صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: غزوات کے بیان میں
The Book of Al- Maghazi
84. بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ:
84. باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
(84) Chapter. The sickness of the Prophet and his death.
حدیث نمبر: 4461
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي إسحاق، عن عمرو بن الحارث، قال:" ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم دينارا، ولا درهما، ولا عبدا، ولا امة إلا بغلته البيضاء التي كان يركبها، وسلاحه وارضا جعلها لابن السبيل صدقة".(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:" مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا عَبْدًا، وَلَا أَمَةً إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ الَّتِي كَانَ يَرْكَبُهَا، وَسِلَاحَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا لِابْنِ السَّبِيلِ صَدَقَةً".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالاحوص (سلام بن حکیم) نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ درہم چھوڑے تھے، نہ دینار، نہ کوئی غلام نہ باندی، سوا اپنے سفید خچر کے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوا کرتے تھے اور آپ کا ہتھیار اور کچھ وہ زمین جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں مجاہدوں اور مسافروں کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

Narrated 'Amir bin Al-Harith: Allah's Apostle did not leave a Dinar or a Dirham or a male or a female slave. He left only his white mule on which he used to ride, and his weapons, and a piece of land which he gave in charity for the needy travelers.
USC-MSA web (English) Reference: Volume 5, Book 59, Number 738


   صحيح البخاري2739عمرو بن الحارثما ترك رسول الله عند موته درهما ولا دينارا ولا عبدا ولا أمة ولا شيئا إلا بغلته البيضاء وسلاحه وأرضا جعلها صدقة
   صحيح البخاري3098عمرو بن الحارثإلا سلاحه وبغلته البيضاء وأرضا تركها صدقة
   صحيح البخاري2912عمرو بن الحارثإلا سلاحه وبغلة بيضاء وأرضا جعلها صدقة
   صحيح البخاري2873عمرو بن الحارثإلا بغلته البيضاء وسلاحه وأرضا تركها صدقة
   صحيح البخاري4461عمرو بن الحارثما ترك رسول الله دينارا ولا درهما ولا عبدا ولا أمة إلا بغلته البيضاء التي كان يركبها وسلاحه وأرضا جعلها لابن السبيل صدقة
   سنن النسائى الصغرى3626عمرو بن الحارثما ترك إلا بغلته الشهباء وسلاحه وأرضا تركها صدقة
   سنن النسائى الصغرى3625عمرو بن الحارثما ترك رسول الله إلا بغلته البيضاء وسلاحه وأرضا تركها صدقة
   سنن النسائى الصغرى3624عمرو بن الحارثما ترك رسول الله دينارا ولا درهما ولا عبدا ولا أمة إلا بغلته الشهباء التي كان يركبها وسلاحه وأرضا جعلها في سبيل الله
   بلوغ المرام1233عمرو بن الحارثما ترك رسول الله عند موته درهما ولا دينارا ولا عبدا ولا امة ولا شيئا

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1233  
´مدبر، مکاتب اور ام ولد کا بیان`
سیدنا عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ، ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے بھائی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت نہ کوئی درہم میراث میں چھوڑا اور نہ دینار اور نہ کوئی غلام اور نہ لونڈی اور نہ کوئی اور چیز بس ایک سفید خچر، اپنا اسلحہ جنگ اور کچھ تھوڑی سی زمین جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کر دیا تھا۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1233»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الوصايا، باب الوصايا، حديث:2739، 4461.»
تشریح:
اس حدیث سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے بے رغبتی ثابت ہوتی ہے کیونکہ تریسٹھ کے لگ بھگ لونڈیاں اور غلام آپ کے قبضے میں آئے۔
آپ نے ان سب کو آزاد کر دیا اور اپنے پیچھے کوئی میراث نہیں چھوڑی بلکہ آپ نے فرمایا: انبیاء علیہم السلام درہم و دینار میراث میں نہیں چھوڑتے‘ جو مالی ترکہ چھوڑتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے۔
(مسند أحمد:۲ /۴۶۳‘ وصحیح البخاري‘ الوصایا‘ حدیث:۲۷۷۶‘ و ۳۰۹۶)
راویٔ حدیث:
«حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ» ‏‏‏‏ عمرو بن حارث بن ابی ضرار بن حبیب خزاعی مصطلقی‘ یعنی قبیلہ بنوخزاعہ کی شاخ بنو مصطلق سے تھے۔
شرف صحابیت سے مشرف تھے۔
ان سے یہی ایک حدیث مروی ہے۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 1233   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4461  
4461. حضرت عمرو بن حارث ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے نہ دینار نہ درہم اور نہ کوئی لونڈی اور غلام چھوڑا، صرف ایک سفید خچر تھا جس پر آپ سواری فرمایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ہتھیار اور زمین چھوڑی تھی جسے آپ نے مسافروں کے لیے صدقہ کر دیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4461]
حدیث حاشیہ:
راوی حدیث حضرت عمرو بن حارث ؓ ام المومنین حضرت جویریہ ؓ کے بھائی ہیں۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒ کا مقصودیہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خلافت وغیرہ کے متعلق کسی کو کوئی وصیت نہیں کی، اگر وصیت کی ہے تو اللہ کی کتاب پر عمل کرنے کی ہے یا اپنے چھوڑے ہوئے مال کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ میرے مرنے کے بعد میرا سارا مال صدقہ ہو گا۔
اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔
اس حدیث کی تشریح ہم کتاب الوصایا کے آغاز میں کر آئے ہیں۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 4461   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.