سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
Chapters on Righteousness And Maintaining Good Relations With Relatives
80. باب مَا جَاءَ فِي الْعِيِّ
80. باب: کم گوئی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2027
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، عن ابي غسان محمد بن مطرف، عن حسان بن عطية، عن ابي امامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " الحياء والعي شعبتان من الإيمان، والبذاء والبيان شعبتان من النفاق "، قال ابو عيسى: هذا حديث حسن غريب، إنما نعرفه من حديث ابي غسان محمد بن مطرف، قال: والعي: قلة الكلام، والبذاء: هو الفحش في الكلام، والبيان: هو كثرة الكلام مثل هؤلاء الخطباء الذين يخطبون فيوسعون في الكلام ويتفصحون فيه من مدح الناس فيما لا يرضي الله.(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، قَالَ: وَالْعِيُّ: قِلَّةُ الْكَلَامِ، وَالْبَذَاءُ: هُوَ الْفُحْشُ فِي الْكَلَامِ، وَالْبَيَانُ: هُوَ كَثْرَةُ الْكَلَامِ مِثْلُ هَؤُلَاءِ الْخُطَبَاءِ الَّذِينَ يَخْطُبُونَ فَيُوَسِّعُونَ فِي الْكَلَامِ وَيَتَفَصَّحُونَ فِيهِ مِنْ مَدْحِ النَّاسِ فِيمَا لَا يُرْضِي اللَّهَ.
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیاء اور کم گوئی ایمان کی دو شاخیں ہیں، جب کہ فحش کلامی اور کثرت کلام نفاق کی دو شاخیں ہیں ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب، ہم اسے صرف ابوغسان محمد بن مطرف ہی کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- «عي» کا معنی کم گوئی اور «بذاء» کا معنی فحش گوئی ہے، «بيان» کا معنی کثرت کلام ہے، مثلا وہ مقررین جو لمبی تقریریں کرتے ہیں اور لوگوں کی تعریف میں ایسی فصاحت بگھاڑتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں ہے۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (4855)، وانظر: مسند احمد (5/269) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: یعنی: حیاء اور کم گوئی کے سبب انسان بہت سے گناہوں سے بچ جاتا ہے، یہ دونوں خصلتیں انسان کو بہت سے گناہوں کے ارتکاب سے روک دیتی ہیں، جب کہ بک بک کرتے رہنے سے انسان جھوٹ گوئی کا بھی ارتکاب کر بیٹھتا ہے، اور جو دل میں ہو اس کے خلاف بھی بول پڑتا ہے، یہی نفاق ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح إيمان ابن أبى شيبة (118)، المشكاة (4796 / التحقيق الثانى)

   جامع الترمذي2027صدي بن عجلانالحياء العي شعبتان من الإيمان البذاء البيان شعبتان من النفاق

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2027  
´کم گوئی کا بیان۔`
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیاء اور کم گوئی ایمان کی دو شاخیں ہیں، جب کہ فحش کلامی اور کثرت کلام نفاق کی دو شاخیں ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 2027]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی:
حیاء اور کم گوئی کے سبب انسان بہت سے گناہوں سے بچ جاتاہے،
یہ دونوں خصلتیں انسان کو بہت سے گناہوں کے ارتکاب سے روک دیتی ہیں،
جب کہ بک بک کرتے رہنے سے انسان جھوٹ گوئی کا بھی ارتکاب کربیٹھتاہے،
اور جودل میں ہو اس کے خلاف بھی بول پڑتاہے،
یہی نفاق ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2027   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.