الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
Wages (Kitab Al-Ijarah)
43. باب فِي الرَّجُلِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ
43. باب: آدمی کا اپنی اولاد کے مال میں سے کھانا درست ہے۔
Chapter: A Man Taking From His Son’s Wealth.
حدیث نمبر: 3529
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، وعثمان بن ابي شيبة المعنى، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن الحكم، عن عمارة بن عمير، عن امه، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، انه قال:" ولد الرجل من كسبه من اطيب كسبه فكلوا من اموالهم"، قال ابو داود: حماد بن ابي سليمان زاد فيه إذا احتجتم، وهو منكر.
(مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ زَادَ فِيهِ إِذَا احْتَجْتُمْ، وَهُوَ مُنْكَرٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے بلکہ بہترین کمائی ہے، تو ان کے مال میں سے کھاؤ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن ابی سلیمان نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ جب تم اس کے حاجت مند ہو (تو بقدر ضرورت لے لو) لیکن یہ زیادتی منکر ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17992) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Aishah, Ummul Muminin: The Prophet ﷺ Said: The children of a man come from what he earns, rather they are his pleasantest earning; so enjoy from their property. Abu Dawud said: Hammad bin Abi Sulaiman added in his version: "When you need. " But this (addition) is munkar (not authoritative).
USC-MSA web (English) Reference: Book 23 , Number 3522


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (3530)

   جامع الترمذي1358عائشة بنت عبد اللهأطيب ما أكلتم من كسبكم وإن أولادكم من كسبكم
   سنن أبي داود3529عائشة بنت عبد اللهولد الرجل من كسبه من أطيب كسبه فكلوا من أموالهم
   سنن أبي داود3528عائشة بنت عبد اللهأطيب ما أكل الرجل من كسبه وولده من كسبه
   سنن ابن ماجه2137عائشة بنت عبد اللهأطيب ما أكل الرجل من كسبه وإن ولده من كسبه
   سنن ابن ماجه2290عائشة بنت عبد اللهأطيب ما أكلتم من كسبكم وإن أولادكم من كسبكم
   سنن النسائى الصغرى4454عائشة بنت عبد اللهأطيب ما أكل الرجل من كسبه وإن ولد الرجل من كسبه
   سنن النسائى الصغرى4455عائشة بنت عبد اللهأولادكم من أطيب كسبكم فكلوا من كسب أولادكم
   سنن النسائى الصغرى4456عائشة بنت عبد اللهأطيب ما أكل الرجل من كسبه وولده من كسبه
   سنن النسائى الصغرى4457عائشة بنت عبد اللهأطيب ما أكل الرجل من كسبه وإن ولده من كسبه

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2137  
´روزی کمانے کی ترغیب۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا سب سے عمدہ کھانا وہ ہے جو اس کی اپنی کمائی کا ہو، اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2137]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اسلام رہبانیت کا دین نہیں اور نہ وہ ترک دنیا کی دعوت دیتا ہے بلکہ دنیا میں اس طریقے سے رہنا سکھاتا ہے جس میں ایثار، خیر خواہی اور تعاون کو پیش نظر رکھا جائے۔
دنیا میں امن و مان اس طرح پیدا ہوا سکتا ہے۔

(2)
  محنت سے حاصل ہونے والی کمائی حلال کمائی ہے بشرطیکہ اس میں شرعی احکام کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔
یہ محنت جسمانی بھی ہو سکتی ہے، کوئی فنی مہارت یا دستکاری بھی ہو سکتی ہے، ذہنی اور دماغی بھی ہو سکتی ہے۔

(3)
  انسان اپنے پچوں کی پرورش کرتا ہے اور ان پر خرچ کرتا ہے لہٰذا اولاد کا فرض ہے کہ والدین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرے۔

(4)
والدین اپنی اولاد سے حسب ضرورت مال لے سکتے ہیں تاہم انہیں چاہیے کہ اولاد کی جائز ضرویات کو نظر انداز نہ کریں۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 2137   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1358  
´باپ بیٹے کے مال میں سے لے سکتا ہے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پاکیزہ چیز جس کو تم کھاتے ہو تمہاری اپنی کمائی ہے اور تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1358]
اردو حاشہ: 1؎:
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اسی معنی کی ایک حدیث مروی ہے،
'أَنْتَ وَ مَالُكَ لأَبِيْكَ' (یعنی تم اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے) (سنن ابی داود رقم: 3530/صحیح) اس میں بھی عموم ہے،
ضرورت کی قید نہیں ہے،
اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث میں سنن أبی داود میں (برقم: 3529) جو 'إذا احتجتم' (جب تم ضرورت مند ہو) کی 'زیادتی' ہے وہ بقول ابوداود 'منکر' ہے،
لیکن لڑکے کی وفات پر (پوتا کی موجودگی میں) باپ کو صرف چھٹا حصہ ملتا ہے،
اس سے حدیث کی تخصیص ہوجاتی ہے۔
یعنی بیٹے کا کل مال باپ کی ملکیت نہیں،
صرف بقدر ضرورت ہی لے سکتا ہے۔
واللہ اعلم۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1358   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.