بلوغ المرام کل احادیث 1359 :حدیث نمبر
بلوغ المرام
نکاح کے مسائل کا بیان
निकाह के नियम
3. باب عشرة النساء
3. عورتوں (بیویوں) کے ساتھ رہن سہن و میل جول کا بیان
३. “ पत्नियों के साथ संबंध के नियम ”
حدیث نمبر: 876
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب Hindi
وعن ابن عمر رضي الله عنهما: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم لعن الواصلة،‏‏‏‏ والمستوصلة،‏‏‏‏ والواشمة،‏‏‏‏ والمستوشمة. متفق عليه.وعن ابن عمر رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم لعن الواصلة،‏‏‏‏ والمستوصلة،‏‏‏‏ والواشمة،‏‏‏‏ والمستوشمة. متفق عليه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر میں بال جوڑنے اور جڑوانے والی اور جسم پر گود کر نشان بنانے والی اور بنوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ (بخاری و مسلم)
हज़रत इब्न उमर रज़ि अल्लाहु अन्हा से रिवायत है कि नबी करीम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने सर में बाल जोड़ने और जुड़वाने वाली और जिस्म पर गोद कर निशान बनाने वाली और बनवाने वाली पर लाअनत भेजी है। (बुख़ारी और मुस्लिम)

تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، اللباس، باب الموصولة، حديث:5940، ومسلم، اللباس والزينة، باب تحريم فعل الواصلة والمستوصلة، حديث:2124.»

Narrated Ibn 'Umar (RA): "The Prophet (ﷺ) cursed the woman who joins false hair to her real hair [extensions] and the one who asks for it to be done to her; and the woman who tattoos (others) and the one who has it done (for her). [Agreed upon].
USC-MSA web (English) Reference: 0


حكم دارالسلام: صحيح

   صحيح البخاري5947عبد الله بن عمرلعن النبي الواصلة والمستوصلة الواشمة والمستوشمة
   صحيح البخاري5937عبد الله بن عمرلعن الله الواصلة والمستوصلة الواشمة والمستوشمة
   صحيح البخاري5940عبد الله بن عمرلعن النبي الواصلة والمستوصلة الواشمة والمستوشمة
   صحيح مسلم5571عبد الله بن عمرلعن الواصلة والمستوصلة الواشمة والمستوشمة
   جامع الترمذي2783عبد الله بن عمرلعن الله الواصلة والمستوصلة الواشمة والمستوشمة
   جامع الترمذي1759عبد الله بن عمرلعن الله الواصلة والمستوصلة الواشمة والمستوشمة
   سنن أبي داود4168عبد الله بن عمرلعن رسول الله الواصلة والمستوصلة الواشمة والمستوشمة
   سنن النسائى الصغرى5254عبد الله بن عمرلعن رسول الله الواصلة والموتصلة الواشمة والموتشمة
   سنن النسائى الصغرى5098عبد الله بن عمرلعن رسول الله الواصلة والمستوصلة الواشمة والموتشمة
   سنن النسائى الصغرى5252عبد الله بن عمرلعن الواصلة
   سنن ابن ماجه1987عبد الله بن عمرلعن الواصلة والمستوصلة الواشمة والمستوشمة
   بلوغ المرام876عبد الله بن عمرلعن الواصلة،‏‏‏‏ والمستوصلة،‏‏‏‏ والواشمة،‏‏‏‏ والمستوشمة
   مسندالحميدي117عبد الله بن عمرإن أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1987  
´بالوں کو جوڑنے اور گودنا گودنے والی عورتوں پر وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو جوڑنے اور جڑوانے والی، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1987]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  عورت کے لیے مستحسن ہے کہ اپنے خاوند کی خوشی کے لیے زیب و زینت کرے لیکن جائز اور نا جائز کا خیال رکھناضروری ہے۔

(2)
  عورت کے بال کم ہوں تو یہ جائز نہیں کہ بال زیاہ ظاہر کرنے کے لیے اپنے بالوں کو دوسرے بالوں میں ملائے۔
مردوں کوبھی سر کا گنج چھپانے کے لیے وگ لگانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اس مقصد کے لیے سر پر ٹوپی یا پگڑی وغیرہ استعمال کرنی چاہیے
(3)
  جس طرح عورت کے لیے جائز نہیں کہ اپنے بالوں میں دوسرے بال لگائے، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی دوسری عورت کا عیب چھپانے کے لیے اس کے بالوں میں دوسرے بال ملائے۔

(4)
  آرائش کا پیشہ اختیار کرنے والے مردوں او رعورتوں کو چاہیے کہ ایسے کاموں سے پرہیز کریں جو شرعاً ممنوع ہیں:
مثلا:
مرد کسی کی ڈاڑھی نہ مونڈے۔
عورت دوسری عورت کا میک اپ کرنےمیں ممنوع کاموں سے اجتناب کرتے ہوئے صرف جائز کاموں پر اکتفا کرے۔

(5)
  گودنے کا مطلب سوئی سے جسم پر کوئی نشان بناکر اس میں کوئی رنگ دار چیز بھرنا ہے۔
جس کی وجہ سے جسم پر وہ نشان پختہ ہو جاتا ہے اور مٹتا نہیں۔
عرب میں عورتوں میں یہ رواج تھا۔
یہ کام کرنا اور کروانا شرعا ممنوع ہے
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1987   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 876  
´عورتوں (بیویوں) کے ساتھ رہن سہن و میل جول کا بیان`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر میں بال جوڑنے اور جڑوانے والی اور جسم پر گود کر نشان بنانے والی اور بنوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 876»
تخریج:
«أخرجه البخاري، اللباس، باب الموصولة، حديث:5940، ومسلم، اللباس والزينة، باب تحريم فعل الواصلة والمستوصلة، حديث:2124.»
تشریح:
یہ حدیث دلیل ہے کہ یہ امور حرام ہیں۔
رہا یہ کہ عورت اپنے بالوں کے ساتھ حیوانی بال (اون)‘ دھاگہ اور کپڑے کے ٹکڑے (بطور پراندہ) باندھ سکتی ہے یا نہیں تو محققین نے اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔
خصوصاً جب ان چیزوں کا رنگ بالوں کے رنگ سے ملتا ہی نہ ہو‘ تب تو ان کے جواز کے بارے میں کسی کو اختلاف ہی نہیں۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 876   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1759  
´بالوں میں جوڑے لگانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بال میں جوڑے لگانے والی، بال میں جوڑے لگوانے والی، گدنا گوندنے والی اور گدنا گوندوانے والی پر لعنت بھیجی ہے۔‏‏‏‏ نافع کہتے ہیں: گدنا مسوڑے میں ہوتا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1759]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ غالب احوال کے تحت ہے ورنہ جسم کے دوسرے حصوں پربھی گدنا گوندنے کا عمل ہوتاہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1759   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4168  
´دوسرے کے بال اپنے بال میں جوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اس عورت پر جو دوسری عورت کے بال میں بال کو جوڑے، اور اس عورت پر اپنے بالوں میں اور بال جڑوائے، اور اس عورت پر دوسری عورت کا بدن گودے، اور نیل بھرے، اور اس عورت پر جو اپنا بدن گودوائے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4168]
فوائد ومسائل:
جن گناہوں پر لعنت کی وعید سنائی گئی ہو وہ کبیرہ گناہ کہلاتے ہیں، ایسے گناہ خاص توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے توبہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ انسان ان سے باز رہنے کا عزم بھی کرے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 4168   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.