سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
Tribute, Spoils, and Rulership (Kitab Al-Kharaj, Wal-Fai Wal-Imarah)
31. باب فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِ
31. باب: مجوس سے جزیہ لینے کا بیان۔
Chapter: Levying Jizyah On The Zoroastrians.
حدیث نمبر: 3043
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، سمع بجالة، يحدث عمرو بن اوس، وابا الشعثاء، قال: كنت كاتبا لجزء بن معاوية عم الاحنف بن قيس إذ جاءنا كتاب عمر قبل موته بسنة اقتلوا كل ساحر وفرقوا بين كل ذي محرم من المجوس وانهوهم عن الزمزمة، فقتلنا في يوم ثلاثة سواحر، وفرقنا بين كل رجل من المجوس وحريمه في كتاب الله وصنع طعاما كثيرا فدعاهم، فعرض السيف على فخذه فاكلوا ولم يزمزموا والقوا وقر بغل او بغلين من الورق، ولم يكن عمر اخذ الجزية من المجوس حتى شهد عبد الرحمن بن عوف، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذها من مجوس هجر.
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ بَجَالَةَ، يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ، وَأَبَا الشَّعْثَاءِ، قَالَ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ إِذْ جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنْ الْمَجُوسِ وَانْهَوْهُمْ عَنِ الزَّمْزَمَةِ، فَقَتَلْنَا فِي يَوْمٍ ثَلَاثَةَ سَوَاحِرَ، وَفَرَّقْنَا بَيْنَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْ الْمَجُوسِ وَحَرِيمِهِ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَصَنَعَ طَعَامًا كَثِيرًا فَدَعَاهُمْ، فَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَى فَخْذِهِ فَأَكَلُوا وَلَمْ يُزَمْزِمُوا وَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنَ الْوَرِقِ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ.
عمرو بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے بجالہ کو عمرو بن اوس اور ابوشعثاء سے بیان کرتے سنا کہ میں احنف بن قیس کے چچا جزء بن معاویہ کا منشی (کاتب) تھا، کہ ہمارے پاس عمر رضی اللہ عنہ کا خط ان کی وفات سے ایک سال پہلے آیا (اس میں لکھا تھا کہ): ہر جادوگر کو قتل کر ڈالو، اور مجوس کے ہر ذی محرم کو دوسرے محرم سے جدا کر دو، ۱؎ اور انہیں زمزمہ (گنگنانے اور سر سے آواز نکالنے) سے روک دو، تو ہم نے ایک دن میں تین جادوگر مار ڈالے، اور جس مجوسی کے بھی نکاح میں اس کی کوئی محرم عورت تھی تو اللہ کی کتاب کے مطابق ہم نے اس کو جدا کر دیا، احنف بن قیس نے بہت سارا کھانا پکوایا، اور انہیں (کھانے کے لیے) بلوا بھیجا، اور تلوار اپنی ران پر رکھ کر بیٹھ گیا تو انہوں نے کھانا کھایا اور وہ گنگنائے نہیں، اور انہوں نے ایک خچر یا دو خچروں کے بوجھ کے برابر چاندی (بطور جزیہ) لا کر ڈال دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیا جب تک کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی نہ دے دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر ۲؎ کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجزیة 1 (3156)، سنن الترمذی/السیر 31 (1586)، (تحفة الأشراف: 9717)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 24 (41)، مسند احمد (1/190، 194) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: غالباً مجوسی اپنی بہن، خالہ وغیرہ سے شادی کرتے رہے ہوں گے۔
۲؎: بحرین کے ایک گاؤں کا نام ہے۔

Narrated Umar ibn al-Khattab: Amr ibn Aws and AbulSha'tha' reported that Bujalah said: I was secretary to Jaz ibn Muawiyah, the uncle of Ahnaf ibn Qays. A letter came to us from Umar one year before his death, saying: Kill every magician, separate the relatives of prohibited degrees from the Magians, and forbid them to murmur (before eating). So we killed three magicians in one day, and separated from a Magian husband his wife of a prohibited degree according to the Book of Allah. He prepared abundant food and called them, and placed the sword on his thigh. They ate (the food) but did not murmur. They threw (on the ground) one or two mule-loads of silver. Umar did not take jizyah from Magians until Abdur Rahman ibn Awf witnessed that the Messenger of Allah ﷺ had taken jizyah from the Magians of Hajar.
USC-MSA web (English) Reference: Book 19 , Number 3037


قال الشيخ الألباني: صحيح خ بعضه مجوس هجر

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري (3156، 3157)

   صحيح البخاري3157عمر بن الخطابأخذها من مجوس هجر
   سنن أبي داود3043عمر بن الخطابأخذها من مجوس هجر
   بلوغ المرام1123عمر بن الخطابالجزية من مجوس هجر

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1123  
´جزیہ اور صلح کا بیان`
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور موطا میں اس حدیث کی ایک اور سند ہے جس میں انقطاع ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1123»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الجزية والموادعة، باب الجزية والموادعة...، حديث:3157، ومالك في الموطأ:1 /278.»
تشریح:
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جزیہ صرف اہل کتاب پر نہیں جیسا کہ بعض اہل علم کا خیال ہے بلکہ دیگر مشرکین اور مجوس وغیرہ سے بھی جزیہ وصول کیا جائے گا۔
2.موطا کی روایت میں انقطاع اس بنا پر ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے اسے امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے مرسلا ًروایت کیا ہے۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 1123   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3043  
´مجوس سے جزیہ لینے کا بیان۔`
عمرو بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے بجالہ کو عمرو بن اوس اور ابوشعثاء سے بیان کرتے سنا کہ میں احنف بن قیس کے چچا جزء بن معاویہ کا منشی (کاتب) تھا، کہ ہمارے پاس عمر رضی اللہ عنہ کا خط ان کی وفات سے ایک سال پہلے آیا (اس میں لکھا تھا کہ): ہر جادوگر کو قتل کر ڈالو، اور مجوس کے ہر ذی محرم کو دوسرے محرم سے جدا کر دو، ۱؎ اور انہیں زمزمہ (گنگنانے اور سر سے آواز نکالنے) سے روک دو، تو ہم نے ایک دن میں تین جادوگر مار ڈالے، اور جس مجوسی کے بھی نکاح میں اس کی کوئی محرم عورت تھی تو اللہ کی کتاب کے مطابق ہم نے اس کو جدا کر دیا، احنف بن قیس نے بہت سارا کھانا پ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3043]
فوائد ومسائل:
حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گواہی کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کوذمی قرار دینے کی بات قبول فرمائی۔
علامہ ابوعبید فرماتے ہیں۔
کہ اہل کتاب سے جزیہ لینا بہ نص قرآن مجید ثابت ہے۔
اور مجوسیوں سے جزیہ لینا سنت سے ثابت ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3043   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.