صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: رہن کے بیان میں
The Book of Mortgaging In Places Occupied by Settled Population
5. بَابُ الرَّهْنِ عِنْدَ الْيَهُودِ وَغَيْرِهِمْ:
5. باب: یہود وغیرہ کے پاس کوئی چیز گروی رکھنا۔
(5) Chapter. Mortgaging things to Jews and others.
حدیث نمبر: 2513
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن إبراهيم، عن الاسود، عن عائشة رضي الله عنها، قالت:" اشترى رسول الله صلى الله عليه وسلم من يهودي طعاما، ورهنه درعه".(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا، وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مدت ٹھہرا کر ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔

Narrated `Aisha: Allah's Apostle bought some foodstuff from a Jew and mortgaged his armor to him.
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 45, Number 690


   صحيح البخاري2200عائشة بنت عبد اللهاشترى طعاما من يهودي إلى أجل فرهنه درعه
   صحيح البخاري2252عائشة بنت عبد اللهاشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم وارتهن منه درعا من حديد
   صحيح البخاري2509عائشة بنت عبد اللهاشترى من يهودي طعاما إلى أجل ورهنه درعه
   صحيح البخاري2251عائشة بنت عبد اللهاشترى رسول الله طعاما من يهودي بنسيئة ورهنه درعا له من حديد
   صحيح البخاري2386عائشة بنت عبد اللهاشترى طعاما من يهودي إلى أجل ورهنه درعا من حديد
   صحيح البخاري2916عائشة بنت عبد اللهتوفي رسول الله ودرعه مرهونة عند يهودي بثلاثين صاعا من شعير
   صحيح البخاري2513عائشة بنت عبد اللهاشترى رسول الله من يهودي طعاما ورهنه درعه
   صحيح البخاري4467عائشة بنت عبد اللهتوفي النبي ودرعه مرهونة عند يهودي بثلاثين
   صحيح البخاري2096عائشة بنت عبد اللهاشترى رسول الله من يهودي طعاما بنسيئة ورهنه درعه
   صحيح البخاري2068عائشة بنت عبد اللهاشترى طعاما من يهودي إلى أجل ورهنه درعا من حديد
   صحيح مسلم4115عائشة بنت عبد اللهاشترى رسول الله من يهودي طعاما ورهنه درعا من حديد
   صحيح مسلم4114عائشة بنت عبد اللهاشترى رسول الله من يهودي طعاما بنسيئة فأعطاه درعا له رهنا
   صحيح مسلم4116عائشة بنت عبد اللهاشترى من يهودي طعاما إلى أجل ورهنه درعا له من حديد
   سنن النسائى الصغرى4654عائشة بنت عبد اللهاشترى رسول الله من يهودي طعاما بنسيئة وأعطاه درعا له رهنا
   سنن النسائى الصغرى4613عائشة بنت عبد اللهاشترى رسول الله من يهودي طعاما إلى أجل ورهنه درعه
   سنن ابن ماجه2436عائشة بنت عبد اللهاشترى من يهودي طعاما إلى أجل ورهنه درعه

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2513  
2513. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی رکھ دی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2513]
حدیث حاشیہ:
یہودی کا نام ابوالشحم تھا۔
آپ ﷺ نے اس یہودی سے جو کے تیس صاع قرض لیے تھے اور جو زرہ گروی تھی اس کا نام ذات الفضول تھا۔
بعضوں نے کہا کہ آپ نے وفات سے پہلے یہ زرہ چھڑا لی تھی۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ کی وفات تک وہ گروی رہی۔
(وحیدی)
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 2513   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2513  
2513. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی رکھ دی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2513]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس عنوان کا مقصد یہ ہے کہ غیر مسلم حضرات سے مالی معاملات کرنے جائز ہیں بشرطیکہ وہ حربی نہ ہوں، اس کی دو صورتیں ممکن ہیں:
٭ ان سے صلح کا معاہدہ ہو اور تجارتی لین دین کے لیے عام ہو۔
٭ وہ غیر مسلم کسی مسلمان حکومت کے ماتحت ہوں اور ان کی حیثیت ذمی کی ہو۔
جن غیر مسلم حکومتوں سے صلح نہیں یا جو غیر مسلم کسی مسلمان حکومت کے ماتحت نہیں ہیں ان سے مالی معاملات کرنے درست نہیں۔
(2)
مذکورہ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ انتہائی متواضع تھے۔
آپ نے قرض لینے کا معاملہ کسی صحابی سے نہیں کیا کہ شاید وہ آپ سے غلے کی قیمت نہ لے یا اس وقت ان کے پاس زائد غلہ نہ ہو گا، اس لیے آپ نے ایک یہودی سے اناج قرض لیا اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 2513   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.