الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: قبلہ کے احکام و مسائل
The Book of the Qiblah
22. بَابُ : الصَّلاَةِ فِي الشِّعَارِ
22. باب: جسم سے لگے کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔
Chapter: Praying in a blanket
حدیث نمبر: 774
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا عمرو بن منصور، قال: حدثنا هشام بن عبد الملك، قال: حدثنا يحيى بن سعيد، قال: حدثنا جابر بن صبح، قال: سمعت خلاس بن عمرو يقول: سمعت عائشة تقول" كنت انا ورسول الله صلى الله عليه وسلم ابو القاسم في الشعار الواحد وانا حائض طامث فإن اصابه مني شيء غسل ما اصابه لم يعده إلى غيره وصلى فيه، ثم يعود معي فإن اصابه مني شيء فعل مثل ذلك لم يعده إلى غيره".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ، قال: سَمِعْتُ خِلَاسَ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ" كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو الْقَاسِمِ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ وَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ يَعُودُ مَعِي فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ لَمْ يَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اکرم ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جسم سے لگے ایک ہی کپڑے میں سوتے اور میں حائضہ ہوتی، اگر مجھ سے آپ کو کچھ (خون) لگ جاتا تو آپ جتنی جگہ میں لگتا اسی کو دھو لیتے اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے، پھر واپس آ کر میرے ساتھ لیٹتے، اگر پھر مجھ سے کچھ (خون) لگ جاتا تو آپ پھر ویسے ہی کرتے، اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 285 (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: «شعار»: اس کپڑے کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم سے ملا ہوا ہوتا ہے، جیسے کرتے کے نیچے بنیان، یا بغیر بنیان کے کرتا اور چادر وغیرہ، یہاں چادر ہی مراد ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

   سنن النسائى الصغرى285عائشة بنت عبد اللهإن أصابه مني شيء غسل مكانه ولم يعده وصلى فيه ثم يعود فإن أصابه مني شيء فعل مثل ذلك ولم يعده وصلى فيه
   سنن النسائى الصغرى372عائشة بنت عبد اللهإن أصابه مني شيء غسل مكانه لم يعده ثم صلى فيه ثم يعود فإن أصابه مني شيء فعل مثل ذلك غسل مكانه لم يعده وصلى فيه
   سنن النسائى الصغرى774عائشة بنت عبد اللهإن أصابه مني شيء غسل ما أصابه لم يعده إلى غيره وصلى فيه ثم يعود معي فإن أصابه مني شيء فعل مثل ذلك لم يعده إلى غيره
   سنن أبي داود269عائشة بنت عبد اللهإن أصابه مني شيء غسل مكانه ولم يعده ثم صلى فيه وإن أصاب تعني ثوبه منه شيء غسل مكانه ولم يعده ثم صلى فيه
   سنن أبي داود2166عائشة بنت عبد اللهإن أصابه مني شيء غسل مكانه ولم يعده وإن أصاب تعني ثوبه منه شيء غسل مكانه ولم يعده وصلى فيه
سنن نسائی کی حدیث نمبر 774 کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 774  
774 ۔ اردو حاشیہ: اگر عورت کے جسم والا کپڑا پاک ہو تو اس میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، خواہ اس نے اسے حیض کی حالت میں پہنا ہو۔ اگر کچھ خون لگ گیا ہو تو اتنی جگہ دھو لی جائے، باقی جگہ دھونے کی ضرورت نہیں۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 774   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 269  
´حائضہ عورت سے جماع کے سوا آدمی سب کچھ کر سکتا ہے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رات میں ایک کپڑے میں سوتے اور میں پورے طور سے حائضہ ہوتی، اگر میرے حیض کا کچھ خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے بدن) کو لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی مقام کو دھو ڈالتے، اس سے زیادہ نہیں دھوتے، پھر اسی میں نماز پڑھتے، اور اگر اس میں سے کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کو لگ جاتا، تو آپ صرف اسی جگہ کو دھو لیتے، اس سے زیادہ نہیں دھوتے، پھر اسی میں نماز پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 269]
269۔ اردو حاشیہ:
➊ دین و شریعت اور طہارت کی حدود واضح کرنے کے لیے ہی یہ مخفی حقائق بیان ہوئے ہیں تاکہ امت کے لیے دنیا و آخرت میں آسانی رہے، ورنہ عام مسلمان میاں بیوی کے لیے اپنے مخفی امور کا ذکر کرنا درست نہیں ہے۔
➋ خون حیض نجس ہے۔
➌ جو حصہ جسم کا یا کپڑے کا آلودہ ہو اسی قدر دھونا واجب ہے، نہ کہ سارا جسم یا سارا کپڑا۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 269   

  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2166  
´حائضہ عورت سے جماع اور اس سے مباشرت (بدن سے بدن ملا کر لیٹنے) کا بیان۔`
خلاس بن عمرو ہجری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے اور میں حالت حیض میں ہوتی، اگر کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لگ جاتا تو صرف اس جگہ کو دھو لیتے اس سے آگے نہ بڑھتے، اور کہیں کپڑے میں لگ جاتا تو صرف اتنی ہی جگہ دھو لیتے، اس سے آگے نہ بڑھتے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2166]
فوائد ومسائل:
فوائد پیچھے حدیث 269 میں گزر چکے ہیں۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2166   

  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 372  
´حائضہ عورت کے ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے تھے، اور میں حائضہ ہوتی، اگر آپ کو مجھ سے کچھ لگ جاتا تو آپ اسی جگہ کو دھوتے، اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی کپڑا میں نماز ادا کرتے، پھر واپس آ کر لیٹ جاتے، پھر اگر دوبارہ مجھ سے آپ کو کچھ لگ جاتا تو آپ پھر اسی طرح کرتے، صرف اسی جگہ کو دھوتے اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 372]
372۔ اردو حاشیہ: دیکھیے، حدیث: 285، 286 اور ان کے فوائد و مسائل۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 372   

  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 285  
´حائضہ کے ساتھ لیٹنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی چادر میں رات گزارتے، اور میں حائضہ ہوتی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے (خون) میں سے کچھ لگ جاتا تو صرف اسی جگہ کو دھوتے، اس سے تجاوز نہ کرتے، اور اسی کپڑے میں نماز ادا کرتے، پھر واپس آ کر لیٹ جاتے، پھر دوبارہ اگر آپ کو میرے (خون) میں سے کچھ لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اسی طرح کرتے، اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 285]
285۔ اردو حاشیہ:
➊ کپڑوں پر جتنی جگہ نجاست لگی ہو، صرف اتنی جگہ دھونا کافی ہے، سارا کپڑا دھونے کی ضرورت نہیں اور اس قسم کے کپڑے میں بلا تردد نماز پڑھی جا سکتی ہے۔
➋ دوبارہ لیٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کے لیے اٹھتے تھے، وقفے کے بعد پھر لیٹ جاتے ہوں گے۔ «والله أعلم»
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 285   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.