الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: فضائل و مناقب
Chapters on Virtues
49. باب مَنَاقِبِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي رضى الله عنه
49. باب: عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Chapter: ….
حدیث نمبر: 3844
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن مشرح بن هاعان، عن عقبة بن عامر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اسلم الناس , وآمن عمرو بن العاص ". قال ابو عيسى: هذا حديث غريب، لا نعرفه إلا من حديث ابن لهيعة، عن مشرح بن هاعان، وليس إسناده بالقوي.(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمَ النَّاسُ , وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اسلام لائے اور عمرو بن العاص رضی الله عنہ ایمان لائے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ مشرح بن ہاعان سے روایت کرتے ہیں اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9967) (حسن)»

وضاحت:
۱؎: عمرو بن العاص رضی الله عنہ فتح مکہ سے ایک سال یا دو سال پہلے اسلام لا کر مدینہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے، اور اہل مکہ میں سے جو لوگ فتح مکہ کے بعد اسلام لائے ان کی بنسبت عمرو بن العاص کا اسلام لانا کسی زور و زبردستی اور خوف و ہراس سے بالاتر تھا اسی لیے آپ نے ان کے متعلق فرمایا کہ دوسرے لوگ (جو لوگ فتح مکہ کے دن ایمان لائے وہ) تو خوف و ہراس کے عالم میں اسلام لائے، لیکن عمرو بن العاص رضی الله عنہ کا ایمان ان کے دلی اطمینان اور چاہت و رغبت کا مظہر ہے، گویا اللہ نے انہیں اس ایمان قلبی سے نوازا ہے جس کا درجہ بڑھا ہوا ہے۔

قال الشيخ الألباني: حسن، الصحيحة (115)، المشكاة (6236)

   جامع الترمذي3844عقبة بن عامرأسلم الناس وآمن عمرو بن العاص
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3844 کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3844  
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ فتح مکہ سے ایک سال یا دو سال پہلے اسلام لا کر مدینہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے،
اور اہل مکہ میں سے جو لوگ فتح مکہ کے بعد اسلام لائے ان کی بنسبت عمر و بن عاص کا اسلام لانا کسی زور و زبردستی اور خوف و ہراس سے بالا تر تھا اسی لیے آپﷺ نے ان کے متعلق فرمایا کہ دوسرے لوگ (جو لوگ فتح مکہ کے دن ایمان لائے وہ) تو خوف و ہراس کے عالم میں اسلام لائے،
لیکن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ کا ایمان ان کے دلی اطمینان اور چاہت و رغبت کا مظہر ہے،
گویا اللہ نے انہیں اس ایمان قلبی سے نوازا ہے جس کا درجہ بڑھا ہوا ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3844   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.