سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
The Book Of Fighting (The Prohibition Of Bloodshed)
2. بَابُ : تَعْظِيمِ الدَّمِ
2. باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
Chapter: The Gravity of the Sin of Shedding Blood
حدیث نمبر: 4003
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا عبد الله بن محمد بن تميم، قال: حدثنا حجاج، قال: اخبرني شعبة، عن ابي عمران الجوني، قال: قال جندب: حدثني فلان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" يجيء المقتول بقاتله يوم القيامة، فيقول سل هذا فيم قتلني؟ فيقول: قتلته على ملك فلان". قال جندب: فاتقها.
(مرفوع) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، قَالَ: قَالَ جُنْدَبٌ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ". قَالَ جُنْدَبٌ: فَاتَّقِهَا.
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے فلاں (صحابی) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز مقتول اپنے قاتل کو لے کر آئے گا اور کہے گا: (اے اللہ!) اس سے پوچھ، اس نے کس وجہ سے مجھے قتل کیا؟ تو وہ کہے گا: میں نے اس کو فلاں کی سلطنت میں قتل کیا۔ جندب کہتے رضی اللہ عنہ ہیں: تو اس سے بچو ۱؎۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15541-ألف)، مسند احمد (5/367، 373) (صحیح الإسناد)»

وضاحت:
۱؎: یعنی اس طرح کے عذر لنگ والے جواب کی نوبت آنے سے بچو، یعنی تم کو اللہ کے پاس اس طرح کے جواب دینے کی نوبت نہ آئے، یہ خیال رکھو۔

قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح


تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4003  
´ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔`
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے فلاں (صحابی) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز مقتول اپنے قاتل کو لے کر آئے گا اور کہے گا: (اے اللہ!) اس سے پوچھ، اس نے کس وجہ سے مجھے قتل کیا؟ تو وہ کہے گا: میں نے اس کو فلاں کی سلطنت میں قتل کیا۔‏‏‏‏ جندب کہتے رضی اللہ عنہ ہیں: تو اس سے بچو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4003]
اردو حاشہ:
ایسے کام سے بچو یعنی کسی کو اپنی یا کسی کی دنیا کی خاطر قتل نہ کرو ورنہ قیامت کو کوئی جواب نہ سوجھے گا اور قتل کی سزا برداشت کرنی پڑے گی، اور وہ فلاں وہاں کام نہ آئے گا۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 4003   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.