الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
The Book on Purification
56. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مِنَ الرِّيحِ
56. باب: ہوا خارج ہونے سے وضو کے ٹوٹ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 74
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا قتيبة , وهناد , قالا: حدثنا وكيع، عن شعبة، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " لا وضوء إلا من صوت او ريح ". قال ابو عيسى: هذا حسن صحيح.(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , وَهَنَّادٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: وضو واجب نہیں جب تک آواز نہ ہو یا بو نہ آئے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 74 (515) (تحفة الأشراف: 12683) مسند احمد (2/410، 435، 471) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شک کی وجہ سے کہ ہوا خارج ہوئی یا نہیں وضو نہیں ٹوٹتا، اور اس سے ایک اہم اصول کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ ہر چیز اپنے حکم پر قائم رہتی ہے جب تک اس کے خلاف کوئی بات یقین و وثوق سے ثابت نہ ہو جائے، محض شبہ سے حکم نہیں بدلتا۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (515)

   جامع الترمذي74عبد الرحمن بن صخرلا وضوء إلا من صوت أو ريح
   جامع الترمذي75عبد الرحمن بن صخرإذا كان أحدكم في المسجد فوجد ريحا بين أليتيه فلا يخرج حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا
   سنن أبي داود177عبد الرحمن بن صخرإذا كان أحدكم في الصلاة فوجد حركة في دبره أحدث أو لم يحدث فأشكل عليه فلا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا
   صحيح مسلم805عبد الرحمن بن صخرلا يخرجن من المسجد حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا
   سنن ابن ماجه515عبد الرحمن بن صخرلا وضوء إلا من صوت أو ريح
   بلوغ المرام66عبد الرحمن بن صخر‏‏‏‏إذا وجد احدكم فى بطنه شيئا فاشكل عليه: اخرج منه شيء ام لا؟

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 66  
´شک کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا`
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏إذا وجد احدكم فى بطنه شيئا فاشكل عليه: اخرج منه شيء ام لا؟ فلا يخرجن من المسجد،‏‏‏‏ حتى يسمع صوتا او يجد ريحا . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ میں ہوا کی حرکت محسوس کرے اور فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے کہ آیا پیٹ سے کوئی چیز خارج ہوئی ہے یا نہیں تو ایسی صورت میں (وضو کرنے کیلئے) وہ مسجد سے باہر نہ جائے، تاوقتیکہ (یقین نہ ہو جائے) ہوا کے خارج ہونے کی آواز یا بدبو سے محسوس کرے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 66]

لغوی تشریح:
«وَجَدَ فِي بَطْنِهِ شَيْئًا» اپنے پیٹ میں کسی چیز کو محسوس کیا، گویا ریح گردش کر رہی ہے۔
«أَشْكَلَ» مشتبہ ہو جائے، مشکل ہو جائے۔
«أَخْرَجَ» ہمزہ اس میں استفہام کا ہے، یعنی اسے یہ شک پڑ جائے کہ آیا ریح خارج ہوئی ہے یا نہیں۔
«فَلَا يَخْرُجَنَّ» محض شک اور تردد کی بنا پر نماز نہ توڑے۔
«حَتَّى يَسْمَعَ» یہاں تک کہ وہ ہوا کے بآواز خارج ہونے کو سنے۔
«أَوْ يَجِدَ رِيحًا» یا پھر پیٹ سے خارج ہونے والی بے آواز ہو کی بدبو محسوس کرے۔ مقصود یہ ہے کہ انسان کو یقین ہو جائے کہ ہوا پیٹ سے خارج ہوئی ہے، خواہ ان دو طریقوں کے علاوہ اور کوئی طریقہ ہو۔ ان دو کا بالخصوص ذکر محض اس لیے کیا ہے کہ اس کے یقین میں یہی دو ذرائع غالب ہیں۔

فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث کی رو سے صاف معلوم ہوا کہ شک کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
➋ اس مفہوم کو ذرا وسیع کریں تو اس سے ایک اصول کی طرف اشارہ بھی ملتا ہے کہ ہر چیز اپنے حکم اور اصل پر قائم رہتی ہے، تاوقتیکہ اس کے برخلاف یقین و وثوق نہ ہو جائے۔ شک و تردد کوئی قابل اعتبار چیز نہیں۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 66   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 177  
´وضو میں تسلسل لازم ہے`
«. . . أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدَ حَرَكَةً فِي دُبُرِهِ أَحْدَثَ أَوْ لَمْ يُحْدِثْ فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ، فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو پھر وہ اپنی سرین میں کچھ حرکت محسوس کرے، اور اسے شبہ ہو جائے کہ وضو ٹوٹا یا نہیں، تو جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے، یا بو نہ سونگھ لے، نماز نہ توڑے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 177]
فوائد و مسائل:
جب طہارت کا یقین ہو اور وضو ٹوٹنے کا محض شبہ ہو تو نمازی کو چاہیے کہ اپنے یقین پر عمل کرے۔ اور ویسے بھی مسلمان کو شبہات کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے بلکہ شبہات سے بچنا چاہیے۔ اسی لیے فقہ کا قاعدہ ہے کہ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔ [الاشباہ والنظائر]
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 177   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 74  
´ہوا خارج ہونے سے وضو کے ٹوٹ جانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: وضو واجب نہیں جب تک آواز نہ ہو یا بو نہ آئے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 74]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شک کی وجہ سے کہ ہوا خارج ہوئی یا نہیں وضو نہیں ٹوٹتا،
اور اس سے ایک اہم اصول کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ ہر چیز اپنے حکم پر قائم رہتی ہے جب تک اس کے خلاف کوئی بات یقین و وثوق سے ثابت نہ ہو جائے،
محض شبہ سے حکم نہیں بدلتا۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 74   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.