الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
جمعہ کے احکام و مسائل
18. باب الصَّلاَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ:
18. باب: جمعہ کے بعد نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2039
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا يحيى بن يحيى ، ومحمد بن رمح ، قالا: اخبرنا الليث . ح وحدثنا قتيبة ، حدثنا ليث ، عن نافع ، عن عبد الله ، انه كان إذا صلى الجمعة انصرف، فسجد سجدتين في بيته، ثم قال: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع ذلك ".وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ".
لیث نے نافع سے اورانھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب وہ جمعہ پڑھ لیتے تو واپس جاتے اور اپنے گھر میں دو ر رکعتیں پڑھتے۔پھر انھوں (ابن عمر رضی اللہ عنہ) نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب جمعہ پڑھ لیتے تو واپس جا کراپنے گھر میں دو رکعت پڑھتے پھر انہوں نے (ابن عمر) بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کرتے تھے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 882

   صحيح مسلم2039عبد الله بن عمرإذا صلى الجمعة انصرف فسجد سجدتين في بيته ثم قال كان رسول الله يصنع ذلك
   جامع الترمذي522عبد الله بن عمرإذا صلى الجمعة انصرف فصلى سجدتين في بيته
   سنن أبي داود1127عبد الله بن عمريصلي يوم الجمعة ركعتين في بيته
   سنن ابن ماجه1130عبد الله بن عمرإذا صلى الجمعة انصرف فصلى سجدتين في بيته

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1127  
´فریضہ جمعہ کے بعد کی نفلی نماز کا بیان۔`
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جمعہ کے دن ایک شخص کو اپنی اسی جگہ پر دو رکعت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، (جہاں اس نے جمعہ کی نماز ادا کی تھی) تو انہوں نے اس شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا اور کہا: کیا تم جمعہ چار رکعت پڑھتے ہو؟ اور عبداللہ بن عمر جمعہ کے دن دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1127]
1127۔ اردو حاشیہ:
➊ فرائض کے بعد فوراً اس جگہ نوافل نہیں پڑھنے چاہیں بلکہ جگہ بدل لی جائے یا کسی سے بات چیت یا اذکار کے ذریعے سے وقفہ کیا جائے۔
➋ جمعہ کے بعد گھر میں جا کر دو رکعتیں پڑھنا سنت ہے۔
➌ علماء کے ذمہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ جرأت سے ادا کیا کریں لیکن اس عظیم مقصد کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے لوگوں کو اس کی تلقین کرنے سے پہلے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کریں۔ یعنی اپنے اخلاق کردار اور اعمال کو سنت مطہرہ کے مطابق بنائیں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1127   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1130  
´جمعہ کے بعد کی سنتوں کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ کر لوٹتے تو اپنے گھر میں دو رکعت پڑھتے، اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1130]
اردو حاشہ:
فائده:
رسول اللہ ﷺ نفلی نماز اور سنتیں گھر میں ادا کرتے تھے۔
تاہم مسجد میں بھی سنتیں پڑھنا جائز ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1130   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.