الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
120. بَابُ : حِلْيَةِ السَّيْفِ
120. باب: تلوار کے دستہ کا بیان۔
Chapter: Adornments of a Sword
حدیث نمبر: 5376
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) اخبرنا ابو داود، قال: حدثنا عمرو بن عاصم، قال: حدثنا همام , وجرير، قالا: حدثنا قتادة، عن انس، قال:" كان نعل سيف رسول الله صلى الله عليه وسلم من فضة، وقبيعة سيفه فضة , وما بين ذلك حلق فضة".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , وَجَرِيرٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ نَعْلُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ، وَقَبِيعَةُ سَيْفِهِ فِضَّةٌ , وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ حِلَقُ فِضَّةٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے نیام کا نچلا حصہ چاندی کا تھا، آپ کی تلوار کا دستہ بھی چاندی کا تھا، اور ان کے درمیان میں چاندی کے حلقے تھے۔

تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الجہاد 71 (2583)، سنن الترمذی/الجھاد 16 (1691)، والشمائل 13 (99)، (تحفة الأشراف: 1146، 1425، 18688) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح


تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5376  
´تلوار کے دستہ کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے نیام کا نچلا حصہ چاندی کا تھا، آپ کی تلوار کا دستہ بھی چاندی کا تھا، اور ان کے درمیان میں چاندی کے حلقے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5376]
اردو حاشہ:
نعل سے مراد وہ چاندی یا لوہا ہے جو تلوار کی میان کے نبیچے لگا ہوتا ہے۔ گویا آپ کی میان میں لوہے کی بجائے چاندی لگی تھی۔ اور قبیعہ سے مراد وہ چاندی یا لوہا ہے جسے تلوار کے دستے کے ایک کنارے میں لگایا جاتا ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 5376   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.