سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
The Book of ad-Dahaya (Sacrifices)
36. بَابُ : الإِذْنِ فِي ذَلِكَ
36. باب: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی اجازت کا بیان۔
Chapter: Permission To Do That
حدیث نمبر: 4435
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا العباس بن عبد العظيم العنبري، عن الاحوص بن جواب، عن عمار بن رزيق، عن ابي إسحاق، عن الزبير بن عدي، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إني كنت نهيتكم عن لحوم الاضاحي بعد ثلاث، وعن النبيذ إلا في سقاء، وعن زيارة القبور، فكلوا من لحوم الاضاحي ما بدا لكم، وتزودوا وادخروا، ومن اراد زيارة القبور فإنها تذكر الآخرة، واشربوا، واتقوا كل مسكر".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ جَوَّابٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، وَعَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ مَا بَدَا لَكُمْ، وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا، وَمَنْ أَرَادَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ، وَاشْرَبُوا، وَاتَّقُوا كُلَّ مُسْكِرٍ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے، مشکیزے کے علاوہ کسی برتن میں نبیذ بنانے سے اور قبروں کی زیارت کرنے سے روکا تھا۔ لیکن اب تم جب تک چاہو قربانی کا گوشت کھاؤ اور سفر کے لیے توشہ بناؤ اور ذخیرہ کرو، اور جو قبروں کی زیارت کرنا چاہے (تو کرے) اس لیے کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے اور ہر مشروب پیو لیکن نشہ لانے والی چیز سے بچو۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1976)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5654) (صحیح) (اس کے راوی ’’ابواسحاق‘‘ مدلس اور مختلط ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویف پا کر صحیح ہے)»

قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

   صحيح مسلم2260عامر بن الحصيبنهيتكم عن زيارة القبور فزوروها نهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث فأمسكوا ما بدا لكم نهيتكم عن النبيذ إلا في سقاء فاشربوا في الأسقية كلها لا تشربوا مسكرا
   صحيح مسلم5114عامر بن الحصيبنهيتكم عن زيارة القبور فزوروها نهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث فأمسكوا ما بدا لكم
   جامع الترمذي1054عامر بن الحصيبنهيتكم عن زيارة القبور أذن لمحمد في زيارة قبر أمه فزوروها فإنها تذكر الآخرة
   سنن أبي داود3235عامر بن الحصيبنهيتكم عن زيارة القبور فزوروها فإن في زيارتها تذكرة
   سنن أبي داود3698عامر بن الحصيبنهيتكم عن ثلاث وأنا آمركم بهن نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها فإن في زيارتها تذكرة نهيتكم عن الأشربة أن تشربوا إلا في ظروف الأدم فاشربوا في كل وعاء لا تشربوا مسكرا نهيتكم عن لحوم الأضاحي أن تأكلوها بعد ثلاث فكلوا واستمتعوا بها في أسفاركم
   سنن النسائى الصغرى2034عامر بن الحصيبنهيتكم عن زيارة القبور فزوروها نهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاثة أيام فامسكوا
   سنن النسائى الصغرى2035عامر بن الحصيبنهيتكم أن تأكلوا لحوم الأضاحي إلا ثلاثا فكلوا وأطعموا وادخروا ما بدا لكم لا تنتبذوا في الظروف الدباء والمزفت والنقير والحنتم وانتبذوا فيما رأيتم اجتنبوا كل مسكر نهيتكم عن زيارة القبور فمن أراد أن يزور فليزر ولا تقولوا هجرا
   سنن النسائى الصغرى4434عامر بن الحصيبنهيتكم عن ثلاث عن زيارة القبور فزوروها ولتزدكم زيارتها خيرا نهيتكم عن لحوم الأضاحي بعد ثلاث فكلوا منها وأمسكوا ما شئتم نهيتكم عن الأشربة في الأوعية فاشربوا في أي وعاء شئتم لا تشربوا مسكرا
   سنن النسائى الصغرى4435عامر بن الحصيبنهيتكم عن لحوم الأضاحي بعد ثلاث عن النبيذ إلا في سقاء عن زيارة القبور فكلوا من لحوم الأضاحي ما بدا لكم وتزودوا وادخروا من أراد زيارة القبور فإنها تذكر الآخرة واشربوا اتقوا كل مسكر
   سنن النسائى الصغرى5655عامر بن الحصيبنهيتكم عن لحوم الأضاحي فتزودوا وادخروا من أراد زيارة القبور فإنها تذكر الآخرة اشربوا اتقوا كل مسكر
   سنن النسائى الصغرى5656عامر بن الحصيبنهيتكم عن زيارة القبور فزوروها نهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاثة أيام فأمسكوا ما بدا لكم نهيتكم عن النبيذ إلا في سقاء فاشربوا في الأسقية كلها لا تشربوا مسكرا
   سنن النسائى الصغرى5657عامر بن الحصيبنهيتكم عن ثلاث زيارة القبور فزوروها ولتزدكم زيارتها خيرا نهيتكم عن لحوم الأضاحي بعد ثلاث فكلوا منها ما شئتم نهيتكم عن الأشربة في الأوعية فاشربوا في أي وعاء شئتم لا تشربوا مسكرا
   بلوغ المرام472عامر بن الحصيب‏‏‏‏كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4435  
´قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی اجازت کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے، مشکیزے کے علاوہ کسی برتن میں نبیذ بنانے سے اور قبروں کی زیارت کرنے سے روکا تھا۔ لیکن اب تم جب تک چاہو قربانی کا گوشت کھاؤ اور سفر کے لیے توشہ بناؤ اور ذخیرہ کرو، اور جو قبروں کی زیارت کرنا چاہے (تو کرے) اس لیے کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے اور ہر مشروب پیو لیکن نشہ لانے والی چیز سے بچو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4435]
اردو حاشہ:
(1) مذکورہ بالا احادیث اس بات پر صریح طور پر دلالت کرتی ہے کہ پہلے قبروں کی زیارت کے لیے جانا ممنوع تھا، بعد ازاں اس کی اجازت دے دی گئی۔ اب عورتیں اور مرد، سب جا سکتے ہیں۔ جن احادیث میں عورتوں پر، قبرستان جانے کی صورت میں، لعنت کی گئی ہے ان کا مفہوم یہ ہے کہ جو عورتیں شرعی تقاضے پامال کریں اور ان کا لحاظ نہ رکھتے ہوئے قبروں کی زیارت کے لیے جائیں، نیز اسی طرح خاوندوں کے حقوق کا خیال کیے بغیر ان کا قبرستان آنا جانا لگا رہے تو وہ لعنت کی حق دار ٹھہریں گی۔ حدیث میں اجازت کے الفاظ اگرچہ مذکر کے صیغے سے مروی ہیں، تاہم عام احکام میں عورتیں بھی مردوں کے تابع ہوتی ہیں جیسا کہ قرآن و حدیث کے دیگر بہت سے احکام میں ایسے ہے۔
(2) یہ حدیث مبارکہ اس اہم مسئلے کی طرف بھی واضح راہنمائی کرتی ہے کہ احکام میں نسخ ہوتا ہے جیسا کہ زیارتِ قبور کی ممانعت کا حکم منسوخ کر دیا گیا اور قبرستان جانے کی رخصت دے دی گئی، اسی طرح پہلے چند مخصوص قسم کے برتنوں میں مشروبات پینے سے روکا گیا تھا، پھر بعد میں اس ممانعت والے حکم کو مکمل طور پر منسوخ کر کے ان برتنوں میں مشروبات پینے کی اجازت دے دی گئی اور وہ اجازت تاحال باقی ہے۔ ہاں، البتہ نشہ آور مشروب، خواہ تھوڑی مقدار میں استعمال کیا جائے یا زیادہ مقدار میں، ہر دو صورت میں اس کا پینا حرام اور ناجائز ہے اور یہ حرمت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 4435   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 472  
´قبروں کی زیارت جائز ہے`
سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا۔ اب ان کی زیارت کرو۔ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 472]
لغوی تشریح:
«فَزُورُوهَا» «زيارة» سے امر کا صیغہ ہے۔ یہ اجازت ممانعت کے بعد تھی۔
«تُذَكَّرُ» «تذكير» سے ماخوذ ہے، یعنی یاد دہانی کراتی ہے۔
«تُزْهَّدُ» «تزهيد» سے ماخوذ ہے، یعنی دنیا سے بےرغبت و زاہد بنا دیتی ہے۔ زیارت قبور سے بس یہی مقصود و مطلوب ہوتا ہے۔

فوائد و مسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ قبروں کی زیارت جائز ہے۔
➋ ابتداء میں نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا مگر پھر اس کی اجازت دے دی اور اس سے مقصد آخرت کی یاد اور میت کے لیے بخشش و مغفرت کی دعا کرنا ہے۔
➌ قبروں پر نذر و نیاز اور عرس وغیرہ کا شریعت مطہرہ میں کوئی جواز نہیں۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 472   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1054  
´قبروں کی زیارت کی رخصت کا بیان۔`
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا۔ اب محمد کو اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تو تم بھی ان کی زیارت کرو، یہ چیز آخرت کو یاد دلاتی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1054]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس میں قبروں کی زیارت کااستحباب ہی نہیں بلکہ اس کا حکم اورتاکید ہے،
اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ ابتداء اسلام میں اس کام سے روک دیاگیا تھا کیونکہ اس وقت یہ اندیشہ تھا کہ مسلمان اپنے زمانۂ جاہلیت کے اثرسے وہاں کوئی غلط کام نہ کربیٹھیں پھرجب یہ خطرہ ختم ہوگیا اور مسلمان عقیدۂ توحید میں پختہ ہوگئے تو اس کی نہ صرف اجازت دیدی گئی بلکہ اس کی تاکیدکی گئی تاکہ موت کا تصورانسان کے دل ودماغ میں ہروقت رچابسارہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1054   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3235  
´قبروں کی زیارت کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روکا تھا سو اب زیارت کرو کیونکہ ان کی زیارت میں موت کی یاددہانی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3235]
فوائد ومسائل:

زیارت قبور ایک مشروع او ر مسنون عمل ہے۔
انسان جہاں کہیں مقیم ہو وہاں کے قبرستان کی زیارت کو اپنا معمول بنالے۔
مگر صرف اس مقصد کےلئے دور دراز کا سفر کرنا جائز نہیں۔

زیارت قبور کے مسنون آداب ہیں۔
یعنی قبرستان میں داخل ہونے کی دعا اور مسلمان اہل قبور کے لئے دعائے مغفرت نہ کہ وہاں جا کر نماز پڑھنا۔
یا تلاوت قرآن کرنا۔
قبر کو مقام قبولیت سمجھنا یا صاحب قبر کے واسطے اور وسیلے سے دعا کرنا یا خود اسی کو اپنی حاجات پیش کرنا۔
یہ سب کام حرام ہیں۔
اور اسی طرح قبروں پر میلے ٹھیلے اور عرس وقوالی وغیرہ کا احادیث رسول اللہ ﷺ اور عمل صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین میں کوئی نام ونشان تک نہیں ملتا ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3235   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.