الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
The Book of the Sunnah
1. بَابُ : اتِّبَاعِ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
1. باب: اتباع سنت کا بیان۔
Chapter: Following the Sunnah of the Messenger of Allah (saws)
حدیث نمبر: 10
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا هشام بن عمار ، حدثنا محمد بن شعيب ، حدثنا سعيد بن بشير ، عن قتادة ، عن ابي قلابة ، عن ابي اسماء الرحبي ، عن ثوبان ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" لا يزال طائفة من امتي على الحق منصورين لا يضرهم من خالفهم حتى ياتي امر الله عز وجل".
(مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ نصرت الٰہی سے بہرہ ور ہو کر حق پر قائم رہے گا، مخالفین کی مخالفت اسے (اللہ کے امر یعنی:) ۱؎ قیامت تک کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الإمارة 53 (1920)، الفتن 5 (2889)، سنن الترمذی/الفتن 14 (2176)، 51 (2229)، (تحفة الأشراف: 2102)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الفتن 1 (4252)، مسند احمد (5/34، 35)، سنن الدارمی/الجہاد 38 (2476) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3952) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: امر اللہ سے مراد وہ ہوا ہے جو سارے مومنوں کی روحوں کو قبض کرے گی۔

It was narrated from Thawban that: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "A group among my Ummah will continue to follow the truth and prevail, and those who oppose them will not be able to harm them, until the command of Allah comes to pass."
USC-MSA web (English) Reference: 0


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

   صحيح مسلم4950ثوبان بن بجددلا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق لا يضرهم من خذلهم حتى يأتي أمر الله وهم كذلك
   جامع الترمذي2229ثوبان بن بجددلا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين لا يضرهم من يخذلهم حتى يأتي أمر الله
   سنن ابن ماجه10ثوبان بن بجددلا يزال طائفة من أمتي على الحق منصورين لا يضرهم من خالفهم حتى يأتي أمر الله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 10 کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث10  
اردو حاشہ:
حدیث نمبر 6 اور 9 کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 10   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2229  
´گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان۔`
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت پر گمراہ کن اماموں (حاکموں) سے ڈرتا ہوں ۱؎، نیز فرمایا: میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی، ان کی مدد نہ کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2229]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی یہ حکمراں ایسے ہوں گے جو بدعت اور فسق و فجور کے داعی ہوں گے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2229   

  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4950  
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، جو ان کو بے یارومددگار چھوڑے گا، وہ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا، حتیٰ کہ اللہ کا حکم آن پہنچے اور وہ اس طرح ہوں گے۔ قتیبہ کی حدیث میں هم كذالك [صحيح مسلم، حديث نمبر:4950]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
ظاهرين علي الحق:
وہ حق پرقائم رہیں گے،
یاحق کی بنا پر دوسروں پر غالب رہیں گے،
بعض دفعہ قوت وطاقت اور بعض دفعہ دلیل وبراہین سے۔
(2)
خذلهم:
ان کی مددوحمایت نہیں کرےگا،
ان کی مخالفت کرے گا۔
(3)
حتي ياتي امرالله:
یہاں تک کہ اللہ کہ حکم سے ہوا چلے گی جو ہرمومن کی روح قبض کرلے گی اور بدترین لوگ ہی زندہ بچیں گے اور یہ قیامت کے وقوع کے قریب چلے گی،
اس لیے بعض روایتوں میں حتي تقوم الساعة،
یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
فوائد ومسائل:
ظاهرين علی الحق گروہ سے مراد،
اہل علم اور محدثین اور مجاہدین کا گروہ ہے،
اہل حدیث دین کا علمی دفاع کرتے رہتے ہیں اور مجاہدین عملی طور پر قوت و طاقت اور جہاد کے ذریعہ دفاع کرتے ہیں،
اس لیے جو اہل علم اور مجاہدین اللہ کے دین کے لیے سینہ سپر ہیں،
وہ علمی اور عملی جہاد کرتے رہتے ہیں اور کرتے رہیں گے،
وہی اس کا مصداق ہوں گے۔
اس نے امام احمد،
یزید بن ہارون اور امام بخاری کے نزدیک اس سے مراد،
اہل الحدیث اور اصحاب الحدیث ہیں۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4950   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.