صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: مشروبات کے بیان میں
The Book of Drinks
27. بَابُ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ:
27. باب: سونے کے برتن میں کھانا اور پینا حرام ہے۔
(27) Chapter. To drink in gold utensils.
حدیث نمبر: 5632
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا حفص بن عمر/a>، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابن ابي ليلى، قال:" كان حذيفة بالمداين فاستسقى فاتاه دهقان بقدح فضة فرماه به، فقال: إني لم ارمه إلا اني نهيته فلم ينته وإن النبي صلى الله عليه وسلم نهانا عن الحرير والديباج والشرب في آنية الذهب والفضة، وقال: هن لهم في الدنيا وهي لكم في الآخرة".(مرفوع) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ/a>، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ:" كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَايِنِ فَاسْتَسْقَى فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِقَدَحِ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَرْمِهِ إِلَّا أَنِّي نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَقَالَ: هُنَّ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهِيَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکیم بن ابی لیلیٰ نے، انہوں نے بیان کیا کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے۔ انہوں نے پانی مانگا تو ایک دیہاتی نے ان کو چاندی کے برتن میں پانی لا کر دیا، انہوں نے برتن کو اس پر پھینک مارا پھر کہا میں نے برتن صرف اس وجہ سے پھینکا ہے کہ اس شخص کو میں اس سے منع کر چکا تھا لیکن یہ باز نہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم و دیبا کے پہننے سے اور سونے اور چاندی کے برتن میں کھانے پینے سے منع کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ چیزیں ان کفار کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہیں آخرت میں ملیں گے۔

Narrated Ibn Abi Laila: While Hudhaita was at Mada'in, he asked for water. The chief of the village brought him a silver vessel. Hudhaifa threw it away and said, "I have thrown it away because I told him not to use it, but he has not stopped using it. The Prophet forbade us to wear clothes of silk or Dibaj, and to drink in gold or silver utensils, and said, 'These things are for them (unbelievers) in this world and for you (Muslims) in the Hereafter.' "
USC-MSA web (English) Reference: Volume 7, Book 69, Number 536


   صحيح البخاري5837حذيفة بن حسيلنهانا النبي أن نشرب في آنية الذهب والفضة أن نأكل فيها عن لبس الحرير الديباج وأن نجلس عليه
   صحيح البخاري5632حذيفة بن حسيلهن لهم في الدنيا وهي لكم في الآخرة
   صحيح البخاري5633حذيفة بن حسيللا تشربوا في آنية الذهب الفضة لا تلبسوا الحرير الديباج لهم في الدنيا ولكم في الآخرة
   صحيح البخاري5831حذيفة بن حسيلالذهب والفضة والحرير والديباج هي لهم في الدنيا ولكم في الآخرة
   جامع الترمذي1878حذيفة بن حسيلنهى عن الشرب في آنية الفضة الذهب لبس الحرير الديباج لهم في الدنيا ولكم في الآخرة
   سنن أبي داود3723حذيفة بن حسيلنهى عن الحرير والديباج وعن الشرب في آنية الذهب والفضة وقال هي لهم في الدنيا ولكم في الآخرة
   سنن ابن ماجه3590حذيفة بن حسيلهو لهم في الدنيا ولنا في الآخرة
   سنن ابن ماجه3414حذيفة بن حسيلهي لهم في الدنيا وهي لكم في الآخرة
   مسندالحميدي444حذيفة بن حسيللا تشربوا في آنية الفضة والذهب، ولا تلبسوا الديباج والحرير؛ فإنه لهم في الدنيا ولكم في الآخرة
   مسندالحميدي445حذيفة بن حسيل

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3414  
´چاندی کے برتن میں پینے کا بیان۔`
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا ہے، آپ کا ارشاد ہے: یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3414]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
سونے چاندی کے برتنوں کا استعمال کافروں کی عادت ہے۔

(2)
کافروں کی عادت اختیار کرنا مسلمانوں کے لئے منع ہے۔

(3)
جو شخص دنیا میں اللہ کی منع کردہ اشیاء سے پرہیز کرتا ہے جنت میں اسے خاص نعمتیں حاصل ہوں گی۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3414   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1878  
´سونے اور چاندی کے برتن میں پینے کی کراہت کا بیان۔`
ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ حذیفہ رضی الله عنہ نے ایک آدمی سے پانی طلب کیا تو اس نے انہیں چاندی کے برتن میں پانی دیا، انہوں نے پانی کو اس کے منہ پر پھینک دیا، اور کہا: میں اس سے منع کر چکا تھا، پھر بھی اس نے باز رہنے سے انکار کیا ۱؎، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے، اور ریشم پہننے سے اور دیباج سے اور فرمایا: یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1878]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی میں نے اسے پہلے ہی ان برتنوں کے استعمال سے منع کردیاتھا،
لیکن منع کرنے کے باوجود جب یہ باز نہ آیا تبھی میں نے اس کے چہرہ پر یہ پانی پھینکا تاکہ آئندہ اس کا خیال رکھے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1878   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3723  
´سونے اور چاندی کے برتن میں کھانا پینا منع ہے۔`
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے، آپ نے پانی طلب کیا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا تو آپ نے اسے اسی پر پھینک دیا، اور کہا: میں نے اسے اس پر صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں اسے منع کر چکا ہوں لیکن یہ اس سے باز نہیں آیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور دیبا پہننے سے اور سونے، چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے، اور فرمایا ہے: یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3723]
فوائد ومسائل:
فائدہ: ریشم اور سونا بطور زیور اور لباس عورتوں کےلئے حلال ہیں۔
مردوں کےلئے صرف چاندی مباح ہے۔
جبکہ سونا اور ریشم حرام ہیں۔
سونے چاندی کے برتن سبھی کےلئے حرام ہیں۔
اسی طرح ریشمی بچھونا بھی مردوں کےلئے بالاتفاق حرام ہے۔
اور عورتوں کےلئے بعض لوگ حلال سمجھتے ہیں۔
بعض حرام۔
(فتح الباري، اللباس، باب افتراش الحریر) لیکن احتیاط ہی بہتر ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3723   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5632  
5632. حضرت ابی لیلیٰ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ حضرت حذیفہ ؓ مدائن میں تھے انہوں نے پانی مانگا تو ایک دیہاتی نے ان کو چاندی کے برتن میں پانی لا کر دیا، انہوں نے برتن اس پر پھینک مارا اور فرمایا کہ میں نے برتن صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں اس شخص کو منع کر چکا تھا لیکن یہ باز نہیں آیا۔ بلاشبہ نبی ﷺ نے ہمیں ریسشم اور دیبا پہننے سے اور سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع فرمایا ہے۔ آپ نے فرمایا تھا: یہ چیزیں ان (کفار) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہیں آخرت میں ملیں گی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5632]
حدیث حاشیہ:
چاندی سونے کے برتنوں میں مسلمانوں کو کھانا پینا قطعاً حرام ہے مگر اکثر ہوا پر دوڑ نے لگے جو ایسے محرمات کا فخریہ استعمال کرتے ہیں اور اللہ سے نہیں ڈرتے کہ ایسے کاموں کا انجام برا ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد آخرت میں یہ دولت دوزخ کا انگارا بن کر سامنے آئے گی۔
لہٰذا فی الفور ایسے سرمایہ داروں کو ایسی حرکتوں سے باز رہنا ضروری ہے۔
روایت میں شہر مدائن کا ذکر ہے جو دجلہ کے کنارے بغداد سے سات فرسخ کی دوری پر آباد تھا۔
ایران کے بادشاہوں کی راجدھانی کا شہر تھا اور اس جگہ ایوان کسریٰ کی مشہور عمارت تھی اسے خلافت حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فتح کیا۔
لفظ دھقان دال کے کسرہ اور ضمہ دونوں طرح سے ہے۔
ایران میں یہ لفظ سردار قریہ کے لیے مستعمل ہوتا تھا۔
بعد بطور محاورہ دیہاتوں پر بولا جانے لگا۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 5632   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5632  
5632. حضرت ابی لیلیٰ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ حضرت حذیفہ ؓ مدائن میں تھے انہوں نے پانی مانگا تو ایک دیہاتی نے ان کو چاندی کے برتن میں پانی لا کر دیا، انہوں نے برتن اس پر پھینک مارا اور فرمایا کہ میں نے برتن صرف اس لیے پھینکا ہے کہ میں اس شخص کو منع کر چکا تھا لیکن یہ باز نہیں آیا۔ بلاشبہ نبی ﷺ نے ہمیں ریسشم اور دیبا پہننے سے اور سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع فرمایا ہے۔ آپ نے فرمایا تھا: یہ چیزیں ان (کفار) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہیں آخرت میں ملیں گی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5632]
حدیث حاشیہ:
(1)
شہر مدائن، دریائے دجلہ کے کنارے بغداد سے سات فرسنگ (فرسخ)
کی مسافت پر آباد تھا۔
اس جگہ ایوانِ کسریٰ کی عمارت تھی۔
اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فتح کیا۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا کافروں کی عادت ہے۔
کفار کی عادت اختیار کرنے سے مسلمانوں کو منع کیا گیا ہے، البتہ سونے کے زیورات عورتوں کے لیے مباح ہیں۔
مردوں کے لیے صرف چاندی جائز ہے، لیکن سونے چاندی کے برتن مرد عورت دونوں کے لیے حرام ہیں۔
جو شخص دنیا میں اللہ تعالیٰ کی منع کی ہوئی چیزوں سے پرہیز کرے گا جنت میں اسے خاص نعمتیں حاصل ہوں گی۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 5632   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.