الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
علم کا بیان
The Book of Knowledge
2. باب فِي الأَلَدِّ الْخَصِمِ:
2. باب: بڑا جھگڑالو کون؟
Chapter: The One Who Is Harsh In Arguing
حدیث نمبر: 6780
Save to word اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا وكيع ، عن ابن جريج ، عن ابن ابي مليكة ، عن عائشة ، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن ابغض الرجال إلى الله الالد الخصم ".حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑھ کر بغض کے قابل وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔"
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ کے نزدیک سب مردوں سے برا اور مبغوض وہ شخص ہے، جو انتہائی سخت جھگڑا لوہے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 2668

   صحيح البخاري7188عائشة بنت عبد اللهأبغض الرجال إلى الله الألد الخصم
   صحيح البخاري2457عائشة بنت عبد اللهأبغض الرجال إلى الله الألد الخصم
   صحيح مسلم6780عائشة بنت عبد اللهأبغض الرجال إلى الله الألد الخصم
   جامع الترمذي2976عائشة بنت عبد اللهأبغض الرجال إلى الله الألد الخصم
   سنن النسائى الصغرى5425عائشة بنت عبد اللهأبغض الرجال إلى الله الألد الخصم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6780 کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6780  
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ألد:
بہت جھگڑالو،
کیونکہ لدد جھگڑے کو کہتے ہیں اور خصم،
بھی سخت اور جھگڑے کی مہارت کو کہتے ہیں،
مقصد یہ ہے،
اس کا کام محض جھگڑنا اور بحث کرنا ہے،
جائز یا ناجائز اور حق و باطل سے غرض نہیں ہے،
حق کے ابطال اور باطل کے اثبات کے لیے جھگڑنا بھی اس میں داخل ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6780   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5425  
´لڑاکے اور جھگڑالو کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ بغض و نفرت لڑاکے اور جھگڑالو شخص سے ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5425]
اردو حاشہ:
اس سے وہ شخص مراد ہے جو ہر وقت جھگڑتا رہتا ہے‘ باطل اور جھوٹ پر ہونے کے باوجود ضد اور جھگڑا نہیں چھوڑتا‘ نیز مخالفت حق میں ہر شخص اور ہر بات پر جھگڑتا ہے۔ واللہ أعلم
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5425   

  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2976  
´سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ جھگڑالو ہو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2976]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ اشارہ ہے ارشاد باری:
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ﴾ (البقرۃ: 204) کی طرف۔
یعنی لوگوں میں سے بعض آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دنیاوی زندگی میں ان کی بات آپ کو اچھی لگے گی جب کہ اللہ تعالیٰ کو وہ جو اُس کے دل میں ہے گواہ بنا رہا ہوتا ہے،
حقیقت میں وہ سخت جھگڑالو ہوتا ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2976   

  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2457  
2457. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتی ہے کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند وہ شخص ہے جو شخص جھگڑالو ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2457]
حدیث حاشیہ:
بعض بدبختوں کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ ذرا ذرا سی باتوں میں آپس میں جھگڑا فساد کرتے رہتے ہیں۔
ایسے لوگ عنداللہ بہت ہی برے ہیں۔
پوری آیت کا ترجمہ یوں ہے، لوگوں میں کوئی ایسا ہے جس کی بات دنیا کی زندگی میں تجھ کو بھلی لگتی ہے اور اپنے دل کی حالت پر اللہ کو گواہ کرتاہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔
کہتے ہیں کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے حق میں اتری۔
وہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور اسلام کا دعوی کرکے میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگا۔
جب کہ دل میں نفاق رکھتا تھا۔
(وحیدی)
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2457   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2457  
2457. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتی ہے کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند وہ شخص ہے جو شخص جھگڑالو ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2457]
حدیث حاشیہ:
(1)
ألدالخصم سے مراد وہ شخص ہے جو ذرا ذرا سی بات پر لوگوں سے جھگڑتا ہو یا باطل کا دفاع کرنے میں بڑی مہارت رکھتا ہو۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو کتاب التفسیر میں بھی ذکر کیا ہے، تاہم اس مقام پر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عام طور پر مظالم اور تنازعات میں جھگڑوں اور جنگ و جدل تک نوبت پہنچ جاتی ہے، لہذا حتی الامکان جھگڑوں اور جنگ و قتال سے بچنا چاہیے۔
(2)
واضح رہے کہ آیت کریمہ میں (أَلَدُّ الْخِصَامِ)
سے مراد اخنس بن شریق ہے جو رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایک منافق انسان تھا۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2457   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7188  
7188. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ شخص وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7188]
حدیث حاشیہ:

لڑنا،جھگڑنا، بات بات پر پھڈا ڈالنا اور سینگ پھنسانا کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔
حکومتی معاملات کے لیے ایسا رویہ انتہائی مہلک اور نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے اجتماعیت کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے لڑائی جھگڑے کو ترک کر دینے کی بہت فضیلت بیان کی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں ایسے شخص کے لیے جنت میں بہترین مکان کا ضامن ہوں جو حق پر ہوتے ہوئے لڑائی جھگڑا چھوڑ دیتا ہے۔
(سنن أبي داؤد، الأدب، حدیث: 4800)

بہرحال اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ انسان انتہائی ناپسندیدہ ہے جو ہمیشہ جھگڑتا رہے اوربغض وعناد رکھتے ہوئے حق کوقبول نہ کرے۔
یہ معنی کافر اور مسلمان دونوں کو شامل ہیں۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7188   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.