الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: اجرت کے مسائل کا بیان
The Book of Hiring
18. بَابُ خَرَاجِ الْحَجَّامِ:
18. باب: پچھنا لگانے والے کی اجرت کا بیان۔
(18) Chapter. The wages of one who has the profession of cupping.
حدیث نمبر: 2280
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا ابو نعيم، حدثنا مسعر، عن عمرو بن عامر، قال: سمعت انسا رضي الله عنه، يقول:" كان النبي صلى الله عليه وسلميحتجم، ولم يكن يظلم احدا اجره".(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَحْتَجِمُ، وَلَمْ يَكُنْ يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے عمرو بن عامر نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی مزدوری کے معاملے میں کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے۔

Narrated Anas: The Prophet used to get cupped and would never withhold the wages of any person .
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 36, Number 480


   صحيح البخاري2277أنس بن مالكحجم أبو طيبة النبي أمر له بصاع أو صاعين من طعام كلم مواليه فخفف عن غلته أو ضريبته
   صحيح البخاري2280أنس بن مالكيحتجم لم يكن يظلم أحدا أجره
   صحيح البخاري2210أنس بن مالكصاع من تمر وأمر أهله أن يخففوا عنه من خراجه
   صحيح البخاري2281أنس بن مالكدعا النبي غلاما حجاما فحجمه أمر له بصاع أو صاعين أو مد أو مدين كلم فيه فخفف من ضريبته
   صحيح البخاري2102أنس بن مالكحجم أبو طيبة رسول الله أمر له بصاع من تمر أمر أهله أن يخففوا من خراجه
   صحيح مسلم4038أنس بن مالكاحتجم رسول الله حجمه أبو طيبة أمر له بصاعين من طعام كلم أهله فوضعوا عنه من خراجه أفضل ما تداويتم به الحجامة أو هو من أمثل دوائكم
   صحيح مسلم4040أنس بن مالكدعا غلاما لنا حجاما فحجمه أمر له بصاع أو مد أو مدين كلم فيه فخفف عن ضريبته
   صحيح مسلم5750أنس بن مالكاحتجم رسول الله لا يظلم أحدا أجره
   جامع الترمذي1278أنس بن مالكاحتجم رسول الله وحجمه أبو طيبة أمر له بصاعين من طعام كلم أهله فوضعوا عنه من خراجه
   سنن أبي داود3424أنس بن مالكحجم أبو طيبة رسول الله أمر له بصاع من تمر أمر أهله أن يخففوا عنه من خراجه
   سنن أبي داود1837أنس بن مالكاحتجم وهو محرم على ظهر القدم من وجع كان به
   سنن النسائى الصغرى2852أنس بن مالكاحتجم وهو محرم على ظهر القدم من وثء كان به
   سنن ابن ماجه2164أنس بن مالكاحتجم أعطى الحجام أجره
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم429أنس بن مالكحجم رسول الله ابو طيبة، فامر له رسول الله بصاع من تمر، وامر اهله ان يخففوا عنه من خراجه
   مسندالحميدي1251أنس بن مالكاحتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم حجمه عبد لحي من الأنصار، يقال لهم بنو بياضة، يسمى أبا طيبة، فأعطاه رسول الله صلى الله عليه وسلم صاعا، أو صاعين، أو مدا، أو مدين، وكلم مواليه فخففوا عنه من ضريبته

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 429  
´ پچھنے لگانے کی اُجرت`
«. . . ابو طيبة، فامر له رسول الله صلى الله عليه وسلم بصاع من تمر، وامر اهله ان يخففوا عنه من خراجه . . .»
. . . ابوطیبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پچھنے لگائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے (مزدوری میں) کھجوروں کا ایک صاع دیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مالکوں کو حکم دیا کہ وہ اس پر خراج (مقرر کردہ رقم) میں کمی کر دیں . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 429]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 2102، 2110، من حديث مالك، ومسلم 1577، من حديث حميد الطّويل به وصرح حميد بالسماع عند مسلم 64/1577]

تفقه:
➊ بیماری کے علاج کے لئے آلات کے ذریعے سے جسم کے کسی حصے سے خون نکالنے کے عمل کو پچھنے لگانا یا سینگی لگانا کہتے ہیں۔
➋ پچھنے لگانے کی اجرت جائز ہے اور جن احادیث میں اسے خبیث کہا گیا ہے یا پچھنے لگانے سے منع کیا گیا ہے وہ کراہیت تنزیہی پر محمول ہیں یا پھر منسوخ ہیں۔
➌ اس سے ہمارے دور میں نائیوں کی مروجہ حجامت مراد نہیں ہے جس میں وہ سر وغیرہ کے بال کاٹتے ہیں۔ اگر مروجہ حجامت میں شریعت کے خلاف کوئی بات نہ ہو تو اس کی اجرت بھی جائز اور حلال ہے۔ یاد رہے کہ داڑھی منڈوانا یا ایک مشت سے کم کاٹنا حرام ہے لہٰذا ایسی حرکت کرنے والے نائیوں (حجاموں) کی آمدنی حرام ہے۔
➍ اگر اسلامی حکومت ہو تو غلامی جائز ہے۔ میدان جہاد میں قیدی کافروں کو غلام بنا کر بعد میں بیچا جا سکتا ہے۔
➎ اچھے کام میں سفارش کرنا مسنون ہے۔
➏ بیماری کا علاج کرانا مسنون ہے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 152   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1837  
´محرم پچھنا لگوائے تو کیسا ہے؟`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنے قدم کی پشت پر پچھنا لگوایا، آپ احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا کہ ابن ابی عروبہ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے یعنی قتادہ سے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1837]
1837. اردو حاشیہ:
➊ سینگی لگوانا اور فصد کھلوانا اس دور کا معروف طریقہ علاج تھا۔ اور مذکورہ بالا احادیث میں دو مختلف واقعات کا بیان آیا ہے۔
➋ اب بھی بوقت ضرورت اس سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔اورظاہر ہے کہ اس عمل میں بالوں کی جگہ سے بال کاٹے جاتے ہیں۔جلد پر چیرالگایا جاتا ہے۔پس اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔تاہم کئی ایک فقہاء بال کاٹنے کی بنا پر فدیہ کے قائل ہیں۔نیز دانت نکلوانے یا کسی عمل جراحی کی صورت میں کوئی فدیہ لازم نہیں آتا۔
➌ بیماری میں علاج کرانا سنت رسول ﷺ ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1837   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2280  
2280. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نےفرمایا: نبی ﷺ سینگی لگواتے تھے اور کسی کی مزدوری میں کمی نہیں فرماتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2280]
حدیث حاشیہ:
باب کی احادیث سے حضرت امام بخاری ؒنے یہ ثابت فرمایا کہ حجام یعنی پچھنا لگانے والے کی اجرت حلال ہے اور یہ پیشہ بھی جائز ہے اگریہ پیشہ ناجائز ہوتا تو نہ آپ پچھنا لگواتے نہ اس کو اجرت دیتے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے کاموں کو بنظر حقارت دیکھنے والے غلطی پر ہیں۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 2280   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2280  
2280. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نےفرمایا: نبی ﷺ سینگی لگواتے تھے اور کسی کی مزدوری میں کمی نہیں فرماتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2280]
حدیث حاشیہ:
قبل ازیں ایک روایت گزر چکی ہے کہ ابو جحیفہ ؓ نے ایک سینگی لگانے والا غلام خریدا تو اس کے آلات وغیرہ توڑ ڈالے، بیٹے کے سوال کرنے پر بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے خون کی قیمت سے منع کیا ہے۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2238)
اس روایت کے پیش نظر کچھ لوگوں کو تردد تھا کہ پچھنا لگوانا اور اس پر اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟ امام بخاری ؒ نے ان روایات سے یہ ثابت کیا ہے کہ سینگی لگوانا جائز ہے اور اس پر مزدوری لینا بھی مباح ہے۔
بعض روایات میں سینگی لگانے کی اجرت کو خبیث کہا گیا ہے،اس سے مراد نہی تحریم نہیں بلکہ نہی تنزیہ ہے،یعنی بہتر ہے کہ اس طرح کے کاروبار سے بچاجائے کیونکہ بعض دفعہ خون وغیرہ انسان کے حلق سے نیچے بھی اتر سکتا ہے، اس لیے آپ نے اس کی اجرت کو لفظ"خبیث" سے تعبیر کیا ہے۔
(فتح الباري: 579/4)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 2280   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.