الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
امور حکومت کا بیان
The Book on Government
41. باب ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ:
41. باب: شہید کے لیے جنت کا ثابت ہونا۔
Chapter: Affirmation of Paradise for the Martyr
حدیث نمبر: 4917
Save to word اعراب
حدثنا محمد بن حاتم ، حدثنا عفان ، حدثنا حماد ، اخبرنا ثابت ، عن انس بن مالك ، قال: جاء ناس إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالوا: ان ابعث معنا رجالا يعلمونا القرآن والسنة، فبعث إليهم سبعين رجلا من الانصار يقال لهم القراء، فيهم خالي حرام يقرءون القرآن ويتدارسون بالليل يتعلمون، وكانوا بالنهار يجيئون بالماء فيضعونه في المسجد ويحتطبون، فيبيعونه ويشترون به الطعام لاهل الصفة وللفقراء، فبعثهم النبي صلى الله عليه وسلم إليهم فعرضوا لهم فقتلوهم قبل ان يبلغوا المكان، فقالوا: اللهم بلغ عنا نبينا انا قد لقيناك فرضينا عنك ورضيت عنا، قال: واتى رجل حراما خال انس من خلفه، فطعنه برمح حتى انفذه، فقال: حرام فزت ورب الكعبة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحابه: " إن إخوانكم قد قتلوا وإنهم قالوا: اللهم بلغ عنا نبينا انا قد لقيناك فرضينا عنك ورضيت عنا ".حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: أَنِ ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ، فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُونَ بِاللَّيْلِ يَتَعَلَّمُونَ، وَكَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَاءِ فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُونَ، فَيَبِيعُونَهُ وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ وَلِلْفُقَرَاءِ، فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَعَرَضُوا لَهُمْ فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَكَانَ، فَقَالُوا: اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا، قَالَ: وَأَتَى رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ، فَطَعَنَهُ بِرُمْحٍ حَتَّى أَنْفَذَهُ، فَقَالَ: حَرَامٌ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " إِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ قُتِلُوا وَإِنَّهُمْ قَالُوا: اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا ".
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیج دیں جو (ہمیں) قرآن اور سنت کی تعلیم دیں۔ آپ نے ان کے ساتھ ستر انصاری بھیج دیے جنہیں قراء کہا جاتا تھا، ان میں میرے ماموں حضرت حرام (بن ملحان رضی اللہ عنہ) بھی تھے، یہ لوگ رات کے وقت قرآن پڑھتے تھے، ایک دوسرے کو سناتے تھے، قرآن کی تعلیم حاصل کرتے تھے، اور دن کو مسجد میں پانی لا کر رکھتے تھے اور جنگل سے لکڑیاں لا کر فروخت کرتے اور اس سے اصحاب صفہ اور فقراء کے لیے کھانا خریدتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان (آنے والے کافروں) کی طرف بھیجا اور انہوں نے منزل پر پہنچنے سے پہلے (راستے ہی میں دھوکے سے) ان پر حملہ کر دیا اور انہیں شہید کر دیا، اس وقت انہوں نے کہا: اے اللہ! ہماری طرف سے ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہماری تجھ سے ملاقات ہو گئی ہے، ہم تجھ سے راضی ہو گئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے۔ اس سانحے میں ایک شخص نے پیچھے سے آ کر انس رضی اللہ عنہ کے ماموں، حرام (بن ملحان) رضی اللہ عنہ کو اس طرح نیزہ مارا کہ وہ آر پار ہو گیا تو انہوں نے کہا: رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: "تمہارے بھائی شہید کر دیے گئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے: "اے اللہ! ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم نے تجھ سے ملاقات کر لی ہے، ہم تجھ سے راضی ہو گئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے۔"
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگے، آپ ہمارے ساتھی کچھ آدمی روانہ فرمائیں، جو ہمیں قرآن و سنت کی تعلیم دیں، تو آپ نے ان کی طرف ستر (70) انصاری آدمی روانہ فرمائے، جنہیں قراء (قرآن پڑھانے والے) کہا جاتا تھا، ان میں میرے ماموں حرام رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے، یہ لوگ قرآن مجید پرھتے تھے اور رات کو قرآن مجید پڑھتے پرھاتے اور سیکھتے اور دن کو پانی لا کر مسجد میں (لوگوں کے استعمال کے لیے) رکھتے اور لکڑیاں کاٹ کر انہیں بیچتے اور اس رقم سے اہل صفہ اور محتاجوں کے لیے خوراک خریدتے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ان کی قوم کی طرف) بھیج دیا، دشمن ان کے سامنے آیا اور انہی مقررہ جگہ تک پہنچنے سے پہلے قتل کر ڈالا، تو انہوں نے دعا کی، اے اللہ! ہماری طرف سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام پہنچا دے، کہ ہم تجھے مل چکے ہیں، ہم تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے ماموں حرام رضی اللہ تعالی عنہ کے پیچھے سے ایک آدمی آیا اور انہیں اس طرح نیزہ مارا کہ وہ پار ہو گیا، تو حضرت حرام ؓ نے کہا، رب کعبہ کی قسم! میں نے منزل کو پا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو بتایا، تمہارے بھائی شہید کر دئیے گئے ہیں اور انہوں نے دعا کی ہے، اے اللہ! ہماری طرف سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھے مل چکے ہیں اور تجھ سے راضی ہو گئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 677

صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4917 کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4917  
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ بئر معونہ کا واقعہ ہے،
کہ ابو براء عامر بن مالک جو ملاعب الاسنۃ کے نام سے معروف تھا،
آپ نے اس کے کہنے پر ان مسلمانوں کو قرآن و سنت کی تعلیم دینے اور کافروں میں تبلیغ کرنے کے لیے،
ستر قراء کو روانہ فرمایا،
حضرت حرام بن ملحان آپ کا خط لے کر ابو براء عامر کے بھتیجے عامر بن طفیل کے پاس گئے،
اس نے کچھ دیکھے بغیر ہی ان کو شہید کر دیا اور اپنی قوم کو ان مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے پکارا،
لیکن انہوں نے ابو براء کے عہد کی بنا پر اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا،
تو اس نے بنو سلیم کے قبائل عصیہ،
رعل اور ذکوان کو بلایا،
وہ حملہ کے لیے تیار ہو گئے اور مسلمانوں کو گھیر کر قتل کر ڈالا،
تفصیل الرحیق میں دیکھیں۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4917   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.