الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
Chapters on Righteousness And Maintaining Good Relations With Relatives
78. باب مَا جَاءَ فِي ذِي الْوَجْهَيْنِ
78. باب: دو رخے شخص کا بیان۔
حدیث نمبر: 2025
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن من شر الناس عند الله يوم القيامة ذا الوجهين "، قال ابو عيسى: وفي الباب عن انس، وعمار، وهذا حديث حسن صحيح.(مرفوع) حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَعَمَّارٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کی نظر میں دو رخے شخص سے بدتر کوئی نہیں ہو گا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں انس اور عمار رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/المناقب 1 (3494)، والأدب 52 (6058)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 48 (2526)، سنن ابی داود/ الأدب 39 (4872) (تحفة الأشراف: 12538)، و مسند احمد (2/455) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: دو رخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے یہ یقین دلائے کہ تمہارا خیرخواہ اور ساتھی ہوں اور دوسرے کا مخالف ہوں، لیکن جب دوسرے گروہ کے پاس جائے تو اسے بھی اسی طرح کا تاثر دے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح صحيح الجامع (2226)

   صحيح البخاري6058عبد الرحمن بن صخرتجد من شر الناس يوم القيامة عند الله ذا الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه
   صحيح البخاري7179عبد الرحمن بن صخرشر الناس ذو الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه
   صحيح مسلم6632عبد الرحمن بن صخرتجدون من شر الناس ذا الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه
   صحيح مسلم6632عبد الرحمن بن صخرشر الناس ذو الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه
   صحيح مسلم6631عبد الرحمن بن صخرشر الناس ذا الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه
   جامع الترمذي2025عبد الرحمن بن صخرشر الناس عند الله يوم القيامة ذا الوجهين
   سنن أبي داود4872عبد الرحمن بن صخرشر الناس ذو الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه
   مسندالحميدي1074عبد الرحمن بن صخرالناس تبع لقريش في هذا الشأن، مسلمهم تبع لمسلمهم، وكافرهم تبع لكافرهم
   مسندالحميدي1075عبد الرحمن بن صخرتجدون الناس معادن، فخيارهم في الجاهلية خيارهم في الإسلام إذا فقهوا
   مسندالحميدي1166عبد الرحمن بن صخرتجدون من شر الناس ذا الوجهين

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2025  
´دو رخے شخص کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کی نظر میں دو رخے شخص سے بدتر کوئی نہیں ہو گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 2025]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
دورخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے یہ یقین دلائے کہ تمہارا خیر خواہ اور ساتھی ہوں اوردوسرے کا مخالف ہوں،
لیکن جب دوسرے گروہ کے پاس جائے تو اسے بھی اسی طرح کا تاثر دے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2025   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.