صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
زہد اور رقت انگیز باتیں
3. باب فَضْلِ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ:
3. باب: مسجد بنانے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 7471
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا زهير بن حرب ، ومحمد بن المثنى كلاهما، عن الضحاك ، قال ابن المثنى، حدثنا الضحاك بن مخلد، اخبرنا عبد الحميد بن جعفر ، حدثني ابي ، عن محمود بن لبيد ، ان عثمان بن عفان اراد بناء المسجد، فكره الناس ذلك واحبوا ان يدعه على هيئته، فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " من بنى مسجدا لله بنى الله له في الجنة مثله "،حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى كلاهما، عَنْ الضَّحَّاكِ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَرَادَ بِنَاءَ الْمَسْجِدِ، فَكَرِهَ النَّاسُ ذَلِكَ وَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعَهُ عَلَى هَيْئَتِهِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ "،
ضحاک بن مخلد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبد الحمید بن جعفر نے خبر دی کہا: ہمیں میرے والد نے محمود بن لبید سے حدیث بیان کی کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مسجد بنانے کا ارداہ کیا تو لوگوں نے اس کو ناپسند کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس (مسجد) کو اس کی اصل حالت پر رہنے دیا جائے تو انھوں (عثمان رضی اللہ عنہ) نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں اس کے مانند گھر بنائے گا۔"
محمود بن لبید کہتے ہیں،حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا ارادہ کیا،تو لوگوں نے اس کوناپسند کیا اور چاہا کہ وہ اسے اس کی شکل وصورت میں رہنے دیں،توانہوں نےکہا،میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے،"جو اللہ کے لیے مسجد بنائےگا،اللہ اس کےلیے ویساہی جنت میں(گھر) بنائےگا۔"
ترقیم فوادعبدالباقی: 533

   صحيح البخاري450عثمان بن عفانمن بنى مسجدا يبتغي به وجه الله بنى الله له مثله في الجنة
   صحيح مسلم1190عثمان بن عفانمن بنى مسجدا لله بنى الله له في الجنة مثله
   صحيح مسلم1189عثمان بن عفانمن بنى مسجدا لله يبتغي به وجه الله بنى الله له بيتا في الجنة
   صحيح مسلم7471عثمان بن عفانمن بنى مسجدا لله بنى الله له في الجنة مثله
   صحيح مسلم7471عثمان بن عفانمن بنى مسجدا يبتغي به وجه الله بنى الله له مثله في الجنة
   جامع الترمذي318عثمان بن عفانمن بنى لله مسجدا بنى الله له مثله في الجنة
   سنن ابن ماجه736عثمان بن عفانمن بنى لله مسجدا بنى الله له مثله في الجنة
   المعجم الصغير للطبراني166عثمان بن عفان من بنى لله مسجدا بنى الله له بيتا فى الجنة
   المعجم الصغير للطبراني174عثمان بن عفان من بنى لله مسجدا بنى الله له بيتا فى الجنة
   صحيح البخاري450عثمان بن عفانمن بنى مسجدا يبتغي به وجه الله بنى الله له مثله في الجنة
   صحيح مسلم1190عثمان بن عفانمن بنى مسجدا لله بنى الله له في الجنة مثله
   صحيح مسلم1189عثمان بن عفانمن بنى مسجدا لله يبتغي به وجه الله بنى الله له بيتا في الجنة
   صحيح مسلم7471عثمان بن عفانمن بنى مسجدا لله بنى الله له في الجنة مثله
   صحيح مسلم7471عثمان بن عفانمن بنى مسجدا يبتغي به وجه الله بنى الله له مثله في الجنة
   جامع الترمذي318عثمان بن عفانمن بنى لله مسجدا بنى الله له مثله في الجنة
   سنن ابن ماجه736عثمان بن عفانمن بنى لله مسجدا بنى الله له مثله في الجنة
   المعجم الصغير للطبراني166عثمان بن عفان من بنى لله مسجدا بنى الله له بيتا فى الجنة
   المعجم الصغير للطبراني174عثمان بن عفان من بنى لله مسجدا بنى الله له بيتا فى الجنة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث736  
´اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنانے والے کی فضیلت۔`
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا جوئی کے لیے مسجد بنوائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 736]
اردو حاشہ:
(1)
  اللہ کے لیے مسجد بنانے کا مطلب یہ ہے کہ خلوص سے یہ عمل کیا جائے۔
اخلاص کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 736   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث736  
´اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنانے والے کی فضیلت۔`
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا جوئی کے لیے مسجد بنوائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 736]
اردو حاشہ:
(1)
  اللہ کے لیے مسجد بنانے کا مطلب یہ ہے کہ خلوص سے یہ عمل کیا جائے۔
اخلاص کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 736   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 318  
´مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان۔`
عثمان بن عفان رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائی، تو اللہ اس کے لیے اسی جیسا گھر بنائے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 318]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ مثلیت کمیت کے اعتبار سے ہو گی،
کیفیت کے اعتبار سے یہ گھر اس سے بہت بڑھا ہوا ہو گا۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 318   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 318  
´مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان۔`
عثمان بن عفان رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائی، تو اللہ اس کے لیے اسی جیسا گھر بنائے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 318]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ مثلیت کمیت کے اعتبار سے ہو گی،
کیفیت کے اعتبار سے یہ گھر اس سے بہت بڑھا ہوا ہو گا۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 318   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7471  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مِثله ویسا ہی کا یہ معنی نہیں ہے،
اس حجم اور پیمائش کا،
یا اس جیسے مسالہ کا،
بلکہ مراد ہے،
جس حسن نیت اور عمدگی سے بنائے گا،
اس طرح اس کو اعلیٰ اور عمدہ جنت کا گھر ملے گا،
کیونکہ جنت کی نظیر و تمثیل تو دنیا میں ہےہی نہیں اور نہ ہوسکتی ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 7471   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.