الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
14. باب فِي سخَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
14. باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا بیان۔
حدیث نمبر: 6022
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني ابو الطاهر احمد بن عمرو بن سرح ، اخبرنا عبد الله بن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، قال: " غزا رسول الله صلى الله عليه وسلم، غزوة الفتح، فتح مكة، ثم خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم، بمن معه من المسلمين، فاقتتلوا بحنين، فنصر الله دينه والمسلمين، واعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم، يومئذ صفوان بن امية مائة من النعم، ثم مائة، ثم مائة ". قال ابن شهاب : حدثني سعيد بن المسيب ، ان صفوان ، قال: والله لقد اعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم، ما اعطاني، وإنه لابغض الناس إلي، فما برح يعطيني، حتى إنه لاحب الناس إلي.وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: " غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَزْوَةَ الْفَتْحِ، فَتْحِ مَكَّةَ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ، فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ، ثُمَّ مِائَةً، ثُمَّ مِائَةً ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ صَفْوَانَ ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَعْطَانِي، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي، حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ.
یو نس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح یعنی فتح مکہ کے لیے جہاد کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مسلمانوں کے ساتھ جو آپ کے ہمراہ تھے نکلے اور حنین میں خونریز جنگ کی، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرما ئی، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے، پھر سواونٹ پھر سواونٹ۔ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے یہ بیان کیا کہ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فرمایا، مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرما تے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے۔
ابن شہاب بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح مکہ کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مسلمانوں ساتھیوں کے ساتھ نکلے اور حنین میں جنگ لڑی تو اللہ نے اپنے دین اور مسلمانوں کی نصرت فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن صفوان بن امیہ کو سو اونٹ دیے، پھر سو اونٹ دیئے، ابن شہاب کہتے ہیں مجھے سعید بن المسیب نے بتایا، صفوان نے کہا، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا، جو بھی عطا فرمایا، جبکہ آپصلی اللہ علیہ وسلم مجھے تمام لوگوں سے زیادہ مبغوض تھے، سو آپ مجھے (اس کے باوجود) دیتے رہے حتی کہ آپ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 2313


تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6022  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
صفوان بن امیہ جنگ حنین کے وقت مشرک تھا اور فتح مکہ کی بنا پر آپ کا شدید مخالف تھا،
لیکن آپ نے تالیف قلبی کرتے ہوئے،
اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں اس کو غنائم حنین سے اتنا کچھ دیا کہ وہ اسلام لانے پر مجبور ہو گیا،
کیونکہ وہ سمجھ گیا کہ یہ کام پیغمبر کے بغیر کوئی اور دنیوی لیڈر یا سردار نہیں کر سکتا۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 6022   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.