صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
54. باب اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلاَةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ:
54. باب: جب مسلمانوں پر کوئی بلا نازل ہو تو نمازوں میں بلند آواز سے قنوت پڑھنا اور اللہ کے ساتھ پناہ مانگنا مستحب ہے اور اس کا محل و مقام آخری رکعت کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور صبح کی نماز میں قنوت پر دوام مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 1548
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني محمد بن حاتم ، حدثنا بهز بن اسد ، حدثنا حماد بن سلمة ، اخبرنا انس بن سيرين ، عن انس بن مالك ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، " قنت شهرا بعد الركوع في صلاة الفجر، يدعو على بني عصية ".وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، يَدْعُو عَلَى بَنِي عُصَيَّةَ ".
‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں بعد رکوع کے ایک مہینہ تک قنوت پڑھا۔ بددعا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عصیہ کے قبیلہ پر۔
10519 - D 1548 - U
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
   صحيح البخاري7341أنس بن مالكقنت شهرا يدعو على أحياء من بني سليم
   صحيح البخاري2814أنس بن مالكدعا رسول الله على الذين قتلوا أصحاب بئر معونة ثلاثين غداة على رعل ذكوان عصية عصت الله ورسوله
   صحيح البخاري4096أنس بن مالكقنت رسول الله بعد الركوع شهرا كان بعث ناسا يقال لهم القراء وهم سبعون رجلا إلى ناس من المشركين وبينهم وبين رسول الله عهد قبلهم فظهر هؤلاء الذين كان بينهم وبين رسول الله عهد فقنت رسول الله
   صحيح البخاري4095أنس بن مالكدعا النبي على الذين قتلوا يعني أصحابه ببئر معونة ثلاثين صباحا حين يدعو على رعل لحيان عصية عصت الله ورسوله أنزل الله لنبيه في الذين قتلوا أصحاب بئر معونة قرآنا قرأناه حتى نسخ بعد بلغ
   صحيح البخاري4094أنس بن مالكقنت النبي بعد الركوع شهرا يدعو على رعل ذكوان عصية عصت الله ورسوله
   صحيح البخاري4091أنس بن مالكدعا النبي عليهم ثلاثين صباحا على رعل ذكوان بني لحيان عصية الذين عصوا الله ورسوله
   صحيح البخاري4090أنس بن مالكقنت شهرا يدعو في الصبح على أحياء من أحياء العرب على رعل ذكوان عصية بني لحيان
   صحيح البخاري4089أنس بن مالكقنت رسول الله شهرا بعد الركوع يدعو على أحياء من العرب
   صحيح البخاري2801أنس بن مالكدعا عليهم أربعين صباحا على رعل ذكوان بني لحيان بني عصية الذين عصوا الله ورسوله
   صحيح البخاري1003أنس بن مالكقنت النبي شهرا يدعو على رعل ذكوان
   صحيح البخاري1002أنس بن مالكقنت رسول الله بعد الركوع شهرا كان بعث قوما يقال لهم القراء زهاء سبعين رجلا إلى قوم من المشركين دون أولئك وكان بينهم وبين رسول الله عهد فقنت رسول الله شهرا يدعو عليهم
   صحيح البخاري1001أنس بن مالكأوقنت قبل الركوع قال بعد الركوع يسيرا
   صحيح البخاري4088أنس بن مالكدعا النبي عليهم شهرا في صلاة الغداة وذلك بدء القنوت وما كنا نقنت
   صحيح البخاري3064أنس بن مالكقنت شهرا يدعو على رعل ذكوان بني لحيان
   صحيح البخاري3170أنس بن مالكقنت شهرا بعد الركوع يدعو على أحياء من بني سليم بعث أربعين من القراء إلى أناس من المشركين فعرض لهم هؤلاء فقتلوهم وكان بينهم وبين النبي عهد فما رأيته وجد على أحد ما وجد عليهم
   صحيح البخاري1300أنس بن مالكقنت رسول الله شهرا حين قتل القراء فما رأيت رسول الله حزن حزنا قط أشد منه
   صحيح مسلم1547أنس بن مالكقنت رسول الله شهرا بعد الركوع في صلاة الصبح يدعو على رعل ذكوان عصية عصت الله ورسوله
   صحيح مسلم1545أنس بن مالكأنزل الله في الذين قتلوا ببئر معونة قرآنا قرأناه حتى نسخ بعد أن بلغوا قومنا أن قد لقينا ربنا فرضي عنا ورضينا عنه
   صحيح مسلم1548أنس بن مالكقنت شهرا بعد الركوع في صلاة الفجر يدعو على بني عصية
   صحيح مسلم1554أنس بن مالكقنت شهرا يدعو على أحياء من أحياء العرب ثم تركه
   صحيح مسلم1552أنس بن مالكقنت شهرا يلعن رعلا ذكوان عصية عصوا الله ورسوله
   صحيح مسلم1550أنس بن مالكما رأيت رسول الله وجد على سرية ما وجد على السبعين الذين أصيبوا يوم بئر معونة كانوا يدعون القراء فمكث شهرا يدعو على قتلتهم
   صحيح مسلم1549أنس بن مالكقنت رسول الله شهرا يدعو على أناس قتلوا أناسا من أصحابه يقال لهم القراء
   سنن أبي داود1444أنس بن مالكهل قنت رسول الله في صلاة الصبح فقال نعم بعد الركوع
   سنن أبي داود1445أنس بن مالكقنت شهرا ثم تركه
   سنن النسائى الصغرى1080أنس بن مالكقنت شهرا يدعو على حي من أحياء العرب ثم تركه
   سنن النسائى الصغرى1078أنس بن مالكقنت شهرا
   سنن النسائى الصغرى1072أنس بن مالكقنت رسول الله في صلاة الصبح قال نعم بعد الركوع
   سنن النسائى الصغرى1071أنس بن مالكيدعو على رعل ذكوان عصية عصت الله ورسوله
   سنن ابن ماجه1184أنس بن مالكقنت رسول الله بعد الركوع
   سنن ابن ماجه1243أنس بن مالكيقنت في صلاة الصبح يدعو على حي من أحياء العرب شهرا ثم ترك
   بلوغ المرام241أنس بن مالك قنت شهرا بعد الركوع يدعو على احياء من العرب ثم تركه
   مسندالحميدي1241أنس بن مالكما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد على سرية قط ما وجد على أصحاب بئر معونة حين قتلوا، وكانوا يسمون القراء

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1071  
´رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں رعل، ذکوان اور عصیہ نامی قبائل ۱؎ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی، بد دعا کرتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1071]
1071۔ اردو حاشیہ:
➊ ان کے ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دھوکا کر کے کچھ مبلغین حاصل کیے جو سب قرآن کے قاری تھے اور انہیں اپنے علاقے میں لے جاکر ان قبائل سے قتل کرا دیا۔ ایک دوسرے حادثے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ شہید کر دیے گئے۔ یہ واقعات جنگ احد کے بعد قریب ہی پیش آئے تھے۔ جنگ احد میں بھی مسلمانوں کا خاصا نقصان ہوا تھا۔ ان مسلسل جانی نقصانات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہوئے تو آپ نے قنوت نازلہ کا اہتمام فرمایا؎ (نازلہ عربی میں مصیبت کو کہتے ہیں اور قنوت وہ دعا جو کھڑے ہو کر کی جائے۔) آپ مختلف نمازوں میں آخری رکعت میں رکوع کے بعد ہاتھ اٹھا کر بلند آواز سے دعا مانگتے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم بھی شریک دعا ہوتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض مشرکین مکہ، دھوکا دینے والے قبائل اور قاتلین قراء کے نام لے کر بددعا فرماتے تھے۔ ایک مہینے تک یہ عمل جاری رہا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ مخصوص حالات میں کسی شخص یا قبیلے کا نام لے کر بددعا کرنا جائز ہے، تاہم اس سے پہلے جنگ احد کے بعد آپ نے قنوت نازلہ کا اہتمام فرمایا جس میں آپ کا سرزخمی ہو گیا تھا اور ایک رباعی دانت ٹوٹ گیا تھا، اس موقع پر آپ کو ان کی بابت قنوت سے روک دیا گیا۔ یہ دو الگ الگ واقعات اور الگ الگ قنوت ہیں۔ مختلف قبائل کا نام لے کر جو قنوت کی، وہ آیت: «لَيْسَ لَكَ مِنَ الأمْرِ شَيْءٌ» [آل عمران 128: 3] کے نزول کے بعد کا واقعہ ہے، اس لیے حسب ضرورت کسی شخص یا قبیلے کا نام لے کر قنوت نازلہ کرناجائز ہے۔ لیکن کبھی کبھار، نہ کہ ہمیشہ۔ امام حنیفہ رحمہ اللہ کسی معین شخص یا قبیلے کا نام لے کر اس کے حق میں یا اس کے خلاف دعا کرنے سے منع کرتے ہیں۔ یہ حدیث ان کے موقف کی تائید نہیں کرتی۔ امام شافعی رحمہ اللہ صبح کی نماز میں ہمیشہ قنوت کے قائل ہیں مگر یہ صحابہ میں مختلف فیہ مسئلہ رہا ہے، لہٰذا ایک آدھی روایت کی بنا پر اس پر دوام مناسب نہیں ہے، جب کہ اس کے خلاف بھی روایات موجود ہیں۔ جمہور اہل علم دوام کو غلط سمجھتے ہیں۔ صرف کسی اہم موقع پر جب کوئی خصوصی مصیبت نازل ہو، رکوع کے بعد فجر یا کسی اور نماز میں قنوت کرلی جائے۔ دلائل کو جمع کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ جب دلائل متعارض معلوم ہوں تو درمیانی راہ نکالنی چاہیے نہ کہ کسی ایک جانب کو لازم کر لیا جائے۔ باقی رہی قنوت وتر تو اس کا ذکر وتر کی بحث میں مناسب ہے۔ ان شاء اللہ وہیں آئے گا۔
➋ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نماز میں غیر قرآن الفاظ کے ساتھ دعا کرنا ممنوع قرار دیتے ہیں۔ حدیث ان کے موقف کی تردید کرتی ہے۔
➌ کفار پر لعنت بھیجنا اور ان کے خلاف بددعا کرنا جائز ہے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 1071   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1072  
´نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔`
ابن سیرین سے روایت ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! (پڑھی ہے) پھر ان سے پوچھا گیا، رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ رکوع کے بعد ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1072]
1072۔ اردو حاشیہ: یہی وہ قنوت ہے جسے امام شافعی رحمہ اللہ نے صبح کی قنوت سمجھا ہے جب کہ جمہور اہل علم اسے عارضی قنوت نازلہ سمجھتے ہیں۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 1072   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1080  
´قنوت (قنوت نازلہ) چھوڑ دینے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی، آپ عرب کے ایک قبیلے پر بد دعا کر رہے تھے، پھر آپ نے اسے ترک کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1080]
1080۔ اردو حاشیہ: ایک نہیں بلکہ کئی قبیلوں کے خلاف بددعا کرتے تھے۔ (دیکھیے، روایت: 1078)
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 1080   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1184  
´رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔`
محمد (محمد بن سیرین) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دعائے قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1184]
اردو حاشہ:
فائدہ:
یہاں حدیث میں اختصار ہے۔
اصل میں یہ وہی حدیث ہے جس میں یہ درج ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک مہینہ مسلسل پانچوں فرض نمازوں میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1184   
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 241  
´نماز کی صفت کا بیان`
«. . . وعن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قنت شهرا بعد الركوع يدعو على أحياء من العرب ثم تركه. متفق عليه. ولأحمد والدارقطني نحوه من وجه آخر وزاد: "وأما في الصبح فلم يزل يقنت حتى فارق الدنيا". . . .»
. . . سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا مہینہ رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی، پھر اسے چھوڑ دیا۔ (بخاری و مسلم) احمد اور دارقطنی وغیرہ نے ایک اور طریق سے اسے روایت کیا ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ صبح کی نماز میں دعائے قنوت تا دم زیست ہمیشہ پڑھتے رہے۔ . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 241]

لغوی تشریح:
«قَنَتَ» قنوت سے ماخوذ ہے۔ اس کے متعدد معانی ہیں۔ یہاں مراد ہے قیام کی حالت میں دوران نماز میں دعا کرنا۔ یہ دعا بعد از رکوع ہے۔
«عَليٰ أَحْيَاءٍ» «عَليٰ»، اس جگہ نقصان و ضرر کے لیے استعمال ہوا ہے، یعنی جب کسی کے لیے بدعا کی جائے تو اس موقع پر «دَعَا عَلَيْهِ» بولا جاتا ہے، یعنی فلاں نے فلاں کے لیے بدعا کی۔ اور «أَحْيَاءٍ» جمع ہے «حَيّ» کی جس کے معنی قبیلہ کے ہیں۔ اور یہ قبائل (عہد شکن) رعل، ذکوان، عصیہ اور بنولحان تھے۔ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی، اس لیے کہ آپ نے ان کی درخواست پر پروردگار کے احکام پہنچانے اور تبلیغ اسلام کے لیے ان قبائل نجد کی طرف اپنے ستر قاری اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا۔ جب یہ قافلہ مبلغین، بئر معونہ پر پہنچا۔۔۔ اور یہ کنواں یا چشمہ بنی عامر کے علاقہ اور حرہ بنی سلیم کے درمیان واقع تھا بلکہ یہ حرہ بنی سلیم کے زیادہ قریب تھا۔۔۔ تو بنوسلیم کے قبائل کے جھرمٹ میں سے عامر بن طفیل ان کی طرف نکلا۔۔۔ اور یہ قبائل رعل، ذکوان اور عصیہ تھے۔ (جہاں یہ قراء حضرات ٹھہرے ہوئے تھے) وہیں ان قبائل کے لوگوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ ان قاریوں نے بھی اپنی تلواریں نکال لیں اور مد مقابل دشمنوں سے خوب لڑے حتی کہ سب کے سب جام شہادت نوش کر گئے۔ صرف سیدنا کعب بن زید رضی اللہ عنہ زندہ بچے۔ کفار نے انہیں اس حالت میں چھوڑا تھا کہ زندگی کی رمق ابھی ان کے اندر باقی تھی مگر انہوں نے اپنے گمان کے مطابق انہیں مار دیا تھا۔ اللہ نے انہیں زندگی عطا کی اور بالآخر غزوہ خندق میں جام شہادت نوش فرمایا۔ یہ المناک اور دردناک واقعہ غزوہ احد کے چار ماہ بعد 4 ہجری ماہ صفر میں پیش آیا۔ بنولحیان کے حق میں بددعا کی وجہ یہ تھی کہ عضل و قارہ کے قبائل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسے (عالم) آدمیوں کا مطالبہ کیا تھا جو انہیں اسلام کی دعوت دے سکیں اور انہیں احکام شریعت کی تعلیم دے سکیں، چنانچہ آپ نے دس عظیم حضرات ان کی جانب بھیجے۔ جب یہ حضرات رجیع تک پہنچے۔۔۔۔۔۔ یہ جگہ رابغ اور جدہ کے درمیان واقع ہے۔۔۔۔ تو ان قبائل کے لوگوں نے ان دس آدمیوں کے ساتھ دھوکا کیا اور بنولحیان کو بھی اشارہ کیا (شہہ دی۔) یہ ہذیل کے قبائل میں سے ایک قبیلہ تھا۔ یہ سب لوگ ان کی طرف نکل کھڑے ہوئے اور ان کو گھیرے میں لے لیا، چنانچہ ان لوگوں نے دو صحابہ کرام سیدنا خبیب بن عدی اور سیدنا زید بن دثنہ رضی اللہ عنہما کو گرفتار کر لیا اور ان کے علاوہ باقی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو انہوں نے تہ تیغ کر دیا۔ اور یہ واقعہ بھی ماہ صفر میں پیش آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں المناک واقعات کی اطلاع ایک ہی شب میں ملی۔ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہایت ہی افسردہ اور غمگین ہوئے کہ پورا ایک مہینہ ان کے لیے بددعا کرتے رہے۔ اور پھر بددعا کرنا ترک کر دیا۔ اس قسم کی دعائے قنوت کو قنوت نازلہ کہا جاتا ہے۔ فرضی نماز میں اس کے علاوہ کوئی قنوت نہیں ہے۔ یہ دعائے قنوت بڑے بڑے المناک اور دردناک واقعات کے ساتھ مخصوص ہے ورنہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم دعائے قنوت نہیں پڑھتے تھے، الا یہ کہ مسلمانوں کے لیے دعا فرمائیں یا کفار میں سے بدعہد، عہد شکن قسم کے لوگوں کے لیے بد دعا کریں۔ رہا نماز فجر میں مسند أحمد اور دارقطنی کے حوالے سے قنوت کے پڑھنے کا التزام و مواظبت کا اضافہ تو یہ قابل استدلال نہیں کیونکہ یہ اضافہ سنداً ضعیف ہے، نیز قنوت نازلہ کسی نماز کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اسے تمام نمازوں میں پڑھا جا سکتا ہے۔

فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے کئی مسائل پر روشنی پڑتی ہے۔ نماز فجر میں آپ سے دعائے قنوت نازلہ ثابت ہے۔ عہد شکنی اور بدعہدی کی بنا پر مقتول صحابہ کی وجہ سے مہینہ بھر آپ بددعا کرتے رہے۔ ظاہر ہے یہ فرض نماز ہی تھی۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ رکوع کے بعد دعا فرماتے رہے۔
➋ یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام دین تبلیغ ہے۔ مبلغین کی جماعت تیار رہنی چاہئے۔ جہاں تبلیغ کی ضرورت ہو وہاں جماعتی شکل میں تبلیغ کے لیے جانا چاہیے۔
➌ نظم جماعت کی طرف بھی اس سے اشارہ ملتا ہے اور اطاعت امیر بھی اس سے ظاہر ہے۔
➍ ایک بات یہ بھی واضح ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذاتی علم غیب نہیں رکھتے تھے۔ اگر آپ کو علم غیب ہوتا تو اپنے تیار مبلغین کو قتل کے لیے کیوں بھیجتے۔ نعوذ باللہ! جان بوجھ کر تو آپ نے ایسا ہرگز نہیں کیا۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع موصول نہیں ہوئی اس وقت تک آپ کو اپنے بھیجے ہوئے مبلغین کی صورت حال کی کچھ خبر نہیں تھی۔
➎ احناف اسی حدیث کی روشنی میں بوقت ضرورت قنوت نازلہ کے قائل ہیں جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ نماز فجر میں ہمیشہ دعائے قنوت پڑھنے کے قائل ہیں اور اسے مسنون قرار دیتے ہیں۔
➏ قنوت نازلہ کا طریقہ یہ ہے کہ امام رکوع کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعائے قنوت نازلہ پڑھے اور مقتدی آمین کہیں۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 241