مشكوة المصابيح کل احادیث 6294 :حدیث نمبر
مشكوة المصابيح
ایمان کا بیان
3.10. انسان کو وہی توفیق ہے جس کے لیے پیدا کیا گیا
حدیث نمبر: 97
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
‏‏‏‏وعن ابي خزامة عن ابيه قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ارايت رقى نسترقيها ودواء نتداوى به وتقاة نتقيها هل ترد من قدر الله شيئا قال: «هي من قدر الله» . رواه احمد والترمذي وابن ماجه ‏‏‏‏وَعَن أبي خزامة عَن أَبِيه قَالَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا قَالَ: «هِيَ مِنْ قَدَرِ الله» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
سیدنا ابوخزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! راہنمائی فرمائیں، دم جس کے ذریعے ہم دم کراتے ہیں، دوائی، جس کے ذریعے ہم علاج کرتے ہیں، اور بچاؤ کی چیزیں (مثلاً ڈھال وغیرہ) جن کے ذریعے ہم بچاؤ کرتے ہیں۔ کیا یہ اللہ کی تقدیر سے کچھ روک سکتی ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ (اسباب اختیار کرنا) بھی اللہ کی تقدیر میں سے ہیں۔  اس حدیث کو احمد ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله:
«سنده ضعيف، رواه أحمد (3/ 421 ح 15551. 15554) والترمذي (2065 وقال: ھذا حديث حسن) وابن ماجه (3437)
٭ ابن أبي خزامة مجھول الحال، وثقه الترمذي وحده و لبعض الحديث شواهد، انظر الحديث الآتي (99)»

قال الشيخ زبير على زئي: سنده ضعيف

   جامع الترمذي2148أبو خزامة بن يعمرأرأيت رقى نسترقيها ودواء نتداوى به وتقاة نتقيها هل ترد من قدر الله شيئا قال هي من قدر الله
   جامع الترمذي2065أبو خزامة بن يعمرأرأيت رقى نسترقيها ودواء نتداوى به وتقاة نتقيها هل ترد من قدر الله شيئا قال هي من قدر الله
   سنن ابن ماجه3437أبو خزامة بن يعمرأرأيت أدوية نتداوى بها ورقى نسترقي بها وتقى نتقيها هل ترد من قدر الله شيئا قال هي من قدر الله
   مشكوة المصابيح97أبو خزامة بن يعمرسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ارايت رقى نسترقيها ودواء نتداوى به وتقاة نتقيها هل ترد من قدر الله شيئا قال: هي من قدر الله

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 97  
´انسان کو وہی توفیق ہے جس کے لیے پیدا کیا گیا`
«. . . ‏‏‏‏وَعَن أبي خزامة عَن أَبِيه قَالَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا قَالَ: «هِيَ مِنْ قَدَرِ الله» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه . . .»
. . . سیدنا ابوخزامہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ فرمائیے جو ہم منتر جنتر کرتے، کرواتے ہیں اور علاج معالجہ کرتے ہیں اور جو ہم بچاؤ کی چیزیں رکھتے ہیں (جیسے سامان جنگ، بندوق، تیر و کمان، ڈھال وغیرہ) تو یہ سب چیزیں اللہ کی تقدیر کو پھیر سکتی ہیں، اور اللہ کا حکم لوٹا سکتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں بھی اللہ کی تقدیر سے ہیں۔ اس حدیث کو احمد ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 97]

تخریج:
[سنن ترمذي 2065]

تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
ابوخزامہ کو امام ترمذی کے علاوہ کسی نے بھی ثقہ نہیں قرار دیا، چونکہ امام ترمذی تصحیح و تحسین میں متساہل تھے، لہٰذا جب تک کوئی دوسرے معتبر محدث ان کی تائید نہ کریں تو راوی مجہول یا مجروح ہی رہتا ہے۔ صورت مذکورہ میں ابوخزامہ مجہول الحال راوی ہے اور صحابی نہیں ہے۔ اگر اس روایت کو صحیح ثابت کر دیا جائے تو پھر یہ اہل سنت کی دلیل ہے کہ عقیدہ تقدیر برحق ہے۔
   اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث\صفحہ نمبر: 97   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2065  
´جھاڑ پھونک اور دوا سے علاج کا بیان۔`
ابوخزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! جس دم سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، جس دوا سے علاج کرتے ہیں اور جن بچاؤ کی چیزوں سے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں (ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟) کیا یہ اللہ کی تقدیر میں کچھ تبدیلی کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ سب بھی اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر ہی کا حصہ ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2065]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ان کی توفیق حسب تقدیر الٰہی ہوتی ہے،
اس لیے اسباب کو اپنانا چاہیے،
لیکن یہ اعتقاد نہ ہو کہ ان سے تقدیر بدل جاتی ہے،
کیوں کہ اللہ اپنے فیصلہ کو نہیں بدلتا۔

نوٹ:
(اس کی سند میں اضطراب ہے۔
یعنی أبوخزامة،
عن أبيه یا ابن أبي خزامة،
عن أبيه نیز ابوخزامہ تابعی ہیں یا صحابی؟،
اگر ابوخزامہ تابعی ہیں تو ان کا حال معلوم نہیں،
اگر یہ صحابی ہیں تو ان کے بیٹے ابن أبی خزمہ ہیں،
تراجع الألبانی 344)
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2065   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.