سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
Chapters On Zuhd
3. باب مَا جَاءَ فِي الْمُبَادَرَةِ بِالْعَمَلِ
3. باب: اچھے کام میں سبقت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2306
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا ابو مصعب المدني، عن محرر بن هارون، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " بادروا بالاعمال سبعا هل تنتظرون إلا فقرا منسيا، او غنى مطغيا، او مرضا مفسدا، او هرما مفندا، او موتا مجهزا، او الدجال فشر غائب ينتظر، او الساعة فالساعة ادهى وامر "، قال: هذا حديث حسن غريب، لا نعرفه من حديث الاعرج، عن ابي هريرة، إلا من حديث محرر بن هارون، وقد روى بشر بن عمر وغيره، عن محرر بن هارون هذا، وقد روى معمر هذا الحديث، عمن سمع سعيدا المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه، وقال: تنتظرون.(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ مُحْرَّرِ بْنِ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سَبْعًا هَلْ تَنْتَظِرُونَ إِلَّا فَقْرًا مُنْسِيًا، أَوْ غِنًى مُطْغِيًا، أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا، أَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا، أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا، أَوِ الدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ، أَوِ السَّاعَةَ فَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَرَّرِ بْنِ هَارُونَ، وَقَدْ رَوَى بِشْرُ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ، عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ هَارُونَ هَذَا، وَقَدْ رَوَى مَعْمَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَمَّنْ سَمِعَ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: تَنْتَظِرُونَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، تمہیں ایسے فقر کا انتظار ہے جو سب کچھ بھلا ڈالنے والا ہے؟ یا ایسی مالداری کا جو طغیانی پیدا کرنے والی ہے؟ یا ایسی بیماری کا جو مفسد ہے (یعنی اطاعت الٰہی میں خلل ڈالنے والی) ہے؟ یا ایسے بڑھاپے کا جو عقل کو کھو دینے والا ہے؟ یا ایسی موت کا جو جلدی ہی آنے والی ہے؟ یا اس دجال کا انتظار ہے جس کا انتظار سب سے برے غائب کا انتظار ہے؟ یا اس قیامت کا جو قیامت نہایت سخت اور کڑوی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اعرج ابوہریرہ سے مروی حدیث ہم صرف محرز بن ہارون کی روایت سے جانتے ہیں،
۳- بشر بن عمر اور ان کے علاوہ لوگوں نے بھی اسے محرز بن ہارون سے روایت کیا ہے،
۴- معمر نے ایک ایسے شخص سے سنا ہے جس نے بسند «سعيدا المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اس میں «هل تنتظرون» کی بجائے «تنتظرون» ہے۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 13951) (ضعیف) (سند میں ”محرر -یا محرز- بن ہارون“ متروک الحدیث راوی ہے)»

قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (1666) // ضعيف الجامع الصغير (2315) //

قال الشيخ زبير على زئي: (2306) إسناده ضعيف جدًا
محرر بن هارون: متروك (تق: 6499) وقال الهيثمي: وقد ضعفه الجمهور (مجمع الزوئد 272/6)

   جامع الترمذي2306عبد الرحمن بن صخربادروا بالأعمال سبعا هل تنتظرون إلا فقرا منسيا أو غنى مطغيا أو مرضا مفسدا أو هرما مفندا أو موتا مجهزا أو الدجال فشر غائب ينتظر أو الساعة فالساعة أدهى وأمر

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2306  
´اچھے کام میں سبقت کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، تمہیں ایسے فقر کا انتظار ہے جو سب کچھ بھلا ڈالنے والا ہے؟ یا ایسی مالداری کا جو طغیانی پیدا کرنے والی ہے؟ یا ایسی بیماری کا جو مفسد ہے (یعنی اطاعت الٰہی میں خلل ڈالنے والی) ہے؟ یا ایسے بڑھاپے کا جو عقل کو کھو دینے والا ہے؟ یا ایسی موت کا جو جلدی ہی آنے والی ہے؟ یا اس دجال کا انتظار ہے جس کا انتظار سب سے برے غائب کا انتظار ہے؟ یا اس قیامت کا جو قیامت نہایت سخت اور کڑوی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2306]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں محرر یا محرز بن ہارون متروک الحدیث راوی ہے)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2306   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.