الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
The Book of the Etiquette of Judges
12. بَابُ : تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ}
12. باب: آیت کریمہ: ”جس نے اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ کافر ہیں“ کی تفسیر۔
Chapter: Meaning of the Verse: "And Whosoever Does Not Judge By What Allah Has Revealed, Such Are The Disbelievers"
حدیث نمبر: 5402
Save to word اعراب
(موقوف) اخبرنا الحسين بن حريث، قال: انبانا الفضل بن موسى، عن سفيان بن سعيد، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال:" كانت ملوك بعد عيسى ابن مريم عليه الصلاة والسلام بدلوا التوراة والإنجيل، , وكان فيهم مؤمنون يقرءون التوراة، قيل لملوكهم: ما نجد شتما اشد من شتم يشتمونا هؤلاء , إنهم يقرءون: ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الكافرون سورة المائدة آية 44 , وهؤلاء الآيات مع ما يعيبونا به في اعمالنا في قراءتهم , فادعهم فليقرءوا كما نقرا، وليؤمنوا كما آمنا، فدعاهم فجمعهم وعرض عليهم القتل , او يتركوا قراءة التوراة والإنجيل إلا ما بدلوا منها , فقالوا: ما تريدون إلى ذلك دعونا، فقالت طائفة منهم: ابنوا لنا اسطوانة، ثم ارفعونا إليها، ثم اعطونا شيئا نرفع به طعامنا وشرابنا فلا نرد عليكم، وقالت طائفة منهم: دعونا نسيح في الارض ونهيم ونشرب كما يشرب الوحش فإن قدرتم علينا في ارضكم فاقتلونا، وقالت طائفة منهم: ابنوا لنا دورا في الفيافي ونحتفر الآبار، ونحترث البقول فلا نرد عليكم ولا نمر بكم، وليس احد من القبائل إلا وله حميم فيهم , قال: ففعلوا ذلك , فانزل الله عز وجل: ورهبانية ابتدعوها ما كتبناها عليهم إلا ابتغاء رضوان الله فما رعوها حق رعايتها سورة الحديد آية 27، والآخرون قالوا: نتعبد كما تعبد فلان، ونسيح كما ساح فلان، ونتخذ دورا كما اتخذ فلان، وهم على شركهم لا علم لهم بإيمان الذين اقتدوا به، فلما بعث الله النبي صلى الله عليه وسلم , ولم يبق منهم إلا قليل، انحط رجل من صومعته، وجاء سائح من سياحته، وصاحب الدير من ديره، فآمنوا به , وصدقوه , فقال الله تبارك وتعالى: يايها الذين آمنوا اتقوا الله وآمنوا برسوله يؤتكم كفلين من رحمته سورة الحديد آية 28 , اجرين بإيمانهم بعيسى , وبالتوراة , والإنجيل , وبإيمانهم بمحمد صلى الله عليه وسلم , وتصديقهم قال: ويجعل لكم نورا تمشون به سورة الحديد آية 28 القرآن , واتباعهم النبي صلى الله عليه وسلم قال: لئلا يعلم اهل الكتاب سورة الحديد آية 29 يتشبهون بكم الا يقدرون على شيء من فضل الله سورة الحديد آية 29 الآية".
(موقوف) أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَتْ مُلُوكٌ بَعْدَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بَدَّلُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، , وَكَانَ فِيهِمْ مُؤْمِنُونَ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ، قِيلَ لِمُلُوكِهِمْ: مَا نَجِدُ شَتْمًا أَشَدَّ مِنْ شَتْمٍ يَشْتِمُونَّا هَؤُلَاءِ , إِنَّهُمْ يَقْرَءُونَ: وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ سورة المائدة آية 44 , وَهَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مَعَ مَا يَعِيبُونَّا بِهِ فِي أَعْمَالِنَا فِي قِرَاءَتِهِمْ , فَادْعُهُمْ فَلْيَقْرَءُوا كَمَا نَقْرَأُ، وَلْيُؤْمِنُوا كَمَا آمَنَّا، فَدَعَاهُمْ فَجَمَعَهُمْ وَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلَ , أَوْ يَتْرُكُوا قِرَاءَةَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ إِلَّا مَا بَدَّلُوا مِنْهَا , فَقَالُوا: مَا تُرِيدُونَ إِلَى ذَلِكَ دَعُونَا، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: ابْنُوا لَنَا أُسْطُوَانَةً، ثُمَّ ارْفَعُونَا إِلَيْهَا، ثُمَّ اعْطُونَا شَيْئًا نَرْفَعُ بِهِ طَعَامَنَا وَشَرَابَنَا فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: دَعُونَا نَسِيحُ فِي الْأَرْضِ وَنَهِيمُ وَنَشْرَبُ كَمَا يَشْرَبُ الْوَحْشُ فَإِنْ قَدَرْتُمْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِكُمْ فَاقْتُلُونَا، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: ابْنُوا لَنَا دُورًا فِي الْفَيَافِي وَنَحْتَفِرُ الْآبَارَ، وَنَحْتَرِثُ الْبُقُولَ فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ وَلَا نَمُرُّ بِكُمْ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْقَبَائِلِ إِلَّا وَلَهُ حَمِيمٌ فِيهِمْ , قَالَ: فَفَعَلُوا ذَلِكَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا سورة الحديد آية 27، وَالْآخَرُونَ قَالُوا: نَتَعَبَّدُ كَمَا تَعَبَّدَ فُلَانٌ، وَنَسِيحُ كَمَا سَاحَ فُلَانٌ، وَنَتَّخِذُ دُورًا كَمَا اتَّخَذَ فُلَانٌ، وَهُمْ عَلَى شِرْكِهِمْ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِإِيمَانِ الَّذِينَ اقْتَدَوْا بِهِ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ، انْحَطَّ رَجُلٌ مِنْ صَوْمَعَتِهِ، وَجَاءَ سَائِحٌ مِنْ سِيَاحَتِهِ، وَصَاحِبُ الدَّيْرِ مِنْ دَيْرِهِ، فَآمَنُوا بِهِ , وَصَدَّقُوهُ , فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ سورة الحديد آية 28 , أَجْرَيْنِ بِإِيمَانِهِمْ بِعِيسَى , وَبِالتَّوْرَاةِ , وَالْإِنْجِيلِ , وَبِإِيمَانِهِمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَتَصْدِيقِهِمْ قَالَ: وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ سورة الحديد آية 28 الْقُرْآنَ , وَاتِّبَاعَهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ سورة الحديد آية 29 يَتَشَبَّهُونَ بِكُمْ أَلا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ سورة الحديد آية 29 الْآيَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بعد کئی بادشاہ ہوئے جن ہوں نے تورات اور انجیل کو بدل ڈالا، ان میں کچھ مومن تھے جو توراۃ پڑھتے تھے، ان کے بادشاہوں سے عرض کیا گیا: ہمیں اس سے زیادہ سخت گالی نہیں ملتی جو یہ ہمیں دیتے ہیں، یہ لوگ پڑھتے ہیں جس نے اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ کافر ہیں یہ لوگ اس قسم کی آیات پڑھتے ہیں ور ساتھ ہی وہ چیزیں پڑھتے ہیں جس میں ہمارا عیب نکلتا ہے تو انہیں بلا کر کہو کہ وہ بھی ویسے ہی پڑھیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور اسی طرح کا ایمان لائیں جیسا ہم لائے ہیں، چنانچہ اس (بادشاہ) نے انہیں بلایا اور اکٹھا کیا اور کہا: قتل منظور کرو یا پھر توراۃ اور انجیل کو پڑھنا چھوڑ دو، البتہ وہ پڑھو جو بدل دیا گیا ہے۔ وہ بولے: تمہارا اس سے کیا مقصد ہے؟ ہمیں چھوڑ دو۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہمارے لیے ایک مینار بنا دو اور ہمیں اس پر چڑھا دو پھر ہمیں کھانے پینے کی کچھ چیزیں دے دو، تو ہم تمہارے پاس کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہمیں چھوڑ دو، ہم زمین میں گھومیں ور بھٹکتے پھریں اور جنگلی جانوروں کی طرح پئیں، پھر اگر تم ہمیں اپنی زمین میں دیکھ لو تو مار ڈالنا، ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: ہمارے لیے صحراء و بیابان میں گھر بنا دو، ہم خود کنویں کھود لیں گے اور سبزیاں بولیں گے، پھر پلٹ کر تمہارے پاس نہ آئیں گے اور نہ تمہارے پاس سے گزریں گے، اور کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس کا دوست یا رشتہ دار اس میں نہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ تعالیٰ نے آیت: «ورهبانية ابتدعوها ما كتبناها عليهم إلا ابتغاء رضوان اللہ فما رعوها حق رعايتها» اور جو درویشی انہوں نے خود نکالی تھی ہم نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا سوائے اللہ کی رضا جوئی کے، پھر انہوں نے اس کی بھی پوری رعایت نہیں کی (الحدید: ۲۷) نازل فرمائی، کچھ دوسرے لوگوں نے کہا: ہم بھی فلاں کی طرح عبادت کریں گے اور فلاں کی طرح گھومیں گے اور فلاں کی طرح گھر بنائیں گے حالانکہ وہ شرک میں مبتلا تھے، یہ ان لوگوں کے ایمان سے باخبر نہ تھے جن کی پیروی کا یہ دم بھر رہے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تو ان میں سے بہت تھوڑے سے لوگ بچے تھے، ایک شخص اپنے عبادت خانے سے اترا اور جنگل میں گھومنے والا گھوم کر لوٹا اور گرجا گھر میں رہنے والا گرجا گھر سے لوٹا اور یہ سب کے سب آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وآمنوا برسوله يؤتكم كفلين من رحمته» اے لوگو! جو ایمان رکھتے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کا دوگنا حصہ دے گا (الحدید: ۲۹) دوہرا اجر ان کے عیسیٰ، تورات اور انجیل پر ایمان کے بدلے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور تصدیق کے بدلے، پھر فرمایا: وہ تمہارے چلنے کے لیے ایک روشنی دے گا یعنی قرآن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی تاکہ اہل کتاب یعنی وہ اہل کتاب جو تمہاری مشابہت کرتے ہیں جان لیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5575) (صحیح الإسناد)»

قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف

قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363

سنن نسائی کی حدیث نمبر 5402 کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5402  
اردو حاشہ:
(1) محقق کتاب کے علاوہ دیگر محققین نے اس روایت کو موقوفاً صحیح کہا ہےاور یہی بات درست ہے۔
(2) اس حدیث میں مذکورہ آیت کی تشریح تو نہیں البتہ اس کی مثال ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو بدلنا کفر ہے۔ ظاہر ہے کہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کیا جائے تو وہ حکم بدل جاتا ہے۔ یہ بھی کفر ہے۔ باقی حدیث کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔
(3) سخت نہیں پاتے کیونکہ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں۔
(4) عملی عیب یعنی ہماری عملی خرابیاں بیان کرتے ہیں۔
(5) ہمیں چھوڑ دو گویا کچھ لوگ مناروں پر چڑھ گئے اور وہاں رہ کر عبادت کرنے لگ گئے۔ کچھ ملنگ بن گئے جو بے مقصد ادھر ادھر آبادیوں سے دور تعلق نہ رہا اور بد عمل لوگ یہی چاہتے تھے کہ کوئی روک ٹوک کرنے والا نہ رہے۔
(6) رہبانیت ترک کر دینا، یعنی لوگوں سے الگ تھلگ رہنا حتیٰ کہ معاشرتی معاملات، مثلاً: نکاح، کاروبار، لین دین اور تعلقات سے بھی منہ موڑ لینا۔ ظاہر ہے شریعت میں اس کے خلاف فطرت طریقے کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے؟ شریعت کا مقصود تو لوگوں میں رہ کر اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھنا ہے۔
(7) کچھ دوسرے لوگ یعنی پہلے لوگ تو واقعتاً دین حق پر تھے اور اپنے دین کو بچانے کے لیے مذکورہ طریقے اختیار کر بیٹھےتھے۔ بعد میں کچھ بے دین لوگوں نے بھی ان کی نقالی شروع کردی جو راہب ہونے کے ساتھ ساتھ مشرک اور بے دین بھی تھے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5402   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.