الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
مشروبات کا بیان
7. باب بَيَانِ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَأَنَّ كُلَّ خَمْرٍ حَرَامٌ:
7. باب: ہر نشہ لانے والی شراب خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے۔
حدیث نمبر: 5219
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا إسحاق بن إبراهيم ، وابو بكر بن إسحاق كلاهما، عن روح بن عبادة ، حدثنا ابن جريج ، اخبرني موسى بن عقبة ، عن نافع ، عن ابن عمر ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " كل مسكر خمر وكل مسكر حرام ".وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ كِلَاهُمَا، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے مو سیٰ بن عقبہ نے نافع سے خبردی انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: "ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور نشہ آور چیز حرا م ہے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز مشروب خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 2003

   صحيح مسلم5219عبد الله بن عمركل مسكر خمر كل مسكر حرام
   صحيح مسلم5218عبد الله بن عمركل مسكر خمر كل مسكر حرام من شرب الخمر في الدنيا فمات وهو يدمنها لم يتب لم يشربها في الآخرة
   صحيح مسلم5221عبد الله بن عمركل مسكر خمر كل خمر حرام
   جامع الترمذي1861عبد الله بن عمركل مسكر خمر كل مسكر حرام من شرب الخمر في الدنيا فمات وهو يدمنها لم يشربها في الآخرة
   جامع الترمذي1864عبد الله بن عمركل مسكر حرام
   سنن أبي داود3679عبد الله بن عمركل مسكر خمر كل مسكر حرام من مات وهو يشرب الخمر يدمنها لم يشربها في الآخرة
   سنن ابن ماجه3387عبد الله بن عمركل مسكر حرام
   سنن ابن ماجه3390عبد الله بن عمركل مسكر خمر كل خمر حرام
   سنن ابن ماجه3392عبد الله بن عمركل مسكر حرام ما أسكر كثيره فقليله حرام
   المعجم الصغير للطبراني623عبد الله بن عمركل مسكر خمر كل خمر حرام
   المعجم الصغير للطبراني631عبد الله بن عمركل مسكر خمر كل مسكر حرام
   المعجم الصغير للطبراني642عبد الله بن عمركل مسكر خمر كل خمر حرام
   سنن النسائى الصغرى5586عبد الله بن عمركل مسكر حرام كل مسكر خمر
   سنن النسائى الصغرى5587عبد الله بن عمركل مسكر حرام كل مسكر خمر
   سنن النسائى الصغرى5588عبد الله بن عمركل مسكر خمر
   سنن النسائى الصغرى5589عبد الله بن عمركل مسكر خمر كل مسكر حرام
   سنن النسائى الصغرى5590عبد الله بن عمركل مسكر حرام كل مسكر خمر
   سنن النسائى الصغرى5591عبد الله بن عمركل مسكر حرام
   سنن النسائى الصغرى5609عبد الله بن عمركل مسكر حرام
   سنن النسائى الصغرى5704عبد الله بن عمرحرم الله الخمر كل مسكر حرام
   سنن النسائى الصغرى5704عبد الله بن عمركل مسكر حرام كل مسكر خمر

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3387  
´ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3387]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نشہ آور چیز خواہ پی جاتی ہو یا کھائی جاتی ہو سونگھی جاتی ہو یا انجکشن کے ذریعے سے جسم میں داخل کی جاتی ہوحرام ہے۔

(2)
منشیات کا استعمال کم ہو یا زیاہ ہر صورت میں حرام ہے۔

(2)
اگر کوئی مشروب زیادہ مقدار میں پینے سے نشہ ہوتا ہے۔
تو اس کا کم مقدار میں استعمال بھی حرام ہے۔
خواہ اس سے نشہ نہ آئے۔

(4)
تمباکو کا اثر بھی نشے کا سا ہے۔
اور اس کے بہت سے نقصانات ہیں۔
لہٰذا حقہ، سگریٹ، سگار، کھانے والا تمباکو اور اس طرح کی تمام اقسام اور صورتیں شرعا ممنوع ہیں۔

(5)
ان اشیاء کی خریدوفروخت اور پیداوارسب کا یہی حکم ہے۔
یعنی ممنوع ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3387   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1861  
´شرابی کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ اس حال میں مر گیا کہ وہ اس کا عادی تھا، تو وہ آخرت میں اسے نہیں پیئے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1861]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
دنیا میں شراب پینے والا اگر توبہ کئے بغیر مرگیا تو وہ آخرت کی شراب سے محروم رہے گا۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1861   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3679  
´نشہ لانے والی چیزوں سے ممانعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۱؎، اور جو مر گیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا (یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا)۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3679]
فوائد ومسائل:
فائدہ: اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ شخص اس شراب سے محروم رہے گا۔
جو جنت میں داخل ہونے والوں کو میسر ہوگی، دوسرے لفظوں میں وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3679   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.