کشمش، اور شہد سے شراب بنائی جاتی ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ سے بھی حدیث مروی ہے۔
فائدہ ۱؎: یعنی اگر ان چیزوں میں نشہ پیدا ہو جائے تو وہ شراب ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الأشربة 4 (3676)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 5 (3379)، (تحفة الأشراف: 11626) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3379)

   جامع الترمذي1872من الحنطة خمرا ومن الشعير خمرا ومن التمر خمرا ومن الزبيب خمرا ومن العسل خمرا
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1872 کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1872  
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
یعنی اگران چیزوں میں نشہ پیداہوجائے تو وہ شراب ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1872   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.