الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
Chapters on Supplication
92. باب
92. باب: دکھ تکلیف کے وقت دعا پڑھنے کا باب۔
حدیث نمبر: 3524
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا محمد بن حاتم المكتب، حدثنا ابو بدر شجاع بن الوليد، عن الرحيل بن معاوية اخي زهير بن معاوية، عن الرقاشي، عن انس بن مالك، قال: " كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا كربه امر قال: يا حي يا قيوم برحمتك استغيث ".(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ الرُّحَيْلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَخِي زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَرَبَهُ أَمْرٌ قَالَ: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث» اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1677) (حسن) (سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، دیکھیے الکلم الطیب رقم 118)»

قال الشيخ الألباني: حسن الكلم الطيب (118 / 76)

   جامع الترمذي3525أنس بن مالكألظوا بيا ذا الجلال والإكرام
   جامع الترمذي3524أنس بن مالكألظوا بيا ذا الجلال والإكرام
   جامع الترمذي3524أنس بن مالكيا حي يا قيوم برحمتك أستغيث
   المعجم الصغير للطبراني946أنس بن مالكيا حي يا قيوم برحمتك أستغيث أصلح لي شأني كله ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين ولا إلى أحد من الناس

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3524  
´دکھ تکلیف کے وقت دعا پڑھنے کا باب۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث» اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3524]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
 اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں۔

نوٹ:

(سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہیں،
لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے،
دیکھیے (الکلم الطیب رقم:118)

نوٹ:

(متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے،
ورنہ اس کے راوی یزید بن ابان رقاشی ضعیف ہیں،
ملاحظہ ہو(صحیحہ رقم: 1536،
اور اگلی سند)

   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3524   
حدیث نمبر: 3524M
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(موقوف)) وبإسناده، قال: وبإسناده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الظوا بيا ذا الجلال والإكرام ". قال ابو عيسى: وهذا حديث غريب وقد روي هذا الحديث عن انس من غير هذا الوجه.(موقوف)) وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَنَسٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
اسی سند کے ساتھ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: «يا ذا الجلال والإكرام» (اے بڑائی و بزرگی والے) کو لازم پکڑو۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1677) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ”یزید بن ابان رقاشی“ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: صحیحہ رقم 1536، اور اگلی سند)»

قال الشيخ الألباني: حسن الكلم الطيب (118 / 76)


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.