سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
The Book of ad-Dahaya (Sacrifices)
37. بَابُ : الاِدِّخَارِ مِنَ الأَضَاحِي
37. باب: قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی کا بیان۔
Chapter: Storing Meat From The Sacrificial Animals
حدیث نمبر: 4436
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال: حدثنا يحيى، عن مالك، قال: حدثني عبد الله بن ابي بكر، عن عمرة، عن عائشة، قالت: دفت دافة من اهل البادية حضرة الاضحى، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" كلوا، وادخروا ثلاثا"، فلما كان بعد ذلك، قالوا: يا رسول الله، إن الناس كانوا ينتفعون من اضاحيهم، يجملون منها الودك، ويتخذون منها الاسقية، قال:" وما ذاك"؟، قال: الذي نهيت من إمساك لحوم الاضاحي، قال:" إنما نهيت للدافة التي دفت كلوا، وادخروا، وتصدقوا".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا، وَادَّخِرُوا ثَلَاثًا"، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَنْتَفِعُونَ مِنْ أَضَاحِيِّهِمْ، يَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ، قَالَ:" وَمَا ذَاكَ"؟، قَالَ: الَّذِي نَهَيْتَ مِنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، قَالَ:" إِنَّمَا نَهَيْتُ لِلدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ كُلُوا، وَادَّخِرُوا، وَتَصَدَّقُوا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اعرابیوں (دیہاتیوں) کی ایک جماعت عید الاضحی کے دن مدینے آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور تین دن تک ذخیرہ کر کے رکھو، اس کے بعد لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانی سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کی چربی اٹھا کر رکھ لیتے اور ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے۔ آپ نے فرمایا: تو اب کیا ہوا؟ وہ بولا: جو آپ نے قربانی کے گوشت جمع کر کے رکھنے سے روک دیا، آپ نے فرمایا: میں نے تو صرف اس جماعت کی وجہ سے روکا تھا جو مدینے آئی تھی، کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الأضاحی 5 (1971)، سنن ابی داود/الضحایا 10 (2812)، (تحفة الأشراف: 17901)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (7)، مسند احمد (6/51)، سنن الدارمی/الأضاحی6 (2002) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

   صحيح البخاري5423عائشة بنت عبد اللهتؤكل لحوم الأضاحي فوق ثلاث ما شبع آل محمد من خبز بر مأدوم ثلاثة أيام حتى لحق بالله
   صحيح البخاري5570عائشة بنت عبد اللهلا تأكلوا إلا ثلاثة أيام
   صحيح مسلم5103عائشة بنت عبد اللهعن أكل لحوم الضحايا بعد ثلاث
   سنن أبي داود2812عائشة بنت عبد اللهنهيت عن إمساك لحوم الضحايا بعد ثلاث نهيتكم من أجل الدافة التي دفت عليكم كلوا وتصدقوا وادخروا
   سنن النسائى الصغرى4436عائشة بنت عبد اللهنهيت للدافة التي دفت كلوا وادخروا وتصدقوا
   سنن ابن ماجه3159عائشة بنت عبد اللهعن لحوم الأضاحي لجهد الناس ثم رخص فيها
   سنن ابن ماجه1570عائشة بنت عبد اللهرخص في زيارة القبور
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم349عائشة بنت عبد الله نهى رسول الله عن اكل لحوم الضحايا بعد ثلاث

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 349  
´قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھایا جا سکتا ہے`
«. . . 309- وعن عبد الله بن أبى بكر عن عبد الله بن واقد أنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكل لحوم الضحايا بعد ثلاث، فقال عبد الله بن أبى بكر: فذكرت ذلك لعمرة بنت عبد الرحمن فقالت: صدق، سمعت عائشة زوج النبى صلى الله عليه وسلم تقول: دف ناس من أهل البادية حضرة الأضحى فى زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ادخروا الثلاث وتصدقوا بما بقي، قالت: فلما كان بعد ذلك، قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله، لقد كان الناس ينتفعون بضحاياهم ويجملون منها الودك ويتخذون منها الأسقية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وما ذاك؟، أو كما قال، قالوا: يا رسول الله، نهيت عن إمساك لحوم الضحايا بعد ثلاث، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما نهيتكم من أجل الدافة التى دفت عليكم، فكلوا وتصدقوا وادخروا. . . .»
. . . عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع فرمایا، عبداللہ بن ابی بکر (راوی حدیث) فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اس بات کا ذکر عمرہ بنت عبدالرحمٰن (رحمہا اللہ) سے کیا تو انہوں نے کہا: اُس (عبداللہ بن واقد) نے سچ کہا:، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کے وقت کچھ (خانہ بدوش) لوگ مدینہ آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دن (گوشت کا) ذخیرہ کرو اور باقی صدقہ کر دو۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ! لوگ اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھاتے تھے، چربی پگھلاتے اور (کھالوں کی) مشکیں بناتے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت روکے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں ان لوگوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو تمہارے پاس (مدینہ میں) آئے تھے۔ پس (اب) کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 349]

تخریج الحدیث: [وأخرجه مسلم 1971، من حديث مالك به ● وفي روايته يحيي بن يحيي: للثلاث]
۔ تفقه
➊ علماء کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ تین دنوں سے زیادہ، قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیر کرنے سے ممانعت والا حکم منسوخ ہے دیکھئے [التمهيد 216/3] ۔
➋ حافظ ابن عبد البر نے فرمایا کہ جس طرح قرآن میں ناسخ و منسوخ ہے اسی طرح حدیث میں بھی ناسخ و منسوخ ہے اور یہ اوامر ونواہی (احکام) میں تخفیف و مصالح وغیرہما کے لئے ہوتا ہے۔ اخبار سابقہ میں قطعاً نسخ نہیں ہوتا۔ روافض اور خوارج نے اس کا انکار کرکے یہود کی موافقت کی ہے اور یاد رہے کہ یہ بدأ کہتے ہیں یہ عقیدہ صریحاً کفر ہے۔
➌ ممانعت کے بعد جو حکم ہوتا ہے وہ اباحت پر محمول ہوتا ہے۔ [التمهيد 217/3]
لہٰذا اب یہ جائز ہے کہ ساری قربانی کا گوشت خود کھایا جائے یا سارا صدقہ کر دیا جائے یا پھر ذخیرہ کرلیا جائے۔ بعض علماء اس گوشت کے تین حصے کرنا پسند کرتے تے: ایک تہائی خود کھایا جائے، ایک تہائی صدقہ کردیا جائے اور ایک تہائی ذخیرہ کرلیا جائے لیکن پہلی بات راجح ہے۔ نیز دیکھئے [سورة الحج: 28، 36]
➍ حج کے علاہ دوسرے مقامات مثلاً مدینہ اور ساری زمین پر قربانی کرنا مسنون و مشروع ہے لہٰذ بعض منکرین حدیث کا یہ دعویٰ کہ قربانی حج کے ساتھ مخصوص ہے، غلط ہے۔
➎ بات کی تصدیق یا تحقیق کے لئے کسی دوسرے کے سامنے بیان کرنا نہ صرف جائز بلکہ بہتر امر ہے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 309   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4436  
´قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اعرابیوں (دیہاتیوں) کی ایک جماعت عید الاضحی کے دن مدینے آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور تین دن تک ذخیرہ کر کے رکھو، اس کے بعد لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانی سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کی چربی اٹھا کر رکھ لیتے اور ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے۔ آپ نے فرمایا: تو اب کیا ہوا؟ وہ بولا: جو آپ نے قربانی کے گوشت جمع کر کے رکھنے سے روک دیا، آپ نے فرمایا: میں [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4436]
اردو حاشہ:
گویا پہلے سال آپ کا روکنا مخصوص حالات کی وجہ سے تھا جو اس قافلے کی آمد سے پیدا ہوئے تھے ورنہ اصولی طور پر قربانی کی ہر چیز، مثلاً: گوشت، چربی اور چمڑے وغیرہ سے دیر تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، البتہ فقراء اور سائلین کو دینا بھی ضروری ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 4436   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1570  
´قبروں کی زیارت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کی اجازت دی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1570]
اردو حاشہ:
فائده:
اجازت کا لفظ اسی لئے فرمایا ہے۔
کیونکہ نبی کریم ﷺ نے پہلے قبروں کی زیارت سے منع فرمایا تھا بعد میں اجازت دے دی جیسے کہ اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1570   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.