الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
31. باب أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ:
31. باب: پنجگانہ اوقات نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 1382
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وعمرو الناقد ، قال عمرو: حدثنا سفيان ، عن الزهري ، عن عروة ، عن عائشة ، كان النبي صلى الله عليه وسلم، " يصلي العصر والشمس طالعة في حجرتي، لم يفئ الفيء بعد "، وقال ابو بكر: لم يظهر الفيء بعد.حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي، لَمْ يَفِئْ الْفَيْءُ بَعْدُ "، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ.
) ابوبکر بن ابی شبیہ اور عمرو ناقد نے حدیث سنائی، عمرو نے کہا: سفیان نے ہمیں زہری سے حدیث سنائی، انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج میرےحجرے میں چمک رہا ہوتا تھا، ابھی (صحن کے مشرق حصے میں) سایہ نہ پھیلاہوتا تھا۔ ابو بکر نے (معنی کے وضاحت کرتے ہوئے) کہا: ابھی (مشرق کی طرف) سایہ ظاہر نہ ہوا ہوتا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے جبکہ دھوپ میرے کمرہ میں چمک رہی ہوتی، ابھی تک اس جگہ سے سایہ نہ پھیلا ہوتا اور ابوبکر نےلَمْ يَفِئِ الْفَيْءُ کی جگہ لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ کہا (دونوں کا معنی ایک ہی ہے)
ترقیم فوادعبدالباقی: 611
   صحيح البخاري3103عائشة بنت عبد اللهيصلي العصر والشمس لم تخرج من حجرتها
   صحيح البخاري545عائشة بنت عبد اللهصلى العصر والشمس في حجرتها لم يظهر الفيء من حجرتها
   صحيح البخاري544عائشة بنت عبد اللهيصلي العصر والشمس لم تخرج من حجرتها
   صحيح البخاري546عائشة بنت عبد اللهيصلي صلاة العصر والشمس طالعة في حجرتي لم يظهر الفيء بعد
   صحيح مسلم1381عائشة بنت عبد اللهيصلي العصر والشمس في حجرتها قبل أن تظهر
   صحيح مسلم1382عائشة بنت عبد اللهيصلي العصر والشمس طالعة في حجرتي لم يفئ الفيء بعد
   صحيح مسلم1383عائشة بنت عبد اللهيصلي العصر والشمس في حجرتها لم يظهر الفيء في حجرتها
   صحيح مسلم1384عائشة بنت عبد اللهيصلي العصر والشمس واقعة في حجرتي
   جامع الترمذي159عائشة بنت عبد اللهصلى العصر والشمس في حجرتها ولم يظهر الفيء من حجرتها
   سنن أبي داود407عائشة بنت عبد اللهيصلي العصر والشمس في حجرتها قبل أن تظهر
   سنن النسائى الصغرى506عائشة بنت عبد اللهصلى صلاة العصر والشمس في حجرتها لم يظهر الفيء من حجرتها
   سنن ابن ماجه683عائشة بنت عبد اللهصلى العصر والشمس في حجرتي لم يظهرها الفيء بعد

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 506  
´عصر جلدی پڑھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور دھوپ ان کے حجرے میں تھی، اور سایہ ان کے حجرے سے (دیوار پر) نہیں چڑھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 506]
506 ۔ اردو حاشیہ: حدیث کا مقصد عصر کی نماز جلدی پڑھنا ہے، یعنی مثل اول ہوتے ہیں پڑھ لیتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے مراد ان کے گھر کا صحن ہے جو دیوار سے گھرا ہوا تھا۔ دوپہر کو پورے صحن میں دھوپ ہوتی تھی اور جیسے جیسے سورج ڈھلتا جاتا تھا، مغربی دیوار کا سایہ صحن میں پھیلتا جاتا تھا، لیکن دیوار چونکہ بہت زیادہ اونچی نہ تھی، اس لیے ابھی صحن میں دھوپ باقی رہتی تھی، مشرقی دیوار پر سایہ چڑھ نہ پاتا تھا کہ وہ مغربی دیوار کے ایک مثل ہو جاتا تھا اور اس وقت نماز قائم کر دی جاتی تھی۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 506   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 407  
´عصر کے وقت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ دھوپ میرے حجرے میں ہوتی، ابھی دیواروں پر چڑھی نہ ہوتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 407]
407۔ اردو حاشیہ:
حجرہ عربی زبان میں گھر کے ساتھ گھرے ہوئے آنگن کو بھی کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے صحن کی دیواریں چھوٹی ہی تھیں اس لیے دھوپ ابھی آنگن ہی میں ہوتی تھی۔ مشرقی دیوارپر چڑھتی نہ تھی کہ عصر کا وقت ہو جاتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ آپ اوّل وقت میں عصر پڑھتے تھے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 407   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث683  
´نماز عصر کا وقت۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور دھوپ میرے کمرے میں باقی رہی، ابھی تک سایہ دیواروں پر چڑھا نہیں تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 683]
اردو حاشہ:
اس سے معلوم ہو کہ نبی ﷺ نے عصر کی نماز جلدی ادا فرمائی کیونکہ اگر دیر کی جائے تو سایہ پورے صحن میں پھیل جائے گا اور دیوار پر چڑھنا شروع ہو جائے گا۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 683   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1382  
1
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
قَبْلَ أَنْ تَظْهَر:
دھوپ ابھی کمرہ میں موجود تھی،
اسی مفہوم کو لَمْ يَفِئِ الْفَيْءُ سے ادا کیا گیا ہے کہ دھوپ کی جگہ سایہ نے نہیں لی تھی،
دھوپ اٹھتی ہے تو اس کی جگہ سایہ پھیلتا ہے،
اس لیے دونوں الفاظ میں تضاد نہیں ہے اور لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ کا معنی بھی یہی ہے کہ اس دھوپ کی جگہ سایہ ظاہر نہیں ہوا تھا،
اس کی جگہ سایہ نہیں پھیلا تھا،
اس طرح آپﷺ عصر کی نماز وقت ہوتے ہی پڑھ لیتے تھے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 1382   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.