الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
جھگڑوں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب
The Book of Judicial Decisions
2. باب وُجُوبِ الْحُكْمِ بِشَاهِدِ وَّيَمِينٍ
2. باب: ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا۔
Chapter: The obligation of judging on the basis of a witness and an oath
حدیث نمبر: 4472
Save to word اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، ومحمد بن عبد الله بن نمير ، قالا: حدثنا زيد وهو ابن حباب ، حدثني سيف بن سليمان ، اخبرني قيس بن سعد ، عن عمرو بن دينار ، عن ابن عباس ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم " قضى بيمين وشاهد ".وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَيْدٌ وَهُوَ ابْنُ حُبَابٍ ، حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ ".
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قسم اور ایک گواہ سے فیصلہ فرمایا۔ (یعنی ایک گواہ کی موجودگی میں مدعی کی قسم کو دوسرے گواہ کا قائم مقام بنایا
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اور گواہ کی بنیاد پر فیصلہ فرمایا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1712

   صحيح البخاري2668عبد الله بن عباسقضى باليمين على المدعى عليه
   صحيح مسلم4472عبد الله بن عباسبيمين وشاهد
   سنن أبي داود3608عبد الله بن عباسقضى بيمين وشاهد
   سنن أبي داود3619عبد الله بن عباسقضى باليمين على المدعى عليه
   سنن ابن ماجه2370عبد الله بن عباسبالشاهد واليمين
   بلوغ المرام1208عبد الله بن عباسان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قضى بيمين وشاهد
   المعجم الصغير للطبراني1151عبد الله بن عباس قضى باليمين مع الشاهدين
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4472 کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4472  
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر مدعی اپنے دعویٰ پر ایک گواہ پیش کر دے اور دوسرے گواہ کی جگہ قسم اٹھاوے تو اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا،
ائمہ حجاز (مالک،
شافعی،
احمد)

اس کے قائل ہیں،
خلفائے راشدین اور جمہور کا یہی نظریہ ہے اور حدیث مستقل حجت ہے قرآن مجید،
جس مسئلہ کے بارے میں ساکت (خاموش)
ہے،
وہ اخبار آحاد سے ثابت ہو سکتا ہے،
کیونکہ وہ نسخ نہیں ہے،
بیان ہے،
جیسا کہ خود علامہ تقی نے اس کو قبول کیا ہے اور علامہ عینی سے بھی نقل کیا ہے۔
(تکملہ،
ج 2،
ص 564-565)

اس لیے اس حدیث کو قرآن مجید کے معارض اور مخالف قرار دینا محض تقلید کا شاخسانہ ہے،
کیونکہ قرآن مجید نے نصاب شہادت میں تو دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کے بیان کی گواہی کا تذکرہ کیا ہے اور تیسری صورت ایک گواہ اور قسم سے خاموش ہے،
اس کو حدیث نے بیان کر دیا،
اس طرح شاہد اور یمین پر دلالت کرنے والی پانچ احادیث کو ضعیف قرار دینا سینہ زوری ہے،
اس لیے علامہ تقی نے تسلیم کیا ہے کہ لَا مَجَالا لِإِ نْكْار ثُبُوتِها،
ان کے ثبوت کے انکار کی گنجائش نہیں ہے،
تکملہ،
ج 2،
ص 564۔
اور یہ اخبار آحاد نہیں،
بلکہ بقول علامہ تقی احناف کی اصطلاح کی رو سے مشہور ہیں،
ص 563۔
اور احناف کے اصول کے مطابق خبر مشہور سے قرآنی نص کی تخصیص ہو سکتی ہے،
جبکہ جمہور ائمہ کے نزدیک تخصیص بیان ہے،
نسخ نہیں ہے اور خبر واحد سے تخصیص جائز ہے،
الوجیز،
ص 319 (الوجیز فی اصول الفقه)
الدکتور عبدالکریم زیدان۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4472   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2668  
2668. حضرت ابن ابی ملیکہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: حضرت ابن عباس ؓ نے مجھے خط لکھا کہ نبی کریم ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ قسم مدعی علیہ کے ذمے ہوگی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2668]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث میں ہے کہ گواہ پیش کرنے کی ذمہ داری مدعی پر ہے، اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکے تو انکار کرنے والے سے قسم لے کر فیصلہ ہو گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدعا علیہ پر ہر حال میں قسم اٹھانا ہی لازم ہے بشرطیکہ مدعی کے پاس گواہ نہ ہو، خواہ مدعی اور مدعا علیہ میں میل جول اور تعلق ہو یا نہ ہو۔
(2)
امام مالک ؒ کہتے ہیں:
مدعا علیہ سے اس وقت قسم لی جائے گی جب دونوں میں معاملات کا تبادلہ اور دیگر لین دین ہو ورنہ ہر شخص کسی شریف آدمی کو قسم اٹھانے پر مجبور کرتا رہے گا، خواہ اس پر جھوٹا دعویٰ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
امام بخاری ؒ کا موقف ہے کہ دیوانی یا فوجداری دونوں قسم کے مقدمات میں مدعا علیہ سے قسم لی جائے گی کیونکہ احادیث میں اس کے متعلق کوئی فرق نہیں ہے، انہیں اپنے عموم پر رکھا جائے گا۔
ہمارا رجحان بھی اسی طرف ہے۔
واللہ أعلم
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2668   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.