الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: رہن کے احکام و مسائل
The Chapters on Pawning
16. بَابُ : الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلاَثٍ
16. باب: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت کا بیان۔
Chapter: The Muslims Are Partners In Three Things
حدیث نمبر: 2474
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا عمار بن خالد الواسطي ، حدثنا علي بن غراب ، عن زهير بن مرزوق ، عن علي بن زيد بن جدعان ، عن سعيد بن المسيب ، عن عائشة ، انها قالت: يا رسول الله، ما الشيء الذي لا يحل منعه؟ قال:" الماء والملح والنار"، قالت: قلت: يا رسول الله هذا الماء قد عرفناه فما بال الملح والنار، قال: يا حميراء! من اعطى نارا، فكانما تصدق بجميع ما انضجت تلك النار، ومن اعطى ملحا، فكانما تصدق بجميع ما طيب ذلك الملح، ومن سقى مسلما شربة من ماء حيث يوجد الماء، فكانما اعتق رقبة، ومن سقى مسلما شربة من ماء حيث لا يوجد الماء، فكانما احياها".
(مرفوع) حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمَاءُ وَالْمِلْحُ وَالنَّارُ"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ، قَالَ: يَا حُمَيْرَاءُ! مَنْ أَعْطَى نَارًا، فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ، وَمَنْ أَعْطَى مِلْحًا، فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَ ذَلِكَ الْمِلْحُ، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ، فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سی ایسی چیز ہے جس کا روکنا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی، نمک اور آگ میں نے کہا: اللہ کے رسول! پانی تو ہمیں معلوم ہے کہ اس کا روکنا جائز اور حلال نہیں؟ لیکن نمک اور آگ کیوں جائز نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حمیراء! ۱؎ جس نے آگ دی گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جو اس پر پکا، اور جس نے نمک دیا گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جس کو اس نمک نے مزے دار بنایا، اور جس نے کسی مسلمان کو جہاں پانی ملتا ہے، ایک گھونٹ پانی پلایا گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا، اور جس نے کسی مسلمان کو ایسی جگہ ایک گھونٹ پانی پلایا جہاں پانی نہ ملتا ہو گویا اس نے اس کو نئی زندگی بخشی۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16121، ومصباح الزجاجة: 871) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3384)

وضاحت:
۱؎: حمیراء: حمراء کی تصغیر ہے یعنی اے گوری چٹی سرخی مائل رنگت والی۔

قال الشيخ الألباني: ضعيف

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جدعان: ضعيف
وتلميذه زهير بن مرزوق: مجهول (تقريب: 2050)
وعلي بن غراب عنعن (كان يدلس: تق 4783)
وللحديث شاهدان ضعيفان جدًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468

   سنن ابن ماجه2474عائشة بنت عبد اللهمن أعطى نارا فكأنما تصدق بجميع ما أنضجت تلك النار من أعطى ملحا فكأنما تصدق بجميع ما طيب ذلك الملح من سقى مسلما شربة من ماء حيث يوجد الماء فكأنما أعتق رقبة من سقى مسلما شربة من ماء حيث لا يوجد الماء فكأنما أحياها

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.