الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
Chapters on Supplication
حدیث نمبر: 3527
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن الجريري، عن ابي الورد، عن اللجلاج، عن معاذ بن جبل، قال: سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يدعو، يقول: اللهم إني اسالك تمام النعمة، فقال: " اي شيء تمام النعمة؟ " قال: دعوة دعوت بها ارجو بها الخير، قال: " فإن من تمام النعمة دخول الجنة والفوز من النار "، وسمع رجلا وهو يقول: يا ذا الجلال والإكرام، فقال: " قد استجيب لك فسل "، وسمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا وهو يقول: اللهم إني اسالك الصبر، فقال: " سالت الله البلاء فسله العافية ".(مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ، فَقَالَ: " أَيُّ شَيْءٍ تَمَامُ النِّعْمَةِ؟ " قَالَ: دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ، قَالَ: " فَإِنَّ مِنْ تَمَامِ النِّعْمَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ وَالْفَوْزَ مِنَ النَّارِ "، وَسَمِعَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَقَالَ: " قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ "، وَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ، فَقَالَ: " سَأَلْتَ اللَّهَ الْبَلَاءَ فَسَلْهُ الْعَافِيَةَ ".
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دعا مانگتے ہوئے سنا وہ کہہ رہا تھا: «اللهم إني أسألك تمام النعمة» اے اللہ! میں تجھ سے نعمت تامہ مانگ رہا ہوں، آپ نے اس شخص سے پوچھا: نعمت تامہ کیا چیز ہے؟ اس شخص نے کہا: میں نے ایک دعا مانگی ہے اور مجھے امید ہے کہ مجھے اس سے خیر حاصل ہو گی، آپ نے فرمایا: بیشک نعمت تامہ میں جنت کا دخول اور جہنم سے نجات دونوں آتے ہیں۔ آپ نے ایک اور آدمی کو (بھی) دعا مانگتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہا تھا: «يا ذا الجلال والإكرام» ، آپ نے فرمایا: تیری دعا قبول ہوئی تو مانگ لے (جو تجھے مانگنا ہو)، آپ نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا، «اللهم إني أسألك الصبر» اے اللہ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں، آپ نے فرمایا: تو نے اللہ سے بلا مانگی ہے اس لیے تو عافیت بھی مانگ لے۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11358)، و مسند احمد (5/235) (ضعیف) (سند میں ”ابوالورد“ لین الحدیث راوی ہیں)»

قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (4520)

   جامع الترمذي3527لجلاج بن حكيممن تمام النعمة دخول الجنة والفوز من النار وسمع رجلا وهو يقول يا ذا الجلال والإكرام فقال قد استجيب لك فسل وسمع النبي رجلا وهو يقول اللهم إني أسألك الصبر فقال سألت الله البلاء فسله العافية

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3527  
´باب:۔۔۔`
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دعا مانگتے ہوئے سنا وہ کہہ رہا تھا: «اللهم إني أسألك تمام النعمة» اے اللہ! میں تجھ سے نعمت تامہ مانگ رہا ہوں، آپ نے اس شخص سے پوچھا: نعمت تامہ کیا چیز ہے؟ اس شخص نے کہا: میں نے ایک دعا مانگی ہے اور مجھے امید ہے کہ مجھے اس سے خیر حاصل ہو گی، آپ نے فرمایا: بیشک نعمت تامہ میں جنت کا دخول اور جہنم سے نجات دونوں آتے ہیں۔‏‏‏‏ آپ نے ایک اور آدمی کو (بھی) دعا مانگتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہا تھا: «يا ذا الجلال والإكرام» ، آپ نے فرمایا: تیری دعا قبول ہوئی تو مانگ لے (جو تجھے مانگنا ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3527]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ابوالورد لین الحدیث راوی ہیں)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3527   
حدیث نمبر: 3527M
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا احمد بن منيع، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، عن الجريري بهذا الإسناد، نحوه. قال ابو عيسى: هذا حديث حسن.(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
اس سند سے بھی اسماعیل بن ابراہیم نے جریری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔

تخریج الحدیث: «انظر ماقبلہ (ضعیف)»

قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (4520)


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.