الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
معاشرتی آداب کا بیان
The Book of Manners and Etiquette
7. باب الاِسْتِئْذَانِ:
7. باب: اذن چاہنے کے بیان میں۔
Chapter: Seeking Permission To Enter A House
حدیث نمبر: 5629
Save to word اعراب
حدثنا نصر بن علي الجهضمي ، حدثنا بشر يعني ابن مفضل ، حدثنا سعيد بن يزيد ، عن ابي نضرة ، عن ابي سعيد ، ان ابا موسى اتى باب عمر، فاستاذن، فقال عمر: واحدة ثم استاذن الثانية، فقال عمر: ثنتان ثم استاذن الثالثة، فقال عمر: ثلاث ثم انصرف، فاتبعه فرده، فقال: إن كان هذا شيئا حفظته من رسول الله صلى الله عليه وسلم فها وإلا فلاجعلنك عظة، قال ابو سعيد: فاتانا، فقال: الم تعلموا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " الاستئذان ثلاث "، قال: فجعلوا يضحكون، قال: فقلت: اتاكم اخوكم المسلم قد افزع تضحكون انطلق فانا شريكك في هذه العقوبة، فاتاه، فقال: هذا ابو سعيد.حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى أَتَى بَابَ عُمَرَ، فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاحِدَةٌ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: ثِنْتَانِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: ثَلَاثٌ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتْبَعَهُ فَرَدَّهُ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ هَذَا شَيْئًا حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَا وَإِلَّا فَلَأَجْعَلَنَّكَ عِظَةً، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَتَانَا، فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ "، قَالَ: فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَتَاكُمْ أَخُوكُمُ الْمُسْلِمُ قَدْ أُفْزِعَ تَضْحَكُونَ انْطَلِقْ فَأَنَا شَرِيكُكَ فِي هَذِهِ الْعُقُوبَةِ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: هَذَا أَبُو سَعِيدٍ.
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں سعید بن یزید نے ابو نضرہ سے حدیث بیان کی، انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے ر وایت کی کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر گئے اور اجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےکہا: یہ ایک بار ہے۔پھر انھوں نے دوبارہ اجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ دوسری بار ہے۔پھر انہوں نے تیسری باراجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تیسری بار ہے، پھر وہ لوٹ گئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اگلے دن) کسی کو ان کے پیچھے روانہ کیا اور انھیں دوبارہ بلا بھیجا۔پھر (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) ان سے کہا: اگر یہ ایسی بات ہے جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (سن کر) یار رکھی ہے تو ٹھیک ہے، اگر نہیں تو میں تمھیں (دوسروں کے لیے نشان) عبرت بنا دوں گا۔حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: تو وہ ہمارے ہاں آئے اور کہنے لگے: تمھیں علم نہیں ہے کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: " اجازت تین بار طلب کی جاتی ہے؟"کہا: تو لوگ ہنسنے لگے، کہا: میں نے (لوگوں سے کہا:) تمھارے پاس تمھارا مسلمان بھائی ڈرا ہوا آیا ہے اور تم ہنس رہے ہو؟ (پھر حضرت موسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہا:) چلیں میں اس سزا میں آپ کا حصہ دار بنوں گاپھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: یہ ابو سعید ہیں (یہ میرے گواہ ہیں۔)
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دروازہ پر آئے اور اجازت طلب کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے دل میں کہا، ایک دفعہ، پھر انہوں نے دوبارہ اجازت طلب کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سوچا، دو دفعہ، پھر انہوں نے تیسری دفعہ اجازت طلب کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، تین دفعہ ہو گیا، پھر ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ واپس چلے گئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں واپس بلوایا اور کہا، اگر یہ ایسی چیز ہے، جو تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو شہادت پیش کرو، وگرنہ میں تمہیں عبرت بنا دوں گا، ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، سو وہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اجازت، تین دفعہ طلب کی جاتی ہے؟ تو حاضرین ہنسنے لگے، میں نے کہا، تمہارا مسلمان بھائی تمہارے پاس گھبرایا ہوا آیا ہے اور تم ہنس رہے ہو؟ چلو، میں اس عقوبت میں تمہارا ساتھی ہوں تو وہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آ کر کہنے لگے، یہ ابو سعید (میرا گواہ ہے)
ترقیم فوادعبدالباقی: 2153

   صحيح مسلم5629سعد بن مالكالاستئذان ثلاث
   صحيح مسلم5628سعد بن مالكالاستئذان ثلاث فإن أذن لك وإلا فارجع
   صحيح مسلم5626سعد بن مالكإذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له فليرجع
   جامع الترمذي2690سعد بن مالكالاستئذان ثلاث فإن أذن لك وإلا فارجع
   سنن أبي داود5180سعد بن مالكإذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له فليرجع
   سنن ابن ماجه3706سعد بن مالكاستأذنت الاستئذان الذي أمرنا به رسول الله ثلاثا فإن أذن لنا دخلنا وإن لم يؤذن لنا رجعنا
   مسندالحميدي751سعد بن مالكإذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له فليرجع
   مسندالحميدي791سعد بن مالكإذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له، فليرجع

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.