صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان
The Book of Gifts and The Superiority of Giving Gifts and The Exhortation for Giving Gifts
14. بَابُ هِبَةِ الرَّجُلِ لاِمْرَأَتِهِ وَالْمَرْأَةِ لِزَوْجِهَا:
14. باب: خاوند کا اپنی بیوی کو اور بیوی کا اپنے خاوند کو کچھ ہبہ کر دینا۔
(14) Chapter. Giving gifts by a husband to his wife, and by a wife to her husband.
حدیث نمبر: 2589
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا وهيب، حدثنا ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" العائد في هبته كالكلب يقيء، ثم يعود في قيئه".(مرفوع) حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا ہبہ واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر چاٹ جاتا ہے۔

Narrated Ibn `Abbas: The Prophet said, "One who takes back his gift (which he has already given) is like a dog that swallows its vomit."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 3, Book 47, Number 762


   صحيح البخاري2589عبد الله بن عباسالعائد في هبته كالكلب يقيء ثم يعود في قيئه
   صحيح البخاري6975عبد الله بن عباسالعائد في هبته كالكلب يعود في قيئه ليس لنا مثل السوء
   صحيح البخاري2621عبد الله بن عباسالعائد في هبته كالعائد في قيئه
   صحيح البخاري2622عبد الله بن عباسكالكلب يرجع في قيئه
   صحيح مسلم4176عبد الله بن عباسالعائد في هبته كالكلب يقيء ثم يعود في قيئه
   صحيح مسلم4174عبد الله بن عباسالعائد في هبته كالعائد في قيئه
   صحيح مسلم4173عبد الله بن عباسمثل الذي يتصدق بصدقة ثم يعود في صدقته كمثل الكلب يقيء ثم يأكل قياه
   صحيح مسلم4170عبد الله بن عباسمثل الذي يرجع في صدقته كمثل الكلب يقيء ثم يعود في قيئه فيأكله
   جامع الترمذي1298عبد الله بن عباسليس لنا مثل السوء العائد في هبته كالكلب يعود في قيئه
   سنن أبي داود3538عبد الله بن عباسالعائد في هبته كالعائد في قيئه
   سنن النسائى الصغرى3728عبد الله بن عباسليس لنا مثل السوء العائد في هبته كالعائد في قيئه
   سنن النسائى الصغرى3726عبد الله بن عباسالعائد في هبته كالعائد في قيئه
   سنن النسائى الصغرى3724عبد الله بن عباسمثل الذي يتصدق بالصدقة ثم يرجع فيها كمثل الكلب قاء ثم عاد في قيئه فأكله
   سنن النسائى الصغرى3729عبد الله بن عباسليس لنا مثل السوء العائد في هبته كالكلب يعود في قيئه
   سنن النسائى الصغرى3730عبد الله بن عباسليس لنا مثل السوء الراجع في هبته كالكلب في قيئه
   سنن النسائى الصغرى3723عبد الله بن عباسمثل الذي يرجع في صدقته كمثل الكلب يرجع في قيئه فيأكله
   سنن النسائى الصغرى3727عبد الله بن عباسالعائد في هبته كالعائد في قيئه
   سنن النسائى الصغرى3721عبد الله بن عباسالعائد في هبته كالكلب يقيء ثم يعود في قيئه
   سنن النسائى الصغرى3731عبد الله بن عباسالعائد في هبته كالكلب يقيء ثم يعود في قيئه
   سنن النسائى الصغرى3732عبد الله بن عباسالعائد في هبته كالعائد في قيئه
   سنن النسائى الصغرى3725عبد الله بن عباسمثل الذي يرجع في صدقته كمثل الكلب يقيء ثم يعود في قيئه
   سنن ابن ماجه2385عبد الله بن عباسالعائد في هبته كالعائد في قيئه
   سنن ابن ماجه2391عبد الله بن عباسمثل الذي يتصدق ثم يرجع في صدقته مثل الكلب يقيء ثم يرجع فيأكل قيئه
   بلوغ المرام789عبد الله بن عباس العائد في هبته كالكلب يقيء ثم يعود في قيئه
   المعجم الصغير للطبراني730عبد الله بن عباس العائد فى هبته كالعائد فى قيئه
   مسندالحميدي540عبد الله بن عباسليس لنا مثل السوء العائد في هبته كالكلب يعود في قيئه

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2385  
´ہبہ کر کے واپس لینے کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کر کے واپس لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کے مانند ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2385]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہبہ کا مطلب کسی کو کوئی چیز بلامعاوضہ دے دینا ہے۔
اس کامقصد محض اللہ کی رضا کاحصول اورایک مومن سےحسن سلوک ہوتا ہے لہٰذا اسےواپس لینا اپنی نیکی کالعدم کرنے کےبرابر ہے۔
اور حان بوجھ کرنیکی ضائع کرنا بہت بری بات ہے۔

(2)
ہبہ کا ایک فائدہ مسلمانوں کی باہمی محبت واحترام میں اضافہ بھی ہے۔
ہبہ کی ہوئی چیز واپس لینے سے نہ صرف یہ مقصد فوت ہوجاتا ہے بلکہ باہمی محبت واحترام میں بھی کمی آ جاتی ہے اس طرح فائدے سے نقصان زیادہ ہوجاتا ہے۔

(3)
کتےکےعمل سےتشبیہ دینے کا مقصد اس کام سےنفرت دلانا ہے۔

(4)
والد اولاد کوعطیہ دے کر واپس لےسکتا ہے کیونکہ اولاد کی ملکیت اس کی اپنی ملکیت کےحکم میں ہے۔
دیکھے:
(حدیث: 2377)
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 2385   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 789  
´ھبہ عمری اور رقبی کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہبہ کر کے اسے واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو خود قے کرتا ہے اور پھر اسے کھا لیتا ہے۔ (بخاری و مسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ ہمارے لیے اس سے بری مثال اور کوئی نہیں کہ جو شخص اپنے ہبہ کو دے کر واپس لیتا ہے وہ اس کتے کی مانند ہے جو خود ہی قے کرتا ہے اور پھر اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 789»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الهبة، باب هبة الرجل لامرأته والمرأة لزوجها، حديث:2589، ومسلم، الهبات، باب تحريم الرجوع في الصدقة بعد القبض، حديث:1622.»
تشریح:
یہ حدیث ہبہ کردہ چیز کو واپس لینے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے‘ البتہ والد اپنی اولاد کو دیے ہوئے ہبہ کے بارے میں اس سے مستثنیٰ ہے جیسا کہ آئندہ حدیث میں موجود ہے۔
مگر احناف کا مذہب یہ ہے کہ ہبہ کردہ چیز کو واپس لینا حلال ہے اور بعض احناف نے اس حدیث کی یہ تاویل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی کَالْکَلْبِ… اس کی عدم حرمت پر دلالت کرتا ہے‘ اس لیے کہ کتا تو غیر مکلف ہے اور اس کی اپنی قے اس کے لیے حرام نہیں ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ جب کتا غیر مکلف ہے تو یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اس کی قے اس کے لیے حلال ہے یا حرام کیونکہ تحلیل و تحریم ان فروع میں سے ہے جس کا کسی کو مکلف بنایا گیا ہو جیسا کہ شجر و حجر (درخت اور پتھر) کے بارے میں یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ وہ اندھا یا بینا ہے‘ اس لیے کہ وہ اندھے پن اور بصارت کا محل ہی نہیں‘ لہٰذا اس حدیث میں تشبیہ‘ تحلیل یا تحریم کے اعتبار سے نہیں ہے۔
اور جب یہ تشبیہ‘ تحلیل و تحریم کے اعتبار سے نہیں ہے تو پھر یہ تحلیل و تحریم کے لیے سرے سے دلیل ہی نہیں بن سکتی۔
تحریم تو نص صریح سے ثابت ہے‘ اس لیے اسی کو دلیل بنانا چاہیے۔
اور جہاں تک تشبیہ کا تعلق ہے تو اس سے مقصود اس حرام فعل کی قباحت بیان کرنا‘ اس سے نفرت دلانا‘ اس کی شدید خباثت کا اظہار کرنا اور بدہیبت منظر کی صورت پیش کرنا ہے۔
افسوس! انسان کیسے پسند کرے گا کہ وہ کتے کے درجہ تک پہنچ جائے‘ پھر اس درجہ تک اتر جائے کہ پہلے قے کرے اور پھر اپنی قے چاٹ لے۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 789   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1298  
´ہبہ کو واپس لینے پر وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بری مثال ہمارے لیے مناسب نہیں، ہدیہ دے کر واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹتا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1298]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے ہبہ کو واپس لینے کی شناعت وقباحت واضح ہوتی ہے،
ایک تو ایسے شخص کو کُتے سے تشبیہ دی گئی ہے،
دوسرے ہبہ کی گئی چیز کو قے سے تعبیرکیا جس سے انسان انتہائی کراہت محسوس کرتاہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1298   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2589  
2589. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہبہ کرکے واپس لینے والا شخص اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے اسے چاٹ جاتاہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2589]
حدیث حاشیہ:
امام شافعی ؒ اور امام احمد ؒ نے اسی حدیث سے دلیل لی ہے اور ہبہ میں رجوع ناجائز رکھا ہے۔
صرف باپ کو اس ہبہ میں رجوع جائز رکھا ہے جووہ اپنی اولاد کو کرے۔
بدلیل دوسری حدیث کے جو اوپر گزر چکی اور حضرت امام ابوحنیفہ ؒ نے اگر اجنبی شخص کو کچھ ہبہ کرے تو اس میں رجوع جائز رکھا ہے جب تک وہ شے موہوب اپنے حال پر باقی ہو اور اس کا عوض نہ ملا ہو۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 2589   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2589  
2589. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہبہ کرکے واپس لینے والا شخص اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے اسے چاٹ جاتاہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2589]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث میں ذکر کردہ مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ ہبہ دے کر واپس لینا حرام ہے کیونکہ ہبہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں، تاہم کوئی شرعی سبب ہو تو واپس لیا جا سکتا ہے، مثلاً:
باپ نے صرف ایک بیٹے کو ہبہ دیا دوسروں کو نظرانداز کر دیا تو اسے چاہیے کہ اپنا ہبہ واپس لے لے۔
حدیث میں ہے:
آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنا دیا ہوا عطیہ واپس لے، ہاں والد اپنی اولاد کو دیا ہوا عطیہ واپس لینے کا مجاز ہے۔
(سنن أبی داود، البیوع، حدیث: 3539) (2)
واضح رہے کہ جس طرح تحفہ واپس لینا حرام ہے اسی طرح کسی شرعی رکاوٹ کے بغیر واپس کرنا بھی مکروہ عمل ہے۔
شرعی رکاوٹوں میں اہل اختیار کو مائل کرنے کے لیے ہدیہ دینا، کاہن کی شیرینی، زانیہ کی اجرت یا کسی حرام چیز سے دیا ہوا ہدیہ شامل ہے، اسے واپس کر دیا جائے۔
واضح رہے کہ محرم رشتہ داروں کے متعلق ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ انہیں دیا ہوا عطیہ واپس نہیں لیا جائے گا۔
(المستدرك للحاکم: 2/52)
یہ حدیث ضعیف اور ناقابل استدلال ہے۔
واللہ أعلم
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 2589   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.