سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب في التشديد في جباية الجزية
باب: جزیہ کے وصول کرنے میں ظلم کرنا ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 3045
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ وَجَدَ رَجُلًا وَهُوَ عَلَى حِمْصَ يُشَمِّسُ نَاسًا مِنَ الْقِبْطِ فِي أَدَاءِ الْجِزْيَةِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا".
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما نے حمص کے ایک عامل (محصل) کو دیکھا کہ وہ کچھ قبطیوں (عیسائیوں) سے جزیہ وصول کرنے کے لیے انہیں دھوپ میں کھڑا کر کے تکلیف دے رہا تھا، تو انہوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”اللہ عزوجل ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیا کرتے ہیں ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البر والصلة 33 (2613)، (تحفة الأشراف: 11730)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/404، 468) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ظلم کرتے ہیں، اور لوگوں کو جرم اور قصور سے زیادہ سزا دیتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2613)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥هشام بن حكيم الأسدي | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← هشام بن حكيم الأسدي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر يونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد عبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي | ثقة حافظ | |
👤←👥سليمان بن داود المهري، أبو الربيع سليمان بن داود المهري ← عبد الله بن وهب القرشي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6660
| الله يعذب الذين يعذبون الناس في الدنيا |
صحيح مسلم |
6658
| الله يعذب الذين يعذبون الناس في الدنيا |
صحيح مسلم |
6658
| الله يعذب الذين يعذبون في الدنيا |
سنن أبي داود |
3045
| الله يعذب الذين يعذبون الناس في الدنيا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3045 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3045
فوائد ومسائل:
معقول وجہ کے بغیر کسی کو سزا دینا بہت بڑا گناہ اور ظلم ہے۔
خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو اگر وہ ٹیکس دینے میں معذور ہو تو اس کو مناسب سہولت دی جانی چاہیے۔
ہاں اگر عذر کوئی نہ ہو تو سزا دی جا سکتی ہے۔
مگر وہ بھی جو مناسب ہو۔
معقول وجہ کے بغیر کسی کو سزا دینا بہت بڑا گناہ اور ظلم ہے۔
خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو اگر وہ ٹیکس دینے میں معذور ہو تو اس کو مناسب سہولت دی جانی چاہیے۔
ہاں اگر عذر کوئی نہ ہو تو سزا دی جا سکتی ہے۔
مگر وہ بھی جو مناسب ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3045]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6660
حضرت عروہ رحمۃ اللہ علیہ بن زبیر بیان کرتے ہیں، ہشام بن حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حمص کے گورنر کو دیکھا کہ اس نے جزیہ کی ادائیگی کے لیے کچھ کسانوں کا دھوپ میں کھڑا کیا ہوا ہے تو انھوں نے پوچھا یہ کیا سزا ہے؟میں نے کہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتےہوئے سنا،"اللہ ان لوگوں کو عذاب دے گا،"جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6660]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جزیہ اور خراج سے مراد وہ رقم ہے جو مسلمانوں کے علاقہ میں رہنے والے غیر مسلموں سے ان کے تحفظ اور پناہ دینے کے باعث وصول کی جاتی تھی۔
فوائد ومسائل:
جزیہ اور خراج سے مراد وہ رقم ہے جو مسلمانوں کے علاقہ میں رہنے والے غیر مسلموں سے ان کے تحفظ اور پناہ دینے کے باعث وصول کی جاتی تھی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6660]
عروة بن الزبير الأسدي ← هشام بن حكيم الأسدي