صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
زہد اور رقت انگیز باتیں
5. باب تَحْرِيم الْرَيَاءِ
5. باب: ریا اور نمائش کی حرمت۔
حدیث نمبر: 7475
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني حدثني زهير بن حرب ، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم ، اخبرنا روح بن القاسم ، عن العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قال الله تبارك وتعالى: انا اغنى الشركاء عن الشرك، من عمل عملا اشرك فيه معي غيري تركته وشركه ".حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ شریک بنائے جانے والوں میں سب سے زیادہ میں شراکت سے مستغنی ہوں۔جس شخص نے بھی کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی اور کوشریک کیا تو میں اسے اس کے شرک کے ساتھ اکیلاچھوڑدیتا ہوں۔"
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے،میں شریکوں کی شراکت اور حصہ داروں سے بالکل بے نیاز ہوں،جس نے کوئی کام کیا،جس میں میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا،میں اس کو اس کےشریک کے ساتھ چھوڑدوں گا۔"
ترقیم فوادعبدالباقی: 2985

   صحيح مسلم7475عبد الرحمن بن صخرأنا أغنى الشركاء عن الشرك من عمل عملا أشرك فيه معي غيري تركته وشركه
   سنن ابن ماجه4202عبد الرحمن بن صخرأنا أغنى الشركاء عن الشرك فمن عمل لي عملا أشرك فيه غيري فأنا منه بريء وهو للذي أشرك

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4202  
´ریا اور شہرت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں تمام شرکاء کے شرک سے مستغنی اور بے نیاز ہوں، جس نے کوئی عمل کیا، اور اس میں میرے علاوہ کسی اور کو شریک کیا، تو میں اس سے بری ہوں، اور وہ اسی کے لیے ہے جس کو اس نے شریک کیا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4202]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کسی اور کو شریک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دکھاوے کے لیے کام کیا جائے جس کے ذریعے سے اسے دنیوی مفاد حاصل ہو یا لوگوں کی نظر میں متقی اور پارسا کہلائے۔

(2)
ایسا عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔

(3)
وہ عمل دوسرے کے لیے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی اس کا کوئی ثواب نہیں دیتا۔
اگر ریا کار ثواب کا طالب ہے تو اسی انسان سے ثواب لے جس کو دکھانے کے لیے اس نے کام کیا ہے۔
ظاہر ہے انسان دوسرے انسان کو نیکی کا بدلہ نہیں دے سکتا اس لیے قیامت کے دن ریا کار کو شرمندگی ہوگی۔
اور اسے عمل کا کوئی ثواب یا فائدہ نہیں ملے گا۔

(4)
ریاکاری شرک اصغر ہے، اس سے وہ عمل تباہ ہوجاتا ہے جس میں ریا شامل ہو تاہم یہ شرک اکبر نہیں جس کی سزا دائمی جہنم ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 4202   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7475  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
کوئی انسان،
کوئی اچھا اور نیک کام کرتا ہے اور اس کی نیت میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا حصول نہیں بلکہ کسی اور کو خوش کرنایاکوئی مفاد مطلوب ہے،
تو اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو اس کے شریک کے لیے رہنے دیتا ہے،
اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت نہیں بخشتا یا اس انسان کو اس کے شرک کے حوالہ کردیتا ہے اور وہ آدمی آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ سے لوٹ جاتا ہے،
یعنی صرف اپنے مفادات کا اور دوسروں کی رضا کا اسیر بن کر رہ جاتا ہے،
اس لیے شرک کا لفظ مصدری معنی اور شریک کے معنی دونوں کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 7475   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.