سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: حج کے احکام و مناسک
The Book of Hajj
158. بَابُ : تَرْكِ اسْتِلاَمِ الرُّكْنَيْنِ الآخَرَيْنِ
158. باب: طواف میں دوسرے دونوں رکنوں کے نہ چھونے کا بیان۔
Chapter: Not Touching The Other Two
حدیث نمبر: 2954
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا احمد بن عمرو، والحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع , عن ابن وهب، قال: اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، قال:" لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يستلم من اركان البيت إلا الركن الاسود والذي يليه من نحو دور الجمحيين".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع , عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ارکان میں سے کسی کا استلام نہیں کرتے تھے سوائے حجر اسود اور اس رکن کے جو جمحی لوگوں کے گھروں کی طرف حجر اسود سے قریب ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الحج 40 (1267)، سنن ابن ماجہ/المناسک 27 (2946)، (تحفة الأشراف: 6988) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

   صحيح البخاري5851عبد الله بن عمرلم أر رسول الله يمس إلا اليمانيين أما النعال السبتية فإني رأيت رسول الله يلبس النعال التي ليس فيها شعر يتوضأ فيها أما الصفرة فإني رأيت رسول الله يصبغ بها
   صحيح البخاري1609عبد الله بن عمرلم أر النبي يستلم من البيت إلا الركنين اليمانيين
   صحيح البخاري166عبد الله بن عمرلم أر رسول الله يمس إلا اليمانيين يلبس النعل التي ليس فيها شعر يتوضأ فيها أما الصفرة فإني رأيت رسول الله يصبغ بها فأنا أحب أن أصبغ بها
   صحيح مسلم3061عبد الله بن عمرلم أر رسول الله يمسح من البيت إلا الركنين اليمانيين
   صحيح مسلم3064عبد الله بن عمرما تركت استلام هذين الركنين اليماني والحجر مذ رأيت رسول الله يستلمهما
   صحيح مسلم2818عبد الله بن عمرلم أر رسول الله يمس إلا اليمانيين أما النعال السبتية فإني رأيت رسول الله يلبس النعال التي ليس فيها شعر يتوضأ أما الصفرة فإني رأيت رسول الله يصبغ بها
   صحيح مسلم3062عبد الله بن عمرلم يكن رسول الله يستلم من أركان البيت إلا الركن الأسود والذي يليه
   صحيح مسلم3063عبد الله بن عمرلا يستلم إلا الحجر والركن اليماني
   سنن أبي داود1876عبد الله بن عمرلا يدع أن يستلم الركن اليماني والحجر في كل طوفة
   سنن أبي داود1874عبد الله بن عمريمسح من البيت إلا الركنين اليمانيين
   سنن أبي داود1772عبد الله بن عمرلم أر رسول الله يمس إلا اليمانيين أما النعال السبتية فإني رأيت رسول الله يلبس النعال التي ليس فيها شعر يتوضأ فيها أما الصفرة فإني رأيت رسول الله يصبغ بها
   سنن النسائى الصغرى2950عبد الله بن عمريستلم الركن اليماني والحجر في كل طواف
   سنن النسائى الصغرى2945عبد الله بن عمريستلم الركن الأسود أول ما يطوف يخب ثلاثة أطواف من السبع
   سنن النسائى الصغرى2952عبد الله بن عمريمسح من البيت إلا الركنين اليمانيين
   سنن النسائى الصغرى2953عبد الله بن عمرلم أر رسول الله يستلم إلا هذين الركنين
   سنن النسائى الصغرى2954عبد الله بن عمريستلم من أركان البيت إلا الركن الأسود والذي يليه
   سنن النسائى الصغرى2951عبد الله بن عمرلا يستلم إلا الحجر والركن اليماني
   سنن ابن ماجه2946عبد الله بن عمرلم يكن رسول الله يستلم من أركان البيت إلا الركن الأسود والذي يليه
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم631عبد الله بن عمر يصبغ بها، فانا احب ان اصبغ بها، واما الإهلال فإني
   مسندالحميدي666عبد الله بن عمررأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يهل حتى تنبعث به راحلته، ورأيته يلبس هذه النعال السبتية ويتوضأ فيها، ورأيته لا يستلم من هذا البيت إلا هذين الركنين، ورأيته يصفر لحيته

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 631  
´سنت سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی محبت`
«. . . 418- وعن سعيد بن أبى سعيد عن عبيد بن جريج أنه قال لعبد الله بن عمر: يا أبا عبد الرحمن، رأيتك تصنع أربعا لم أر أحدا من أصحابك يصنعها، قال: وما هي يا ابن جريج؟ قال: رأيتك لا تمس من الأركان إلا اليمانيين، ورأيتك تلبس النعال السبتية، ورأيتك تصبغ بالصفرة، ورأيتك إذا كنت بمكة أهل الناس إذا رأوا الهلال ولم تهل أنت حتى كان يوم التروية، قال عبد الله بن عمر: أما الأركان فإني لم أر رسول الله صلى الله عليه وسلم يمس من الأركان إلا اليمانيين، وأما النعال السبتية فإني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبس النعال التى ليس فيها شعر ويتوضأ فيها، فأنا أحب أن ألبسها، وأما الصفرة فإني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصبغ بها، فأنا أحب أن أصبغ بها، وأما الإهلال فإني لم أر رسول الله صلى الله عليه وسلم يهل حتى تنبعث به راحلته. . . .»
. . . عبید بن جریج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! میں نے اپ کو چار ایسی چیزیں کرتے ہوئے دیکھا ہے جو کہ آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی بھی نہیں کرتا۔ انہوں نے پوچھا: اے ابن جریج! یہ کون سی چیزیں ہیں؟ میں نے کہا: آپ (طواف کے دوران میں) صرف دو یمنی رکنوں (کعبہ کی دو دیواریں جو یمن کی طرف ہیں) کو چھوتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ آپ بغیر بالوں والے جوتے پہنتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ آپ زرد خضاب لگاتے ہیں اور جب آپ مکہ میں ہوتے ہیں (اور) لوگ (ذوالحجہ کا) چاند دیکھتے ہی لبیک کہنا شروع کرتے ہیں جبکہ آپ ترویہ کے دن (۸ ذولحجہ) سے پہلے لبیک نہیں کہتے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رہا مسئلہ ارکان کا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمنی ارکان چھونے کے علاوہ نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی رکن کو چھوا ہو، رہے بغیر بالوں والے جوتے، تو میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر بالوں والے جوتے پہنتے اور ان میں وضو کرتے تھے اور میں پسند کرتا ہوں کہ انہیں پہنوں، رہا زرد خضاب تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خضاب لگاتے ہوئے دیکھا ہے اور میں اس وجہ سے یہ خضاب لگانا پسند کرتا ہوں، رہا لبیک کہنا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (منیٰ کی طرف ۸ ذوالحجہ کو) سواری روانہ کرنے سے پہلے لبیک کہتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 631]

تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 166، ومسلم 1187، من حديث مالك به، سقط من الأصل واستدركته من رواية يحييٰ بن يحييٰ]

تفقه:
➊ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اتباعِ سنت میں سبقت لے جانے والے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر عمل سے محبت کرتے تھے۔
➋ ہر سوال کا دلیل سے جواب دینا اہل ایمان کا عظیم شعار ہے۔
➌ بعض لوگ اگر کسی مسنون عمل کو ترک کردیں تو یہ اس عمل کے متروک ہونے کی دلیل نہیں ہے۔
➍ جس مسئلے کا علم نہ ہو تو اہلِ علم سے پوچھ لینا چاہئے۔
➎ اہلِ حق میں بعض اجتہادی امور میں اختلاف ہوسکتا ہے اور ایسا اختلاف صحابہ و تابعین کے زمانے میں بھی ہوا ہے۔
➏ جب کسی مسئلے میں اختلاف ہوجائے تو اسے دلیل یعنی قرآن وحدیث اور اجماع سے حل کرنا چاہئے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَّيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ» تاکہ جو ہلاک ہو تو دلیل دیکھ کر ہلاک ہو اور جو زندہ رہے تو دلیل دیکھ کر زندہ رہے۔ [الانفال: 42] نیز دیکھئے [سورة النحل: 64]
➐ بالوں کو سرخ مہندی لگانا مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔ مشہور تابعی ابواسحاق عمرو بن عبداللہ السبیعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے علی (رضی اللہ عنہ) کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔۔۔ آپ کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے۔ الخ [تهذيب الآثار لابن جرير الطبري تحقيق على رضا: 935، وسنده صحيح، مصنف عبدالرزاق 3/189 ح5267، المعجم الكبير للطبراني 1/93 ح155]
◄ عامر الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، آپ کی داڑھی نے کندھوں کے درمیان کو بھرا ہوا تھا۔ الخ [الآحاد والمثاني لابن ابي عاصم 1/137 ح154، وسنده صحيح، رواية يحييٰ القطان عن إسماعيل بن ابي خالد عن عامر الشعبي محمولة على السماع، انظر الجرح والتعديل 2/175، عن ابن المديني رحمه الله بلفظ آخر وسنده صحي،]
◄ عتی بن ضمر رحمہ اللہ نے کہا: میں نے اُبی بن کعب (رضی اللہ عنہ) کو دیکھا، آپ کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے۔ [تهذيب الآثار للطبراني ص499 ح942 وسنده صحيح]
استحباب کے دلائل وہ روایات ہیں جن میں بالوں کو رنگنے اور یہود ونصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے۔ دیکھئے [صحيح بخاري 5899، وصحيح مسلم 2103]
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 418   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2954  
´طواف میں دوسرے دونوں رکنوں کے نہ چھونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ارکان میں سے کسی کا استلام نہیں کرتے تھے سوائے حجر اسود اور اس رکن کے جو جمحی لوگوں کے گھروں کی طرف حجر اسود سے قریب ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2954]
اردو حاشہ:
اس دوسرے سے مراد رکن یمانی ہی ہے۔ اس وقت اس کونے کی جانب جمحی قبیلہ رہائش پذیر تھا۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 2954   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2946  
´حجر اسود کے استلام (چومنے یا چھونے) کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بجز حجر اسود اور اس کے جو اس سے قریب ہے یعنی رکن یمانی جو بنی جمح کے محلے کی طرف ہے بیت اللہ کے کسی کونے کا استلام نہیں فرماتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2946]
اردو حاشہ:
فوائدومسائل:

(1)
  بیت اللہ کے چار کونے ہیں۔
حجرالاسود والا کو نہ، رکن یمانی، رکن شامی اور رکن عراقی۔
نبی اکرمﷺ کے زمانہ مبارک میں حجر اسود اور رکن یمانی تو اسی مقام پر تھے جہاں ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کرتے وقت بنائے تھے البتہ رکن شامی اور رکن عراقی ابراہیمی تعمیر پر قائم نہیں تھے کیونکہ اہل مکہ نے کعبہ شریف تعمیر کرتے وقت اس کا کچھ حصہ چھوڑدیا تھا۔
یہ چھوڑا ہوا حصہ حطیم یا حجر کہلاتا ہے۔
موجودہ تعمیر بھی اسی انداز سے ہےکہ حطیم کعبہ شریف کی عمارت سے باہر ہے۔

(2)
حجر اسود کا استلام بوسہ دینا یا ہاتھ لگانا یا اشارہ کرنا ہے۔
رکن یمانی کا استلام صرف ہاتھ لگانا ہے۔

(3)
حجر اسود کے سوا کعبہ شریف کے کسی حصے کو چومنا خلاف سنت ہے۔
ملتزم کو بھی بوسہ نہیں دیا جاتا۔
اسی طرح کعبہ شریف کے علاوہ کسی اور عمارت مزار یا یادگار وغیرہ کو بوسہ دینا بھی جائز نہیں۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 2946   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1772  
´احرام کے وقت کا بیان۔`
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! میں نے آپ کو چار کام ایسے کرتے دیکھا ہے جنہیں میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا ہے؟ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں ابن جریج؟ وہ بولے: میں نے دیکھا کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کو چھوتے ہیں، اور دیکھا کہ آپ ایسی جوتیاں پہنتے ہیں جن کے چمڑے میں بال نہیں ہوتے، اور دیکھا آپ زرد خضاب لگاتے ہیں، اور دیکھا کہ جب آپ مکہ میں تھے تو لوگوں نے چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیا لیکن آپ نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کے آنے تک احرام نہیں باندھا، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رہی رکن یمانی اور حجر اسود کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف انہیں دو کو چھوتے دیکھا ہے، اور رہی بغیر بال کی جوتیوں کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی جوتیاں پہنتے دیکھی ہیں جن میں بال نہیں تھے اور آپ ان میں وضو کرتے تھے، لہٰذا میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں، اور رہی زرد خضاب کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد رنگ کا خضاب لگاتے دیکھا ہے، لہٰذا میں بھی اسی کو پسند کرتا ہوں، اور احرام کے بارے میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک لبیک پکارتے نہیں دیکھا جب تک کہ آپ کی سواری آپ کو لے کر چلنے کے لیے کھڑی نہ ہو جاتی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1772]
1772. اردو حاشیہ: حضرت عبد اللہ بن عمر نے اپنے ہر ہر عمل کو سنت رسول ﷺ کے تابع رکھا ہوا تھا۔اور یہی دین و شریعت ہے۔ اور آٹھویں ذوالحجہ کو احرام باندھنے کا عمل اور ان کا جواب اس قیاس واجتہاد پر مبنی ہے کہ نبی ﷺ میقات میں سفر حج شروع کرنے سے پہلے احرام یا تلبیہ پکارے تھے بلکہ بالکل آخری وقت میں کہتے جب اس سے چارہ نہ ہوتا۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1772   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.