الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
General Behavior (Kitab Al-Adab)
65. باب فِي اللَّعِبِ بِالْحَمَامِ
65. باب: کبوتر بازی کا بیان۔
Chapter: Playing with pigeons.
حدیث نمبر: 4940
Save to word اعراب English
(مرفوع) حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة،" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يتبع حمامة، فقال: شيطان يتبع شيطانة".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً، فَقَالَ: شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کبوتری کا (اپنی نظروں سے) پیچھا کر رہا ہے (یعنی اڑا رہا ہے) تو آپ نے فرمایا: ایک شیطان ایک شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے ۱؎۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأدب 44 (3765)، (تحفة الأشراف: 15012)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/345) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: یعنی دونوں شیطان ہیں، کبوتر اڑانے والا اس لئے شیطان ہے کہ وہ اللہ سے غافل اور بے پرواہ ہے، اور کبوتر اس لئے شیطان ہے کہ وہ اڑانے والے کی غفلت کا سبب بنا ہے۔

Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah ﷺ saw a man pursuing a pigeon. He said: A devil is pursuing a female devil.
USC-MSA web (English) Reference: Book 42 , Number 4922


قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4506)
أخرجه ابن ماجه (3765 وسنده حسن)

   سنن أبي داود4940عبد الرحمن بن صخرشيطان يتبع شيطانة
   سنن ابن ماجه3765عبد الرحمن بن صخرشيطان يتبع شيطانة
سنن ابی داود کی حدیث نمبر 4940 کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4940  
فوائد ومسائل:
کبوتر بازی، بٹیر بازی، مرغ لڑانا وغیرہ سب ناجائز مشاغل ہیں، ہاں اگر بطور تجارت یا زینت گھر میں رکھے ہوں تو جائز ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4940   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.