الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
Mention When Ghusal (A Purifying Bath) Is Obligatory And When It Is Not
174. بَابُ : بَسْطِ الْحَائِضِ الْخُمْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ
174. باب: مسجد میں حائضہ کے چٹائی بچھانے کا بیان۔
Chapter: A Menstrauting Woman Spreading Out A Mat In The Masjid
حدیث نمبر: 274
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، عن منبوذ، عن امه، ان ميمونة، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم" يضع راسه في حجر إحدانا فيتلو القرآن وهي حائض، وتقوم إحدانا بالخمرة إلى المسجد فتبسطها وهي حائض".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْبُوذٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ، وَتَقُومُ إِحْدَانَا بِالْخُمْرَةِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَبْسُطُهَا وَهِيَ حَائِضٌ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک کی آغوش میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت فرماتے جب کہ وہ حائضہ ہوتی تھی، اور ہم میں سے کوئی بوریا لے کر مسجد جاتی، اور باہر کھڑی ہو کر ہاتھ بڑھا کر اسے (مسجد میں) بچھا دیتی اور وہ حائضہ ہوتی۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 18086)، مسند احمد 6/331، 334، ویأتي عند المؤلف في الحیض19 برقم: 385 (حسن)»

قال الشيخ الألباني: حسن

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أم منبوذ: لم أجد من وثقها. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322

سنن نسائی کی حدیث نمبر 274 کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 274  
274۔ اردو حاشیہ:
➊ حائضہ عورت کی گود میں قرآن مجید پڑھنے پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا، تاہم اس سے واضح ہوتا ہے کہ حائضہ کے لیے قرآن پڑھنے کی ناپسندیدگی کا احساس موجود تھا۔
➋ لیٹ کر قرآن کریم کی تلاوت کرنا درست ہے۔
➌ یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر صحیح ہے، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا ہے، جبکہ دیگر محققین کی تحقیق کی رو سے یہ روایت صحیح لغیرہ ہے اور یہی بات درست ہے۔ ملاحظہ ہو: [إرواء الغلیل للألباني: 213/1، والموسوعة الحدیثیة مسند أحمد: 292/44]
بنابریں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ حسب ضرورت مسجد میں داخل ہو سکتی ہے، البتہ اس میں ٹھہرنا درست نہیں۔ امام نسائی رحمہ اللہ کا رجحان بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ واللہ أعلم۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 274   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.