الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
14. باب ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ أَوْ حُزْنٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا:
14. باب: مومن کو کوئی بیماری یا تکلیف پہنچے تو اس کا ثواب۔
حدیث نمبر: 6557
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا عثمان بن ابي شيبة ، وإسحاق بن إبراهيم ، قال إسحاق: اخبرنا، وقال عثمان: حدثنا جرير ، عن الاعمش ، عن ابي وائل ، عن مسروق ، قال: قالت عائشة : " ما رايت رجلا اشد عليه الوجع من رسول الله صلى الله عليه وسلم "، وفي رواية عثمان مكان الوجع وجعا.حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَفِي رِوَايَةِ عُثْمَانَ مَكَانَ الْوَجَعِ وَجَعًا.
عثمان بن ابی شیبہ اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے مسروق سے روایت کی، کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کوئی شخص نہیں دیکھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ عثمان کی روایت میں "سخت تکلیف کا سامنا" کے بجائے "جس کی تکلیف زیادہ سخت ہو" ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت بیماری کسی آدمی کی نہیں دیکھی،عثمان کی روایت میں "وَجعُ" کی جگہ "وَجعاً" ہے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 2570

   صحيح البخاري5646عائشة بنت عبد اللهما رأيت أحدا أشد عليه الوجع من رسول الله
   صحيح مسلم6557عائشة بنت عبد اللهما رأيت رجلا أشد عليه الوجع من رسول الله
   جامع الترمذي2397عائشة بنت عبد اللهما رأيت الوجع على أحد أشد منه على رسول الله
   سنن ابن ماجه1622عائشة بنت عبد اللهما رأيت أحدا أشد عليه الوجع من رسول الله

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1622  
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر مرض الموت کی تکلیف اتنی سخت نہیں دیکھی جتنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دیکھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1622]
اردو حاشہ:
فائده:
جان نکلنے کی سختی یا نرمی اور چیز ہے۔
اور بیماری کی وجہ سے جسم کا تکلیف محسوس کرنا اور چیز ہے۔
بعض اوقات مرض کی شدت کی وجہ سے وفات تک تکلیف رہتی ہے۔
یہ جسمانی تکلیف ہے۔
جس کا انسان کے نیک یا بد ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔
جان نکلتے وقت فرشتوں کی سختی کی وجہ سے حاصل ہونے والی تکلیف کا تعلق روح سے ہے۔
اسے قریب بیٹھے ہوئے لوگ بھی محسوس نہیں کرسکتے البتہ یہ تکلیف نیک لوگوں کو نہیں ہوتی۔
گناہ گاروں اور کافروں کو ان کے جرائم کے مطابق کم یا زیادہ ہوتی ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1622   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2397  
´مصیبت میں صبر کرنے کا بیان۔`
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درد سے زیادہ درد کسی شخص کا نہیں دیکھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2397]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے اس تکلیف کی طرف اشارہ ہے جس سے مرض الموت میں آپ ﷺدو چار ہوئے تھے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2397   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.