صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب السَّهْوِ فِي الصَّلاَةِ وَالسُّجُودِ لَهُ:
باب: نماز میں بھولنے اور سجدہ سہو کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 389 ترقیم شاملہ: -- 1265
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي، جَاءَهُ الشَّيْطَانُ، فَلَبَسَ عَلَيْهِ، حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ".
امام مالک نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آ کر اسے التباس (شبہ) میں ڈالتا ہے حتیٰ کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی (رکعتیں) پڑھی ہیں۔ تم میں سے کوئی جب یہ (کیفیت) پائے تو وہ (آخری تشہد میں) بیٹھے ہوئے دو سجدے کر لے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1265]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آ کر اسے التباس (شبہ) میں ڈالتا ہے، حتیٰ کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں، تم میں سے کوئی جب اس فعل میں مبتلا ہو جائے تو وہ بیٹھ کر یعنی آخر میں دو سجدے کر لے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1265]
ترقیم فوادعبدالباقی: 389
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 569 ترقیم شاملہ: -- 1266
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ كِلَاهُمَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
سفیان بن عیینہ اور لیث بن سعد نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1266]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے چار اساتذہ سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1266]
ترقیم فوادعبدالباقی: 569
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 569 ترقیم شاملہ: -- 1267
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا نُودِيَ بِالأَذَانِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ الأَذَانَ، فَإِذَا قُضِيَ الأَذَانُ أَقْبَلَ، فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، يَخْطُرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " ,
یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے، کہا: ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث سنائی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اذان کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، گوز مار رہا ہوتا ہے تاکہ اذان (کی آواز) نہ سنے۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو (واپس) آتا ہے، پھر جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے، جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو آ جاتا ہے تاکہ انسان اور اس کے دل کے درمیان خیال آرائی شروع کرائے، وہ کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں چیز یاد کرو، وہ چیزیں (اسے یاد کراتا ہے) جو اسے یاد نہیں ہوتیں حتیٰ کہ وہ شخص یوں ہو جاتا ہے کہ اسے یاد نہیں رہتا اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، چنانچہ جب تم میں سے کسی کو یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو وہ (تشہد میں) بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1267]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا، پشت پھیر کر بھاگتا ہے تاکہ اذان سنائی نہ دے، جب اذان مکمل ہو جاتی ہے تو واپس آتا ہے، جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے، پھر جاتا ہے، جب تکبیر کہی جا چکتی ہے تو آ کر انسان اور اس کے دل میں حائل ہوتا ہے یعنی اس کے دل میں شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے، کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں چیز یاد کرو، وہ چیزیں جو اسے یاد نہیں ہوتیں حتیٰ کہ اسے یاد نہیں رہتا اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں، جب تم میں سے کسی کو یہ یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں تو بیٹھے بیٹھے (تشہد میں) دو سجدے کر لے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1267]
ترقیم فوادعبدالباقی: 569
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 569 ترقیم شاملہ: -- 1268
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ وَلَّى، وَلَهُ ضُرَاطٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ: فَهَنَّاهُ وَمَنَّاهُ وَذَكَّرَهُ مِنْ حَاجَاتِهِ، مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ.
عبدالرحمن اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے (آگے اوپر کی روایت کی طرح ذکر کیا) اور یہ اضافہ کیا: ”اسے رغبت اور امید دلاتا ہے اور اسے اس کی ایسی ضرورتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں ہوتیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1268]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا پشت پھیر کر بھاگتا ہے“، اوپر کی طرح روایت سنائی اور اس میں یہ اضافہ کیا: ”اسے رغبتیں اور امیدیں دلاتا ہے اور اسے اس کی وہ ضرورتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہ تھیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1268]
ترقیم فوادعبدالباقی: 569
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 570 ترقیم شاملہ: -- 1269
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ: " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبدالرحمن اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی ایک نماز کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر (تیسری کے لیے) کھڑے ہو گئے اور (درمیان کے تشہد کے لیے) نہ بیٹھے تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب آپ نے نماز پوری کر لی اور ہم آپ کے سلام کے انتظار میں تھے تو آپ نے تکبیر کہی اور بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1269]
حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نماز کی دو رکعتیں پڑھائیں پھر (تیسری کے لیے) کھڑے ہو گئے، درمیانی تشہد کے لیے نہ بیٹھے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کا انتظار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1269]
ترقیم فوادعبدالباقی: 570
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 570 ترقیم شاملہ: -- 1270
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَسْدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِب، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ، مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ ".
لیث نے ابن شہاب سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ اسدی رضی اللہ عنہ سے، جو بنو عبدالمطلب کے حلیف تھے، روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں، جب آپ کو (دوسری رکعت کے بعد) بیٹھنا تھا، کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ نے بیٹھے بیٹھے ہر سجدے کے لیے تکبیر کہتے ہوئے سلام سے پہلے دو سجدے کیے، اور لوگوں نے بھی (تشہد کے لیے) بیٹھنے کی جگہ، جو آپ بھول گئے تھے، آپ کے ساتھ دو سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1270]
حضرت عبداللہ بن بحینہ اسدی رضی اللہ عنہ، جو عبدالمطلب کی اولاد کے حلیف تھے، ان سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں (دوسری رکعت کے بعد) بیٹھنے کی بجائے (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہو گئے، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے ہر سجدہ کے لیے تکبیر کہہ کر دو سجدے کر لیے اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو سجدے کیے، اس جلوس (بیٹھنا) کی جگہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1270]
ترقیم فوادعبدالباقی: 570
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 570 ترقیم شاملہ: -- 1271
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَزْدِيِّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ فِي الشَّفْعِ، الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ فِي صَلَاتِهِ، فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ، سَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
(ابن شہاب کے بجائے) یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمن اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مالک ابن بحسینہ ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد جہاں نماز میں آپ کا بیٹھنے کا ارادہ تھا، (وہاں) کھڑے ہو گئے، آپ نے اپنی نماز جاری رکھی۔ پھر جب نماز کے آخر میں پہنچے تو سلام سے پہلے سجدے کیے، اس کے بعد سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1271]
حضرت عبداللہ بن مالک بن بحینہ ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دوگانہ کے بعد جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنا چاہتے تھے کھڑے ہو گئے اور نماز پڑھتے رہے، پھر جب نماز کے آخر میں پہنچ گئے تو سلام سے پہلے دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1271]
ترقیم فوادعبدالباقی: 570
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 571 ترقیم شاملہ: -- 1272
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، ثَلَاثًا، أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ، وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا، شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ، كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ ".
سلیمان بن بلال نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ تین یا چار؟ تو وہ شک کو چھوڑ دے اور جتنی رکعتوں پر اسے یقین ہے ان پر بنیاد رکھے (تین یقینی ہیں تو چوتھی پڑھ لے) پھر سلام سے پہلے دو سجدے کر لے، اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت (چھ رکعتیں) کر دیں گے اور اگر اس نے چار کی تکمیل کر لی تھی تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1272]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک پڑ جائے اور اسے معلوم نہ ہو سکے کہ اس نے تین رکعت پڑھی ہیں یا چار تو وہ شک کو پھینک دے (نظر انداز کر دے) اور یقین پر بنا کرے، پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرے، اگر اس نے پانچ رکعت پڑھ لی ہیں تو وہ (سجدے) اس کی نماز کو جوڑا (چھ رکعت) کر دیں گے اور اگر اس نے اس رکعت سے چار کی تکمیل کر لی ہے تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1272]
ترقیم فوادعبدالباقی: 571
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 571 ترقیم شاملہ: -- 1273
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي مَعْنَاهُ، قَالَ: يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ، قَبْلَ السَّلَامِ، كَمَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ.
داؤد بن قیس نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اس کے معنی کے مطابق یہ کہا: وہ ”(نمازی) سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کر لے۔“ جس طرح سلیمان بن بلال نے کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1273]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1273]
ترقیم فوادعبدالباقی: 571
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 572 ترقیم شاملہ: -- 1274
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ، زَادَ أَوْ نَقَصَ: فَلَمَّا سَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَثَنَى رِجْلَيْهِ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ. فَقَالَ: " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ، أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى، كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ".
جریر نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ابراہیم نے کہا: آپ نے اس میں زیادتی یا کمی کر دی۔ پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ سے عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز (تبدیلی) آ گئی ہے؟ آپ نے پوچھا: ”وہ کیا؟“ صحابہ نے عرض کی: آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھائی ہیں۔ (راوی نے کہا:) آپ نے اپنے پاؤں موڑے، قبلہ کی طرف رخ کیا اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا: ”اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوتی تو میں تمہیں بتا دیتا، لیکن میں ایک انسان ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں، اس لیے جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے تو وہ صحیح کی جستجو کرے اور اس کے مطابق (نماز کی) تکمیل کرے، پھر (سہو کے) دو سجدے کر لے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1274]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، ابراہیم نے کہا: ”اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادتی یا کمی کی“، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کیا ہے؟“ صحابہ نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھائی ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں موڑے، قبلہ کی طرف رخ کیا اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا: ”اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں بتا دیتا، لیکن میں بھی انسان ہوں، تمہاری طرح بھول جاتا ہوں، اس لیے جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو۔ اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک پڑ جائے تو وہ درستگی یا صحیح بات کی طرف پہنچنے کی کوشش کرے اور اس کے مطابق نماز پوری کر لے، پھر دو سجدے کر لے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1274]
ترقیم فوادعبدالباقی: 572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة