الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
جنازے کے احکام و مسائل
17. باب فَضْلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ وَاتِّبَاعِهَا:
17. باب: جنازہ کے پیچھے جانا اور نماز جنازہ پڑھنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2196
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا محمد بن بشار ، حدثنا يحيى يعني ابن سعيد ، حدثنا شعبة ، حدثني قتادة ، عن سالم بن ابي الجعد ، عن معدان بن ابي طلحة اليعمري ، عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " من صلى على جنازة فله قيراط، فإن شهد دفنها فله قيراطان، القيراط مثل احد "،وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ "،
شعبہ نے کہا: ہمیں قتادہ نے سالم بن ابی جعد سے حدیث سنا ئی انھوں نے معدان ابن ابی طلحہ یعمری سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے نماز جنا زہ پڑھی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور اگر وہ اس کے دفن میں شامل ہوا تو اس کے لیے دو قیرا ط ہیں (ایک) قیرا ط احد (پہاڑ) کے ما نند ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ پڑھی، اسے ایک قیراط اجر ملے گا، اور اگر وہ دفن تک حاضر رہا تو اسےدو قیراط اجر ملے گا، اور قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 946

   صحيح مسلم2196ثوبان بن بجددمن صلى على جنازة فله قيراط فإن شهد دفنها فله قيراطان القيراط مثل أحد
   سنن ابن ماجه1540ثوبان بن بجددمن صلى على جنازة فله قيراط ومن شهد دفنها فله قيراطان عن القيراط فقال مثل أحد

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.