صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
21. باب طِيبِ رَائِحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِينِ مَسِّهِ وَالتَّبَرُّكِ بِمَسْحِهِ:
21. باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن کی خوشبو اور نرمی کا بیان۔
حدیث نمبر: 6054
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني احمد بن سعيد بن صخر الدارمي ، حدثنا حبان ، حدثنا حماد ، حدثنا ثابت ، عن انس ، قال: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ازهر اللون، كان عرقه اللؤلؤ، إذا مشى تكفا، ولا مسست ديباجة، ولا حريرة، الين من كف رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا شممت مسكة، ولا عنبرة، اطيب من رائحة رسول الله صلى الله عليه وسلم ".وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ، كَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ، وَلَا مَسِسْتُ دِيبَاجَةً، وَلَا حَرِيرَةً، أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمِمْتُ مِسْكَةً، وَلَا عَنْبَرَةً، أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حماد نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ مبارک سفید، چمکتا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ مبارک موتی کی طرح تھا اور جب چلتے تو اور میں نے دیباج اور حریر بھی اتنا نرم نہیں پایا جتنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی نرم تھی اور میں نے مشک اور عنبر میں بھی وہ خوشبو نہ پائی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں تھی۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ مبارک سفید، چمکدار تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ گویا موتی ہے، (صفائی اور سفیدی میں) جب آپ چلتے، آگے کو جھک کر چلتے اور میں نے کوئی دیباج یا کوئی ریشم رسول اللہ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہیں چھوا اور نہ کوئی کستوری یا عنبر رسول اللہ کے بدن کی خوشبو سے بہتر سونگھا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 2330

   صحيح البخاري3548أنس بن مالكليس بالطويل البائن ولا بالقصير لا بالأبيض الأمهق وليس بالآدم ليس بالجعد القطط ولا بالسبط بعثه الله على رأس أربعين سنة أقام بمكة عشر سنين بالمدينة عشر سنين توفاه الله ليس في رأسه ولحيته عشرون شعرة بيضاء
   صحيح البخاري5906أنس بن مالكضخم اليدين لم أر بعده مثله شعر النبي رجلا لا جعد ولا سبط
   صحيح البخاري3547أنس بن مالكربعة من القوم ليس بالطويل ولا بالقصير أزهر اللون ليس بأبيض أمهق ولا آدم ليس بجعد قطط ولا سبط رجل أنزل عليه وهو ابن أربعين لبث بمكة عشر سنين ينزل عليه بالمدينة عشر سنين قبض وليس في رأسه ولحيته عشرون شعرة بيضاء
   صحيح البخاري5900أنس بن مالكليس بالطويل البائن ولا بالقصير ليس بالأبيض الأمهق وليس بالآدم ليس بالجعد القطط ولا بالسبط بعثه الله على رأس أربعين سنة فأقام بمكة عشر سنين بالمدينة عشر سنين توفاه الله على رأس ستين سنة ليس في رأسه ولحيته عشرون شعرة بيضاء
   صحيح البخاري5907أنس بن مالكضخم اليدين والقدمين حسن الوجه لم أر بعده ولا قبله مثله بسط الكفين
   صحيح البخاري3550أنس بن مالككان شيء في صدغيه
   صحيح مسلم6054أنس بن مالكأزهر اللون كأن عرقه اللؤلؤ إذا مشى تكفأ لا مسست ديباجة ولا حريرة ألين من كفه لا شممت مسكة ولا عنبرة أطيب من رائحته
   صحيح مسلم6089أنس بن مالكليس بالطويل البائن ولا بالقصير ليس بالأبيض الأمهق ولا بالآدم لا بالجعد القطط ولا بالسبط بعثه الله على رأس أربعين سنة أقام بمكة عشر سنين بالمدينة عشر سنين توفاه الله على رأس ستين سنة ليس في رأسه ولحيته عشرون شعرة بيضاء
   جامع الترمذي3623أنس بن مالكلم يكن رسول الله بالطويل البائن ولا بالقصير المتردد لا بالأبيض الأمهق ولا بالآدم وليس بالجعد القطط ولا بالسبط بعثه الله على رأس أربعين سنة أقام بمكة عشر سنين بالمدينة عشر سنين توفاه الله على رأس ستين سنة ليس في رأسه ولحيته عشرون شعرة
   جامع الترمذي1754أنس بن مالكليس بالطويل ولا بالقصير حسن الجسم أسمر اللون شعره ليس بجعد ولا سبط إذا مشى يتوكأ
   سنن النسائى الصغرى5090أنس بن مالكلم يكن يخضب الشمط عند العنفقة يسيرا وفي الصدغين يسيرا وفي الرأس يسيرا
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم622أنس بن مالكليس بالطويل البائن ولا بالقصير، وليس بالابيض الامهق وليس بالآدم
   المعجم الصغير للطبراني861أنس بن مالك ربعة من القوم ليس بالطويل البائن ولا بالقصير ، وكان أزهر ليس بالأبيض الأمهق ولا بالآدم ، وكان رجل الشعر ، ليس بالجعد القطط ولا بالسبط ، بعث وهو ابن أربعين ، فأقام بمكة عشرا وبالمدينة عشرا ، ومات وهو ابن ستين ليس فى رأسه ، ولا فى لحيته عشرون شعرة بيضاء

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 622  
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان`
«. . . عن انس بن مالك انه سمعه يقول: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس بالطويل البائن ولا بالقصير، وليس بالابيض الامهق وليس بالآدم . . .»
. . . سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے قد کے تھے، آپ نہ بالکل سیدھے تھے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 622]

تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 3548، ومسلم 2347، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ اس حدیث میں صرف دہائیاں بیان کی گئی ہیں جبکہ دوسری صحیح حدیث میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ (63) سال کی عمر میں وفات پائی۔ دیکھئے [صحيح بخاري 3536، وصحيح مسلم 2349]
➋ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمام لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت چہرے والے تھے اور خلقت میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔ [صحيح بخاري: 3549 و صحيح مسلم: 2336، دارالسلام 6066]
آپ کا چہرہ مبارک چاند کی طرح خوبصورت تھا۔ [صحيح بخاري: 3552] مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: [الرسول كانك تراه] (آئینہ جمال نبوت) یہ کتاب میری تحقیق سے چھپ چکی ہے۔ والحمدللہ
➌ اللہ کی مخلوقات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اعلیٰ، سب سے افضل، سب سے خوبصورت اور صفاتِ عالیہ میں سب سے بلند ہیں۔ فداہ أبی و أمی
➍ دین اسلام مکمل حالت میں ہم تک پہنچا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت، سیرت، سنت، احکام اور تقریرات سب محفوظ و مدوّن ہیں۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 159   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3623  
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بعثت اور بعثت کے وقت آپ کی عمر کا بیان`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت لمبے قد والے تھے نہ بہت ناٹے اور نہ نہایت سفید، نہ بالکل گندم گوں، آپ کے سر کے بال نہ گھنگرالے تھے نہ بالکل سیدھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیسویں سال کے شروع میں مبعوث فرمایا، پھر مکہ میں آپ دس برس رہے اور مدینہ میں دس برس اور ساٹھویں برس ۱؎ کے شروع میں اللہ نے آپ کو وفات دی اور آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں رہے ہوں گے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3623]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ آپﷺ ساتھ (60) برس کے تھے ان لوگوں نے کسور عدد کو چھوڑ کر صرف دہائیوں کے شمار پر اکتفا کیا ہے،
اور جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ آپ پینسٹھ سال کے تھے تو ان لوگوں نے سن وفات اور سن پیدائش کو بھی شمار کر لیا ہے،
لیکن سب سے صحیح قول ان لوگوں کا ہے جو ترسٹھ (63) برس کے قائل ہیں،
کیوں کہ ترسٹھ برس والی روایت زیادہ صحیح ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3623   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6054  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے،
آپ کا رنگ انتہائی خوبصورت اور بدن انتہائی نرم اور گداز تھا اور اس سے انتہائی معطر پسینہ نکلتا تھا،
جس کے قطرے موتی کی طرح صاف شفاف اور سفید ہوتے تھے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 6054   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.