سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل
The Book on the Day of Friday
1. باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
1. باب: جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 488
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا قتيبة، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة، فيه خلق آدم، وفيه ادخل الجنة، وفيه اخرج منها، ولا تقوم الساعة إلا في يوم الجمعة " قال: وفي الباب عن ابي لبابة , وسلمان , وابي ذر , وسعد بن عبادة , واوس بن اوس، قال ابو عيسى: حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح.(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي لُبَابَةَ , وَسَلْمَانَ , وَأَبِي ذَرٍّ , وَسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , وَأَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر دن جس میں سورج نکلا، جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا، اور قیامت بھی اسی دن قائم ہو گی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابولبابہ، سلمان، ابوذر، سعد بن عبادہ اور اوس بن اوس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الجمعة 5 (854)، (تحفة الأشراف: 13882)، مسند احمد (2/401، 148، 451، 486، 501، 540)، وانظر أیضا ما یأتي برقم491 (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دن بڑے بڑے امور سرانجام پائے ہیں کہ جن سے جمعہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (961)، صحيح أبي داود (961)

   سنن النسائى الصغرى1374عبد الرحمن بن صخرخير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه أدخل الجنة وفيه أخرج منها
   سنن النسائى الصغرى1431عبد الرحمن بن صخرخير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه أهبط وفيه تيب عليه وفيه قبض وفيه تقوم الساعة ما على الأرض من دابة إلا وهي تصبح يوم الجمعة مصيخة حتى تطلع الشمس شفقا من الساعة إلا ابن آدم وفيه ساعة لا يصادفها مؤمن وهو في الصلاة يسأل الله فيها شيئا إلا أع
   صحيح مسلم1976عبد الرحمن بن صخرخير يوم طلعت عليه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم فيه أدخل الجنة فيه أخرج منها
   صحيح مسلم1977عبد الرحمن بن صخرخير يوم طلعت عليه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم فيه أدخل الجنة فيه أخرج منها لا تقوم الساعة إلا في يوم الجمعة
   جامع الترمذي488عبد الرحمن بن صخرخير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم فيه أدخل الجنة فيه أخرج منها لا تقوم الساعة إلا في يوم الجمعة
   جامع الترمذي491عبد الرحمن بن صخرخير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم فيه أدخل الجنة فيه أهبط منها فيه ساعة لا يوافقها عبد مسلم يصلي فيسأل الله فيها شيئا إلا أعطاه إياه
   سنن أبي داود1046عبد الرحمن بن صخرخير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم فيه أهبط فيه تيب عليه فيه مات فيه تقوم الساعة ما من دابة إلا وهي مسيخة يوم الجمعة من حين تصبح حتى تطلع الشمس شفقا من الساعة إلا الجن والإنس فيه ساعة لا يصادفها عبد مسلم وهو يصلي يسأل الله حاجة إلا أعطاه
   مسندالحميدي974عبد الرحمن بن صخرلا تعمل المطي إلا إلى ثلاثة مساجد، إلى المسجد الحرام، ومسجدي هذا، ومسجد بيت المقدس
   مسندالحميدي1016عبد الرحمن بن صخرإن في الجمعة لساعة لا يوافقها عبد مسلم قائم يصلي يسأل الله تعالى فيها خيرا إلا أعطاه إياه، وأشار بيده يقللها

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ غلام مصطفٰے ظهير امن پوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن نسائي 1431  
´تین جگہوں کے علاوہ کسی بھی جگہ کی زیارت کا قصد کرنا جائز نہیں`
. . . سواریاں استعمال نہ کی جائیں یعنی سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کی طرف: ایک مسجد الحرام کی طرف، دوسری میری مسجد یعنی مسجد نبوی کی طرف، اور تیسری مسجد بیت المقدس کی طرف . . . [سنن نسائي/كتاب الجمعة: 1431]

فوائد و مسائل:
❀ سیدنا بصرہ بن ابوبصرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت ملا، جب وہ مسجد طور میں نماز پڑھنے کی غرض سے جا رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا اگر آپ کے نکلنے سے پہلے ہماری ملاقات ہو جاتی، تو آپ مسجد طور کی طرف نہ جاتے۔ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ میں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: تین مسجدوں کے علاوہ کسی بھی جگہ کی طرف (تبرک کی نیت سے) رخت سفر نہیں باندھا جا سکتا؛ مسجد حرام، مسجد اقصیٰ اور میری مسجد۔ [مسند الإمام أحمد: 6؍397، وسنده حسن]

❀ شہر بن حوشب تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ ان کے پاس کوہ طور پر نماز کے بارے میں ذکر کیا گیا، تو انہوں نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بھی مسجد کی طرف رخت سفر باندھنا جائز نہیں، سوائے تین مساجد کے، مسجد حرام، مسجد اقصیٰ اور میری یہ مسجد۔ [مسند الإمام أحمد: 3؍64، وسنده حسن]

↰ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سوائے تین مساجد کے کسی بھی مسجد میں خاص ثواب کی نیت سے نماز پڑھنے کے لیے یا کسی بھی جگہ سے تبرک حاصل کرنے کے لیے سفر کرنا جائز نہیں۔ سیدنا بصرہ بن ابوبصرہ، سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم شد رحال والی حدیث کو عموم پر محمول کرتے تھے، جیسا کہ سیدنا ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے کوہ طور پر نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے یہی حدیث پیش کر کے اس سے ممانعت کا فتویٰ دیا۔

شارح صحیح بخاری، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (773-852ھ) لکھتے ہیں:
اس سے مراد یہ ہے کہ ان مسجدوں کے علاوہ کسی بھی جگہ کی طرف (بطور تبرک) سفر کرنا منع ہے۔ علامہ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث کے الفاظ صریح ممانعت سے بھی زیادہ سخت ہیں، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ ان تین جگہوں کے علاوہ کسی بھی جگہ کی زیارت کا قصد کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ خصوصیت انہی جگہوں کو حاصل ہے۔ [فتح الباري: 64/3، شرح الطيبي: 929/3]
   ماہنامہ السنہ جہلم، شمارہ 78-73، حدیث\صفحہ نمبر: 124   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1046  
´جمعہ کے دن اور رات کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا لیے گئے، اسی دن وہ زمین پر اتارے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اور اسی دن قیامت برپا ہو گی، انس و جن کے علاوہ سبھی جاندار جمعہ کے دن قیامت برپا ہونے کے ڈر سے صبح سے سورج نکلنے تک کان لگائے رہتے ہیں، اس میں ایک ساعت (گھڑی) ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کو پا لے، پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کرے تو اللہ اس کو (ضرور) دے گا۔‏‏‏‏ کعب الاحبار نے کہا: یہ ساعت (گھڑی) ہر سال میں کسی ایک دن ہوتی ہے تو میں نے کہا: نہیں بلکہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا، اور کعب کے ساتھ اپنی اس مجلس کے متعلق انہیں بتایا تو آپ نے کہا: وہ کون سی ساعت ہے؟ مجھے معلوم ہے، میں نے ان سے کہا: اسے مجھے بھی بتائیے تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت (گھڑی) ہے، میں نے عرض کیا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت (گھڑی) کیسے ہو سکتی ہے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: کوئی مسلمان بندہ اس وقت کو اس حال میں پائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو، اور اس وقت میں نماز تو نہیں پڑھی جاتی ہے تو اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے، وہ حکماً نماز ہی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھ لے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے، انہوں نے کہا: تو اس سے مراد یہی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1046]
1046۔ اردو حاشیہ:
➊ اس حدیث سے جمعۃ المبارک کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ حدیث جمعۃ المبارک کے دن خصوصاًً آخری ساعت میں دعا مانگنے اور اس کی قبولیت پر دلالت کرتی ہے۔
➋ حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالے جانے اور زمین پر اتارے جانے کو روز جمعہ کی فضیلت میں اس لئے شمار کیا گیا ہے کہ اس سے زمین کی آبادی، نبیوں، رسولوں اور صالحین کا ظہور، اللہ کی شریعت پر عمل درآمد اور اس کے تقرب کا حصول عدل و انصاف کا قیام اور فضل و احسان کا ظہور ہوا اسی طرح اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کو اس دن کی فضیلت میں شمار کیا گیا ہے۔ کیونکہ مومن اس دارالامتحان سے نکل کر اپنے اللہ کے حضور پہنچتا ہے۔
➌ حیوانات میں بھی اپنے خالق کی معرفت حتیٰ کہ قیامت کا خوف ودیعت کیا گیا ہے۔
➍ ظہور قیامت کا عمل طلوع شمس سے پہلے ہی شروع ہو جائے گا۔
➎ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں قبول فرماتا ہے مگر ضروری ہے کہ داعی نے دعا میں لازمی شرطیں ملحوظ رکھی ہوں۔ نیز قبولیت کی نوعتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔
➏ یہ مقبول ساعت پورے دن میں مخفی رکھی گئی ہے تاہم اس حدیث کی روشنی میں دن کی آخری گھڑیوں میں اس کا ہونا زیادہ متوقع ہے۔
➐ کعب احبار کبار تابعین میں سے ہیں جو پہلے یہودی تھے اور «مخضرمين» میں سے ہیں۔ ( «مخضر» میں ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو عہد رسالت میں مسلمان ہوئے مگر بوجوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ مل سکے) اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جلیل القدرصحابی ہیں۔ اور قبل از اسلام یہود کے سربرآوردہ علماء میں سے تھے۔
➑ شریعت محدیہ مطہرہ علی صاحبھا الصلواۃ والسلام سابقہ کتب منزل من اللہ کی تصدیق کرتی ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1046   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 488  
´جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر دن جس میں سورج نکلا، جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا، اور قیامت بھی اسی دن قائم ہو گی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 488]
اردو حاشہ:
1؎:
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دن بڑے بڑے امور سر انجام پائے ہیں کہ جن سے جمعہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 488   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.