صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
31. باب أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ:
باب: پنجگانہ اوقات نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 1379
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث . ح، قال: وحدثنا ابن رمح ، اخبرنا الليث ، عن ابن شهاب ، " ان عمر بن عبد العزيز، اخر العصر شيئا، فقال له عروة : اما إن جبريل، قد نزل، فصلى إمام رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال له عمر: اعلم ما تقول يا عروة، فقال: سمعت بشير بن ابي مسعود ، يقول: سمعت ابا مسعود ، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " نزل جبريل، فامني، فصليت معه، ثم صليت معه، ثم صليت معه، ثم صليت معه، ثم صليت معه، يحسب باصابعه خمس صلوات ".حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، " أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ : أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ، قَدْ نَزَلَ، فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَأَمَّنِي، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ".
‏‏‏‏ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے ایک دن نماز عصر میں کچھ دیر کی تو عروہ نے ان سے کہا کہ بیشک جبرائیل علیہ السلام اترے اور انہوں نے امام ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: اے عروہ سمجھ کر کہو تم کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے سنا ہے بشیر بن ابی مسعود سے وہ کہتے تھے: میں نے سنا ابومسعود سے کہ کہتے تھے: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: جبرئیل اترے اور میرے امام ہوئے اور میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی اور پھر نماز پڑھی، پھر نماز پڑھی، پھر نماز پڑھی، پھر نماز پڑھی ان کے ساتھ۔ حساب کرتے تھے پانچ نمازوں کا اپنی انگلیوں پر۔
حدیث نمبر: 1380
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
اخبرنا يحيى بن يحيى التميمي ، قال: قرات على مالك ، عن ابن شهاب ، ان عمر بن عبد العزيز، اخر الصلاة يوما، فدخل عليه عروة بن الزبير ، فاخبره ان المغيرة بن شعبة، اخر الصلاة يوما وهو بالكوفة، فدخل عليه ابو مسعود الانصاري ، فقال: " ما هذا يا مغيرة؟ اليس قد علمت، ان جبريل نزل فصلى، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم صلى، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم صلى، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم صلى، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم صلى، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال: بهذا امرت، فقال عمر لعروة: انظر ما تحدث يا عروة، او إن جبريل عليه السلام، هو اقام لرسول الله صلى الله عليه وسلم وقت الصلاة، فقال عروة: كذلك كان بشير بن ابي مسعود يحدث، عن ابيه .أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ؟ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ، أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: بِهَذَا أُمِرْتُ، فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ: انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ، أَوَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام، هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ .
‏‏‏‏ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک دن نماز عصر میں دیر کی سو ان کے پاس عروہ بن زبیر آئے اور خبر دی کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن نماز میں دیر کی تھی کوفہ میں تو ان کے پاس ابومسعود انصاری آئے اور کہا کہ اے مغیرہ! تم نے یہ کیا کیا؟ کیا تم یہ نہیں جانتے کہ جبرئیل علیہ السلام اترے اور نماز پڑھی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر نماز پڑھی اور آپ نے بھی نماز پڑھی، پھر نماز پڑھی اور آپ نے بھی پڑھی، پھر پڑھی انہوں نے اور آپ نے بھی پڑھی، پھر پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پڑھی۔ پھر فرمایا جبرئیل علیہ السلام نے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی حکم ہوا ہے (یعنی باوجود اس اہتمام کے رب جلیل نے بانزال جبرئیل علیہ السلام اوقات نماز تعلیم فرمائے پھر تم اس میں تاخیر کیوں کرتے ہو) تب کہا عمران بن عبدالعزیز نے عروہ سے کہ اے عروہ! تم کیا کہتے ہو کیا جبرئیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اوقات نماز تعلیم فرمائے۔ عروہ نے کہا: ہاں ایسے ہی بشیر بن ابی مسعود اپنے باپ سے روایت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1381
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
قال عروة : ولقد حدثتني عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، " كان يصلي العصر، والشمس في حجرتها، قبل ان تظهر ".قَالَ عُرْوَةُ : وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَليِّ الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا، قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ ".
‏‏‏‏ عروہ نے کہا: اور روایت کی مجھ سے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بی بی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے تھے کہ دھوپ ان کے آنگن میں ہوتی تھی دیوار پر چڑھنے نہ پاتی تھی۔
حدیث نمبر: 1382
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وعمرو الناقد ، قال عمرو: حدثنا سفيان ، عن الزهري ، عن عروة ، عن عائشة ، كان النبي صلى الله عليه وسلم، " يصلي العصر والشمس طالعة في حجرتي، لم يفئ الفيء بعد "، وقال ابو بكر: لم يظهر الفيء بعد.حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي، لَمْ يَفِئْ الْفَيْءُ بَعْدُ "، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ.
‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور سورج میرے حجرہ میں چمکتا تھا۔
حدیث نمبر: 1383
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني حرملة بن يحيى ، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، قال: اخبرني عروة بن الزبير ، ان عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم " كان يصلي العصر، والشمس في حجرتها، لم يظهر الفيء في حجرتها ".وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا، لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ فِي حُجْرَتِهَا ".
‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ انہوں نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور دھوپ ان کے صحن میں ہوتی تھی اوپر نہ چڑھتی تھی۔
حدیث نمبر: 1384
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابن نمير ، قالا: حدثنا وكيع ، عن هشام ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، يصلي العصر، والشمس واقعة في حجرتي ".حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ وَاقِعَةٌ فِي حُجْرَتِي ".
‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اور ابھی سورج میرے حجرے میں ہوتا۔
حدیث نمبر: 1385
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو غسان المسمعي ، ومحمد بن المثنى ، قالا: حدثنا معاذ وهو ابن هشام، حدثني ابي ، عن قتادة ، عن ابي ايوب ، عن عبد الله بن عمرو ، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم، قال: " إذا صليتم الفجر، فإنه وقت إلى ان يطلع قرن الشمس الاول، ثم إذا صليتم الظهر، فإنه وقت إلى ان يحضر العصر، فإذا صليتم العصر، فإنه وقت إلى ان تصفر الشمس، فإذا صليتم المغرب، فإنه وقت إلى ان يسقط الشفق، فإذا صليتم العشاء، فإنه وقت إلى نصف الليل ".حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُمُ الْفَجْرَ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ، ثُمَّ إِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَحْضُرَ الْعَصْرُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَسْقُطَ الشَّفَقُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ، فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم صبح کی نماز پڑھ چکو تو اس کا وقت باقی ہے جب تک سورج کا اوپر کا کنارہ نہ نکلے، پھر جب تم ظہر کی نماز پڑھ چکو تو اس کا وقت باقی ہے جب تک کہ عصر کا وقت آئے گا، پھر جب عصر پڑھ چکو اس کا وقت باقی ہے جب تک کہ آفتاب زرد نہ ہو، پھر جب مغرب پڑھ چکو تو اس کا وقت باقی ہے جب تک شفق غروب ہو، پھر جب تم عشاء پڑھ چکو تو اس کا وقت باقی ہے آدھی رات تک۔
حدیث نمبر: 1386
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبري ، حدثنا ابي ، حدثنا شعبة ، عن قتادة ، عن ابي ايوب واسمه يحيى بن مالك الازدي ، ويقال: المراغي والمراغ: حي من الازد، عن عبد الله بن عمرو ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " وقت الظهر، ما لم يحضر العصر، ووقت العصر، ما لم تصفر الشمس، ووقت المغرب، ما لم يسقط ثور الشفق، ووقت العشاء إلى نصف الليل، ووقت الفجر، ما لم تطلع الشمس ".حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَاسْمَهْ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ الأَزْدِيُّ ، وَيُقَالُ: الْمَرَاغِيُّ وَالْمَرَاغ: حَيٌّ مِنَ الأَزْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَقْتُ الظُّهْرِ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ، مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ، مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَوَقْتُ الْفَجْرِ، مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کا وقت باقی رہتا ہے جب تک کہ عصر کا وقت آئے (یعنی آفتاب کا سایہ ایک مثل ہو جائے) اور عصر کا وقت مستحب باقی رہتا ہے جب تک کہ آفتاب زرد نہ ہو، وقت مغرب کا باقی رہتا ہے جب تک کہ شفق کی تیزی نہ جائے اور وقت مستحب عشاء کا باقی رہتا ہے جب تک کہ آدھی رات نہ ہو اور وقت فجر کا باقی رہتا ہے جب کہ آفتاب نہ نکلے۔
حدیث نمبر: 1387
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا زهير بن حرب ، حدثنا ابو عامر العقدي ، ح. قال: وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا يحيى بن ابي بكير كلاهما، عن شعبة بهذا الإسناد، وفي حديثهما، قال شعبة: رفعه مرة، ولم يرفعه مرتين.حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ح. قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا، قَالَ شُعْبَةُ: رَفَعَهُ مَرَّةً، وَلَمْ يَرْفَعْهُ مَرَّتَيْنِ.
‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ روایت آئی ہے۔
حدیث نمبر: 1388
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني احمد بن إبراهيم الدورقي ، حدثنا عبد الصمد ، حدثنا همام ، حدثنا قتادة ، عن ابي ايوب ، عن عبد الله بن عمرو ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " وقت الظهر إذا زالت الشمس، وكان ظل الرجل كطوله، ما لم يحضر العصر، ووقت العصر، ما لم تصفر الشمس، ووقت صلاة المغرب، ما لم يغب الشفق، ووقت صلاة العشاء إلى نصف الليل الاوسط، ووقت صلاة الصبح، من طلوع الفجر، ما لم تطلع الشمس، فإذا طلعت الشمس، فامسك عن الصلاة، فإنها تطلع بين قرني شيطان ".وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ، مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، مَا لَمْ يَغِبْ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الأَوْسَطِ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ، مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ، مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کا وقت اس وقت تک ہوتا ہے جب سورج ڈھل جائے اور رہتا ہے جب تک کہ آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جائے جب تک کہ عصر کا وقت نہ آئے۔ اور عصر کا وقت جب تک رہتا ہے کہ آفتاب زرد نہ ہو اور وقت مغرب جب تک رہتا ہے کہ شفق غائب نہ ہو اور وقت عشاء کا جب تک رہتا ہے کہ بیچ کی آدھی رات نہ ہو اور وقت نماز فجر کا طلوع فجر سے جب تک ہے، کہ آفتاب نہ نکلے۔ پھر جب آفتاب نکل آئے تو نماز سے رکا رہے اس لئے کہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں میں نکلتا ہے۔
حدیث نمبر: 1389
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني احمد بن يوسف الازدي ، حدثنا عمر بن عبد الله بن رزين ، حدثنا إبراهيم يعني ابن طهمان ، عن الحجاج وهو ابن حجاج، عن قتادة ، عن ابي ايوب ، عن عبد الله بن عمرو بن العاص ، انه قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم، عن وقت الصلوات، فقال: " وقت صلاة الفجر، ما لم يطلع قرن الشمس الاول، ووقت صلاة الظهر، إذا زالت الشمس عن بطن السماء، ما لم يحضر العصر، ووقت صلاة العصر، ما لم تصفر الشمس، ويسقط قرنها الاول، ووقت صلاة المغرب، إذا غابت الشمس، ما لم يسقط الشفق، ووقت صلاة العشاء، إلى نصف الليل ".وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ وَهُوَ ابْنُ حَجَّاجٍ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ، فَقَالَ: " وَقْتُ صَلَاةِ الْفَجْرِ، مَا لَمْ يَطْلُعْ قَرْنُ الشَّمْسِ الأَوَّلُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ، إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَيَسْقُطْ قَرْنُهَا الأَوَّلُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ، مَا لَمْ يَسْقُطِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کا وقت پوچھا گیا۔ فرمایا: نماز فجر کا وقت جب تک ہے کہ سورج کا اوپر کنارہ نہ نکلے اور ظہر کی نماز کا وقت جب ہے کہ آسمان کے بیچ سے آفتاب ڈھل جائے، جب تک عصر کا وقت نہ آئے اور عصر کا وقت جب تک ہے کہ آفتاب زرد ہو جائے اور اس کا اوپر کا کنارہ ڈوب نہ جائے اور مغرب کی نماز کا وقت جب ہوتا ہے کہ آفتاب ڈوب جائے جب تک کہ شفق نہ ڈوبے اور عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔
حدیث نمبر: 1390
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا حدثنا يحيى بن يحيى التميمي ، قال: اخبرنا عبد الله بن يحيى بن ابي كثير ، قال: سمعت ابي ، يقول: " لا يستطاع العلم براحة الجسم ".حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: " لَا يُسْتَطَاعُ الْعِلْمُ بِرَاحَةِ الْجِسْمِ ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنے باپ یحییٰ سے سنا کہ فرماتے تھے: علم آرام طلبی کے ساتھ نصیب نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 1391
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني زهير بن حرب ، وعبيد الله بن سعيد كلاهما، عن الازرق ، قال زهير، حدثنا إسحاق بن يوسف الازرق، حدثنا سفيان ، عن علقمة بن مرثد ، عن سليمان بن بريدة ، عن ابيه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، ان رجلا ساله، عن وقت الصلاة، فقال له: " صل، معنا هذين يعني اليومين، فلما زالت الشمس امر بلالا، فاذن، ثم امره فاقام الظهر، ثم امره فاقام العصر، والشمس مرتفعة بيضاء نقية، ثم امره فاقام المغرب، حين غابت الشمس، ثم امره فاقام العشاء حين غاب الشفق، ثم امره فاقام الفجر حين طلع الفجر، فلما ان كان اليوم الثاني، امره فابرد بالظهر، فابرد بها، فانعم ان يبرد بها، وصلى العصر، والشمس مرتفعة، اخرها فوق الذي كان وصلى المغرب، قبل ان يغيب الشفق، وصلى العشاء بعدما ذهب ثلث الليل، وصلى الفجر فاسفر بها "، ثم قال: اين السائل عن وقت الصلاة؟ فقال الرجل: انا يا رسول الله، قال: وقت صلاتكم بين ما رايتم.حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنِ الأَزْرَقِ ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ، عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ: " صَلِّ، مَعَنَا هَذَيْنِ يَعْنِي الْيَوْمَيْنِ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلَالًا، فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي، أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ، فَأَبْرَدَ بِهَا، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، وَصَلَّى الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ، قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا "، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ.
‏‏‏‏ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے نماز کا وقت پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دو روز ہمارے ساتھ نماز پڑھو۔ پھر جب آفتاب ڈھل گیا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی، پھر عصر پڑھی اور سورج بلند تھا سفید صاف پھر حکم دیا تو اقامت کہی مغرب کی جب آفتاب ڈوب گیا، پھر حکم دیا تو اقامت کہی عشاء کی جب شفق ڈوب گئی، پھر حکم دیا اقامت کہی فجر کی جب فجر طلوع ہوئی، پھر جب دوسرا دن ہوا، حکم کیا تو ظہر ٹھنڈے وقت پڑھی اور بہت ٹھنڈے وقت پڑھی اور عصر پڑھی اور سورج بلند تھا مگر روز اول سے ذرا تاخیر کی اور مغرب پڑھی شفق ڈوبنے سے پہلے اور عشاء پڑھائی تہائی رات کے بعد اور فجر پڑھی جب خوب روشنی ہو گئی۔ پھر فرمایا:وہ سائل کہاں ہے جو نماز کا وقت پوچھتا تھا؟، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ جو دونوں وقت تم نے دیکھا ان کے بیچ میں تمہاری نماز کا وقت ہے۔
حدیث نمبر: 1392
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني إبراهيم بن محمد بن عرعرة السامي ، حدثنا حرمي بن عمارة ، حدثنا شعبة ، عن علقمة بن مرثد ، عن سليمان بن بريدة ، عن ابيه ، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم، فساله عن مواقيت الصلاة، فقال: " اشهد معنا الصلاة، فامر بلالا فاذن بغلس، فصلى الصبح، حين طلع الفجر، ثم امره بالظهر، حين زالت الشمس عن بطن السماء، ثم امره بالعصر، والشمس مرتفعة، ثم امره بالمغرب حين وجبت الشمس، ثم امره بالعشاء حين وقع الشفق، ثم امره الغد فنور بالصبح، ثم امره بالظهر، فابرد، ثم امره بالعصر، والشمس بيضاء نقية، لم تخالطها صفرة، ثم امره بالمغرب، قبل ان يقع الشفق، ثم امره بالعشاء عند ذهاب ثلث الليل او بعضه "، شك حرمي، فلما اصبح، قال: اين السائل؟ ما بين ما رايت وقت.وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " اشْهَدْ مَعَنَا الصَّلَاةَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ بِغَلَسٍ، فَصَلَّى الصُّبْحَ، حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ، حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ حِينَ وَقَعَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ الْغَدَ فَنَوَّرَ بِالصُّبْحِ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ، فَأَبْرَدَ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ، وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، لَمْ تُخَالِطْهَا صُفْرَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ، قَبْلَ أَنْ يَقَعَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ عِنْدَ ذَهَابِ ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ بَعْضِهِ "، شَكَّ حَرَمِيٌّ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ؟ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتَ وَقْتٌ.
‏‏‏‏ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور نماز کے وقتوں کی بابت پوچھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم ہمارے ساتھ نماز میں حاضر رہو، پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم کیا، انہوں نے اذان دی تاریکی میں، پھر صبح کی نماز پڑھی جب فجر طلوع ہوئی، پھر حکم کیا ظہر کا جب آسمان کے بیچ سے آفتاب ڈھلا، پھر حکم کیا عصر کا اور سورج بلند تھا، پھر حکم دیا مغرب کا جب سورج ڈوبا، پھر حکم دیا عشاء کا جب شفق ڈوبی، پھر حکم کیا ان کو دوسرے دن اور روشنی میں پڑھی صبح، پھر ان کو ظہر کا حکم کیا اور ٹھنڈے وقت نماز پڑھی، پھر ان کو عصر کا حکم کیا اور سورج سفید تھا کہ اس میں زردی نہ ملنے پائی تھی، پھر ان کو مغرب کا حکم کیا قبل اس کے کہ شفق جانے پائے پھر ان کو عشاء کا حکم کیا جب ثلث لیل گزر گئی یا اس سے کچھ کم۔ شک کیا حری نے اس میں (جو راوی حدیث ہیں)، پھر صبح ہوئی فرمایا:کہاں ہے وہ سائل؟ پھر فرمایا:اس کے درمیان میں جو تم نے دیکھا ہے سب وقت ہے۔
حدیث نمبر: 1393
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، حدثنا ابي ، حدثنا بدر بن عثمان ، حدثنا ابو بكر بن ابي موسى ، عن ابيه ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، انه اتاه سائل، يساله عن مواقيت الصلاة، فلم يرد عليه شيئا، قال: " فاقام الفجر حين انشق الفجر، والناس لا يكاد يعرف بعضهم بعضا، ثم امره، فاقام بالظهر حين زالت الشمس، والقائل، يقول: قد انتصف النهار، وهو كان اعلم منهم، ثم امره، فاقام بالعصر والشمس مرتفعة، ثم امره، فاقام بالمغرب حين وقعت الشمس، ثم امره، فاقام العشاء حين غاب الشفق، ثم اخر الفجر من الغد حتى انصرف منها، والقائل يقول: قد طلعت الشمس او كادت، ثم اخر الظهر، حتى كان قريبا من وقت العصر بالامس، ثم اخر العصر، حتى انصرف منها، والقائل يقول: قد احمرت الشمس، ثم اخر المغرب حتى كان عند سقوط الشفق، ثم اخر العشاء حتى كان ثلث الليل الاول، ثم اصبح فدعا السائل، فقال: الوقت بين هذين ".حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَتَاهُ سَائِلٌ، يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، قَالَ: " فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ، وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، وَالْقَائِلُ، يَقُولُ: قَدِ انْتَصَفَ النَّهَارُ، وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ، ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ، حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ، حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلِ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَدَعَا السَّائِلَ، فَقَالَ: الْوَقْتُ بَيْنَ هَذَيْنِ ".
‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک سائل حاضر ہوا اور نماز کے اوقات پوچھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کچھ جواب نہ دیا (اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کر کے بتانا منظور تھا) پھر فجر ادا کی جب فجر نکلی اور لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے نہ تھے۔ (یعنی اندھیرے کے سبب سے) پھر حکم کیا اور ظہر ادا کی جب آفتاب ڈھل گیا اور کہنے والا کہتا تھا کہ دوپہر ہو گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر جانتے تھے۔ پھر ان کو حکم کیا اور عصر کی نماز ادا کی اور سورج بلند تھا۔ پھر ان کو حکم کیا اور ادا کی مغرب جب سورج ڈوب گیا۔ پھر حکم کیا ان کو اور ادا کی عشاء جب ڈوب گئی شفق پھر حکم کیا فجر کا دوسرے دن اور جب اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا کہ سورج نکل آیا یا نکلنے کو ہے۔ پھر تاخیر کی ظہر میں یہاں تک کہ قریب ہو گیا کل کے عصر پڑھنے کا وقت۔ پھر تاخیر کی عصر میں یہاں تک کہ جب فارغ ہوئے کہنے والا کہتا تھا کہ آفتاب سرخ ہو گیا پھر تاخیر کی مغرب کی کہ شفق ڈوبنے کے قریب ہو گئی۔ پھر تاخیر کی عشاء کی یہاں تک کہ تہائی رات ہوگئی اول کی۔ پھر صبح ہوئی اور سائل کو بلایا اور فرمایا: نماز کے اوقات ان دونوں وقتوں کے بیچ میں ہیں۔
حدیث نمبر: 1394
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا وكيع ، عن بدر بن عثمان ، عن ابي بكر بن ابي موسى سمعه من عن ابيه ، ان سائلا اتى النبي صلى الله عليه وسلم، فساله عن مواقيت الصلاة، بمثل حديث ابن نمير، غير انه، قال: فصلى المغرب، قبل ان يغيب الشفق في اليوم الثاني.حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى سَمِعَهُ مِنْ عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ سَائِلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي.
‏‏‏‏ سیدنا ابوسیٰ رضی اللہ عنہ نے وہی روایت کی جو اوپر گزری ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ اس راوی نے کہا: مغرب کی نماز دوسرے دن غروب شفق سے پہلے پڑھی۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.